اقوام متحدہ دفتر انسانی حقوق

100
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی جانب سے کہا گیا ہے کہ زبردستی منتقلی اور جبری نقل مکانی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ سے شہریوں کے انخلاء کا حکم شہریوں کی زبردستی منتقلی کے جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان کے مطابق جبری نقل مکانی پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے سزائیں دی جاتی ہیں۔

ترجمان یو این انسانی حقوق دفتر نے کہا ہے کہ غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے حکم کو قانونی عارضی انخلاء کے طور پر نہیں سمجھا جائے گا، غزہ میں شہریوں کے انخلاء کا حکم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کی زبردستی منتقلی کے مترادف ہو گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہر کوئی غزہ میں زمینی آپریشن کی بات کر رہا ہے، یہ کچھ الگ بھی ہو سکتا ہے۔

ترجمان اسرائیلی فوج کے مطابق اس مرحلے پر غزہ میں انسانی بنیادوں پر کوئی سیز فائر نہیں ہوا، یرغمالیوں سے متعلق حماس کی ویڈیو نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }