یورپی یونین کی روس پر نئی پابندیاں، یوکرین کے لیے 9 ارب یورو کی امداد

117

یورپی یونین نے روس پر معاشی پابندیوں کو وسعت دیتے ہوئے اس کے 90 فیصد خام تیل کی درآمدات پر پابندی لگانے کی تیاری کر لی ہے جبکہ روس کے اہم بینک کوسوئفٹ فنانشل سسٹم سے بھی نکالا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک کے برسلز میں جاری اجلاس کے دوران ہنگری کے ساتھ سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن کے ذریعے یورپ پہنچنے والے روسی خام تیل پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

27 ممالک پر مشتمل یورپی بلاک کئی ہفتوں سے روسی خام تیل پر مکمل طور پر پابندی لگانے کے لیے بات چیت کر رہا تھا تاہم ہنگری کے وزیراعظم وکٹر آربن مسلسل اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ روسی خام تیل پر مکمل پابندی سے ہنگری کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

معاہدے کے بعد یورپین کونسل کے چیف چارلس مچل نے اس حوالے سے اجلاس کے دوران ٹویٹ کیا کہ یورپی یونین کی جانب سے فوری طور پر پابندی کے نئے معاہدے کا روس کی دو تہائی خام تیل درآمدات پر اطلاق ہو گا تاکہ روس پر جنگ کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے۔

Advertisement

رپورٹ کے مطابق رکن ممالک کے نمائندوں کے اتفاق سے منظور ہونے والی چھ نئی پابندیوں پر مشتمل پیکج میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ روس کے سیبر بینک کو سوئفٹ فنانشل میسجنگ سسٹم سے نکال دیا جائے۔

سیبر بینک کا روسی معیشت میں اہم کردار رہا ہے اور یہ روسی حکومت کو مالی معاملات چلانے کے لیے قرض بھی دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے روس کا مالیاتی نظام کمزور ہو جائے گا۔

اجلاس میں رکن ممالک کی جانب سے اتفاق کے بعد یورپی یونین چیف چارلس مچل نے یہ اعلان بھی کیا کہ معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے جنگ زدہ یوکرین کو نو ارب یورو کی مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }