اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل

12

امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ یورپ میں تعینات اعلیٰ امریکی جنرل نے فوج کو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک اور جنگی بحری جہاز فراہم نہیں کیا گیا تو وہ اسرائیل کے دفاع کے بجائے امریکا کے دفاع کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں تعینات امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل الیکسس گرنگیوچ نے رواں ہفتے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے ان کے پاس موجود بحریہ کے جنگی جہاز کافی نہیں ہیں اور امریکی حکام کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

حکام کے مطابق امریکی یورپی کمان کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے کہ اگر انہیں بحریہ کا ایک اور جنگی بحری جہاز (ڈسٹرائر) فراہم نہیں کیا گیا تو وہ اسرائیل کے دفاع کے بجائے امریکی دفاع کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ جنرل گرنکیوچ کا یہ پیغام ماضی کے ان مواقع سے مطابقت رکھتا ہے، جب امریکی فوج کے اعلیٰ جنرلز کسی ممکنہ خطرے کے بارے میں پینٹاگون کو آگاہ کرتے تھے تاکہ واشنگٹن میں موجود حکام اس طرف غور کر سکیں۔

اہلکار کے مطابق یہ صورت حال اس وقت درپیش ہوتی ہے جب مختلف کمانڈرز محدود فوجی وسائل اور ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی جنرل کی یہ تنبیہ ایران کے ساتھ گزشتہ 5 ماہ سے جاری تنازع کے ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث امریکا کے اہم دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی کا حکم دیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحریہ کے جنگی بحری جہاز (ڈسٹرائر) کئی برسوں سے اسرائیل کے دفاع کا حصہ رہے ہیں، جدید ریڈار نظام اور مختلف اقسام کے میزائلوں سے لیس یہ جنگی جہاز نہ صرف ایران بلکہ ایران کی حمایت یافتہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے متعدد میزائل بھی مار گرانے میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی یورپی کمان بحیرہ روم میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی اور ہم آہنگی کی ذمہ دار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نیٹو اتحاد کے زیر علاقوں میں روس کی کسی بھی ممکنہ مداخلت کے حوالے سے بھی ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق امریکی بحریہ کے پانچ ڈسٹرائر اسپین کے شہر روٹا میں واقع امریکی بحری اڈے سے تعینات کیے جاتے ہیں، جبکہ رواں سال کے آخر تک چھٹا ڈسٹرائر بھی وہاں پہنچنے کا امکان ہے تاہم حکام نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث بحری جہازوں کی مسلسل کارروائیوں نے مرمت اور دیکھ بھال کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے جنرل الیکسس گرنکیوچ کے لیے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

امریکی اہلکار کے مطابق گزشتہ روز بحیرہ روم میں امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر یو ایس ایس پال اِگنیشس اور یو ایس ایس روزویلٹ موجود تھے اور اسپین کے شہر روٹا میں یو ایس ایس آرلے برک، یو ایس ایس بلکلی اور یو ایس ایس آسکر آسٹن تعینات تھے۔

ایک اور امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایران کے قریب بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کے اضافی جنگی جہازوں کا ایک بڑا بیڑا بھی موجود ہے، جس میں دو طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس ابراہم لنکن کے علاوہ کم از کم 15 دیگر جنگی جہاز شامل ہیں، جن میں سے 11 ڈسٹرائر ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بحری بیڑا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی کے منصوبے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، اس کے علاوہ یہ بیڑا آپریشن پروجیکٹ فریڈم کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت امریکی فوج متنازع آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تجارتی اور دیگر بحری جہازوں کے تحفظ میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔

اسی طرح ایک اور امریکی ڈسٹرائر یو ایس ایس گونزالیز بحیرہ احمر میں تعینات ہے، جہاں یمن کے حوثیوں نے امریکا اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ناکا بندی کی کوشش ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی عوام میں تیزی سے غیرمقبول ہوتی جا رہی ہے اور ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کانگریس کے اراکین بھی انتظامیہ سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام اب تک ایسا واضح منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے ذریعے امریکا کے لیے قابل قبول شرائط پر اس تنازع کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }