اسرائیل کی داخلی سیاست – ایکسپریس اردو

2

اسرائیل کی اندرونی سیاست حد درجہ پیچیدہ اورمتحرک ہے۔ بادی النظر میںجو فریق طاقتور نظر آتے ہیں اور دنیا ان سے گھبراتی ہے ، اس قوت کا اصل سرچشمہ وہ اتحادی ہیں جو ایک فکری نظریہ پر یکسو نظر آتے ہیں۔ یہ امر تو طے ہے کہ اسرائیل میں 2026ء کے چناؤ میں کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے حلیف عددی برتری حاصل نہیں کر سکے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ الیکشن نے پورے اسرائیل کو ایک ایسے سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے ، جس کا وقتی نتیجہ کافی مشکل ہو سکتا ہے۔

اس ملک کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے لوگ‘ ہمارے نظام میں کافی محدود ہیں۔ لے دے کر‘ ہماری فکر امریکا‘ ہندوستان‘ چین اور مشرق وسطیٰ تک محدود ہے۔ طالب علم کی نظر میں اسرائیل ‘ دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں آتا ہے۔ یہ واحد ریاست ہے ‘ جس سے امریکی صدر بھی کنی کتراتا ہے۔ اور اس کی ہر بات پر لبیک کہنا‘ اپنی ذمے داری سمجھتا ہے۔ ہمیں یہ شعور ہونا چاہیے کہ اسرائیل کا سیاسی نظام‘ دنیا کے شفاف ترین سطح کا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اندر تو وہ امریکا پر بھی حاوی ہے۔مگر میرا آج کا یہ موضوع نہیں ہے ۔ہمارے اس ملک سے کوئی تعلقات نہیں ہیں‘ اس سے اسرائیل کے اندرونی معاملات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سیاسی سطح پر اس ملک کا نظام متناسب نمائندگی پر مبنی ہے۔ یعنی جتنے فیصد لوگوںنے ووٹ دیے ہوں گے، اسی تناسب سے پارلیمنٹ میں مخصوص سیاسی جماعت کو نشستیںمل جائیں گی۔ اس اصول پر حد درجہ سنجیدگی اور پختگی سے عمل کیا جاتا ہے۔ آپ کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنی ہو گی کہ اسرائیل کے سیاسی ادارے اتنے توانا ہیں کہ حالیہ الیکشن کے مشکل ترین نتائج کے باوجود ‘ کسی ایک فریق نے بھی الیکشن کمیشن کی شفافیت پر کسی قسم کی نکتہ چینی نہیں کی۔ نیتن یاہو‘ جو ابھی تک وزیراعظم کے عہدے پر قائم ہے، اس نے الیکشن کمیشن کے بارے میں معمولی سی بات کی تھی۔

جواب میں اس ادارے نے تین ہزار پولنگ اسٹیشن کی سروے رپورٹس پیش کر دیں۔ ثابت کیا کہ 2026ء کا الیکشن مکمل طور پر قانون ‘ سیاسی اصولوں اور شفافیت کے تمام اقدار پر پورا اترتا ہے۔ موجودہ وزیراعظم کو نہ صرف اپنے بیان سے منحرف ہونا پڑا۔ بلکہ اس پر اتنی تنقید ہوئی کہ عزت بچانی مشکل ہو گئی۔ پوری اسلامی دنیا بشمول پاکستان‘ کے پاس عام انتخابات کرانے کا غیر متنازعہ ادارہ موجود نہیں ہے۔ نفرت کی بنیاد پر نہیں‘ دلیل کی بنیاد پر بات کیجیے۔

کیا ہماری سرکاری مشینری اس ساکھ کی مالک ہے‘ کہ لوگوں کو اس کے فیصلوں پر یقین ہو۔ یقینا نہیں ہے۔ اس حقیقت کو ضرور دیکھیے‘ کہ ہم سارا دن رات‘ اسرائیل کے خلاف‘ بات کرتے رہتے ہیں۔ کئی معاملات میں تنقید درست ہوتی ہے۔ مگر ہم‘ تقریباً سات آٹھ دہائیوں میں ایک بھی ایسا الیکشن نہیں کراسکے جس پر دھاندلی کا الزام نہ ہو، اس سوال کا جواب ذرا سوچ کر دیجیے گا۔ جذباتیت سے ہرگز ہرگز نہیں۔ خیر‘ اس بحث کو چھوڑیے۔ ہم جس ابتری کا شکار ہیں۔ اسی بے ترتیبی سے اگلے سو سال بھی چلتے رہیں گے۔

اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں سیاسی جماعتوں کی ترتیب اور ان کی ہیئت پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ پہلی عرض تو یہ ہے کہ وہاں کوئی ایک سیاسی جماعت کامیاب یا ناکام نہیں ہوئی۔ ہر ایک کے ساتھ ‘ الحاق کیے ہوئے‘ چھوٹے یا بڑے‘ سیاسی دھڑے ہیں ، ان کی سیاسی سوچ بھی ایک جیسی نہیں ہے۔ سب سے پہلے نیتن یاہو کی جماعت اور اتحادیوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ نیتن یاہو ‘ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت کا لیڈر ہے۔ جس کو Likud پارٹی کہا جاتا ہے۔ یہ مذہبی شدت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں۔

لیکڈ پارٹی کا قائد نیتن یاہو ہے جو صیہونی لابی کا نمایندہ ہے۔ہماری اکثریت یہودیت اور زانزم کے فرق کو نہیں سمجھتی ۔صرف مثال کے لیے عرض کروں گا کہ زانزم یہودیوں کے لیے بالکل اسی طرح کی فکر ہے جیسے طالبان۔ عام آدمی کا ان دونوں سے کوئی تعلق نہیں۔لیکڈ کے پاس صرف 26نشستیں ہیں۔مگر یہ نشستیں اس کے سیاسی مخالف کی جماعت Yasharسے پھر بھی زیادہ ہیں۔ جن کی تعداد صرف اکیس ہے۔ یعنی اگر حلیفوںکے بغیر دیکھا جائے تو نیتن یاہو‘ آج بھی اپنے مرکزی سیاسی مخالف پر بھاری ہے۔ مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ یاہو کے اتحادیوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

Shasایک انتہا پسندیہودی جماعت ہے جس کا لیڈر Aryeh Deriہے۔ شاز کے پاس 7نشستیں ہیں۔ اب ذرا united Torah judaism کی طرف آیئے۔ اس کے پاس بھی سات نشستیں ہیں۔ ان کا قائدkov asher Ya,a کی طرف آیئے جو ایک حد درجہ انتہاپسند یہودی ہے۔ اشعر کے نزدیک مسلمانوں کے وجود کو دنیا سے ختم کر دینا چاہیے۔ غزہ کی بربادی میں اس جنونی شخص کا بہت بڑا حصہ تھا۔ Otzma Yehudit مکمل طور پرایک نیشنلسٹ پارٹی ہے۔ یہ اسرائیل کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کا قائد ‘ موجودہ‘ سیکیورٹی وزیر‘ جو غزہ کے لیے قصاب ہے۔ Itamar Ben Gvir ہے۔ اتحاد کی آخری جماعت‘ Religious Zionism ہے۔ جس کے پاس 6سیٹیں ہیں۔ اس کا پیشوا Bezalel smotrich ہے جو وزیر خزانہ بھی ہے۔ نیتن یاہو اور اتحادیوں کے پاس کل 53نشستیں ہیں۔ جو تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہوا۔ سطحی تجزیہ کی بابت عرض نہیں کر رہا۔آج بھی نیتن یاہو‘ اپنے ملک کی سب سے طاقتور سیاسی حقیقت ہے۔

Eisenkotجو مرکزی اپوزیشن لیڈر ہے۔ اس کی سیاسی ساکھ اور حیثیت کی بابت کھل کر ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس کی جماعت کا نام Yasharہے۔ اور اس کے پاس صرف 21 سیٹیں ہیں۔آزنکوٹ کے متعلق یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اسرائیلی فوج میں دہائیوں کام کرتا رہا ہے۔ اور فلسطینیوں کے متعلق اس کے معاملات بہت زیادہ منفی ہیں۔ 2019ء میں ریٹائر ہو نے والا جنرل آزنکوٹ‘ امریکا کے ساتھ بہت نزدیکی تعلقات رکھتا ہے۔ 2016ء میں اسے امریکی افواج کی بھرپور معاونت کرنے پر ‘Commander of the Legion of Merit کا اعزاز بھی دیا گیا ہے۔ مسلمانوں اور فلسطینیوں کے متعلق اس کے اور نیتن یاہو کے پرتشدد خیالات بالکل ایک جیسے ہیں۔ یاثر پارٹی کی اتحادی‘ B,yachad جماعت کے پاس بارہ سیٹیں ہیں۔

اس کا قائد‘ سابقہ اسرائیلی وزیراعظم Naftali Bennett ہے۔ نفتالی ‘ آج بھی اسرائیل کی سیاست میں ایک مضبوط نام ہے۔ تیسری جماعت The Democrats ہیں۔ جو آٹھ سیٹوں کے مالک ہیں۔ اور اس کا سیاسی رہنما‘ ڈپٹی آرمی چیف Yair Golan ہے۔ سات نشستوں کے ساتھ ‘ سابقہ وزیردفاع Avigdor Beiteinu کی جماعت Yisrael Beitenu ہے۔ جو ایک سیکولر جماعت ہے۔اور مذہب کی بنیاد پر تشدد کے خلاف ہے۔ فلسطین کے متعلق بھی اس جماعت کے نظریات‘ سخت گیر لوگوں سے قدرے نرم ہیں۔ اس اتحاد کے پاس کل 48نشستیں ہیں۔ یعنی نیتن یاہو‘ 53سیٹوں کا مالک ہے اور جنرل آنزنکوٹ 48نشستوں پر حاوی ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں قائدین حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس پارلیمنٹ میں عددی برتری موجود نہیں ہے۔

اس مقام پر عرب پارٹیوں کی اہمیت حد درجہ بڑھ جاتی ہے۔ جن کے پاس19 سیٹیں ہیں۔ یہ وہ نازک معاملہ ہے‘ جس کا ادراک الیکشن سے پہلے کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ان سیاسی جماعتوں میں دو دھڑے ہیں۔ جو اپنے اپنے وجود میں بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ Joint Listجماعت کی جیب میں بارہ سیٹیں ہیں۔ اس کا رہنما Yousuf Jabereen ہے۔ اور اس جماعت میں عرب نیشنلسٹ اور کمیونسٹ دونوں شامل ہیں۔ اب ذرا‘ اگلی جماعت کی طرف دیکھیے۔ جس میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ اس کا نام Ra`amہے۔ اور اس کی جیب میں سات کنجیاں ہیں۔ اس کا قائد منصور عباس ہے۔ اب آپ کو تفصیل سے اسرائیل کی سیاست کو پرکھنا ہو گا۔ جس بھی جماعت کی طرف عرب پارٹیاں جائیں گی۔ وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ مگر یہ معاملہ بالکل سادہ نہیں ہے۔ نیتن یاہو‘ جنرل آئزنکوٹ اور عرب جماعتوں کے اندر واضع فکری خلیج موجود ہے۔

یہ ماضی میں ایک دوسرے پر غداری کے سنگین الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔ ان کا زیادہ مدت کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا قدرے مشکل معلوم پڑتا ہے۔ مگر یہ بات تو صاف نظر آ رہی ہے کہ عرب پارٹیاں ‘ اپنی اپنی سیٹوں کے ساتھ جنرل آئزنکوٹ کی طرف جائیں گی۔ بلکہ عملی طور پر اس کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔اسرائیلی صدر نے جنرل آئزنکوٹ اور عرب اتحادیوں کو حکومت بنانے کی سرکاری دعوت بھی دے ڈالی ہے۔ نیتن یاہو‘ وقتی طور پر تو وزیراعظم کے عہدے سے دور جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مگر مجھے یہ لگتا ہے کہ اسے زیادہ دیر تک محدود رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ نتائج تو آپ کے سامنے رکھ دیئے ۔ مگرکیا ہمارے جیسے ملک کی سیاست کو دیکھ کر یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا دھڑے نے ہارس ٹریڈنگ جیسے نظریہ کا نام تک نہیں لیا۔ ہم‘ اسرائیل کی لاکھ مخالفت کریں۔ یہ تو ماننا پڑے گا کہ ان کی جمہوری اقدار حد درجہ شفاف ہیں۔ ہاں! جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے۔ اس میں‘ ان کے کسی بھی سیاسی رہنما میں قطعاً کسی قسم کا کوئی فرق نہیں! 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }