اسرائیل میں ریکارڈ ووٹنگ، نیتن یاہو کی پریشانی بڑھ گئی

14

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ابتدائی گھنٹوں کے دوران ریکارڈ ووٹنگ نے سیاسی مقابلہ دلچسپ بنا دیا جبکہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے حامیوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے پہلے سات گھنٹوں میں 44.9 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جو ووٹنگ کی شرح کا نیا ریکارڈ ہے۔

بعد ازاں مجموعی ٹرن آؤٹ 74 فیصد تک پہنچ گیا۔ کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے 73 لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق ووٹرز کی غیر معمولی شرکت کے انتخابی نتائج پر اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔

تاہم فلسطینی النسل اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ان کے مخالفین کو حکومت بنانے کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ووٹنگ کے دوران نیتن یاہو نے اپنے حامیوں کو پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کے مخالفین اور عرب اسرائیلی شہریوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ ہے۔

نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ عرب، اسرائیلی ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ یہ فیصلہ کن لمحہ ہے۔ میرے حامی ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے حامیوں کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کے لیے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی لیکن الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کر دیا۔

سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت یشار نے بھی اس مطالبے کی مخالفت کی تھی۔ پولنگ اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے ختم ہونا تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }