مریخ کی 4 ارب برس قدیم چٹان زمین پر دریافت

3

سائنس دانوں نے زمین پر مریخ کی قدیم ترین چٹانوں میں سے ایک دریافت کر لی ہے۔ چٹان کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 4 ارب 10 کروڑ سال قبل پانی نے مریخ کی بیرونی سطح کو متاثر کیا تھا۔

گلابی مائل رنگ کے اس نایاب شہابی پتھر کو ٹیغزا 001 کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق اس کی کیمیائی ساخت مریخ سے پہلے دریافت ہونے والے دیگر شہابی پتھروں سے مختلف اور منفرد ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ سیاروی سائنس دان یانگ لیو (جو اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ بھی ہیں) کے مطابق یہ انتہائی نایاب اور قدیم شہابی پتھر مریخ کی ابتدائی بیرونی پرت اور اندرونی ساخت کا مطالعہ کرنے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چٹان اس دور کی ہے جب زمین پر زندگی کی ابتدا ہو رہی تھی جبکہ اس کے تجزیے سے مریخ کے ابتدائی جغرافیائی حالات کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ شہابی پتھر مریخ کے اندرونی حصے یعنی مینٹل سے نکلنے والے پگھلے ہوئے مادے (میگما) سے تشکیل پایا تھا جو ٹھنڈا ہونے کے بعد سیارے کی بیرونی پرت کا حصہ بن گیا۔

تحقیق کے مطابق اس نمونے کی کیمیائی ساخت ظاہر کرتی ہے کہ یہ مریخ کے ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جس کی چٹانوں کا اس سے پہلے مطالعہ نہیں کیا گیا تھا۔

یہ تحقیق 29 اکتوبر کو جرنل سائنس میں شائع ہوئی۔ تحقیق کو مریخ کی ابتدائی تاریخ، اس کی ارضیاتی ساخت اور ماضی میں پانی کی موجودگی کو سمجھنے کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }