ایران-امریکا جنگ؛ خلیجی اتحادی ٹرمپ سے مایوس، امریکی بیسز کی موجودگی پر سوالات اٹھانا شروع

14

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ طویل ہونے اور سفارتی حل نکالنے میں ناکامی پر خلیج کے اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوس ہوگئے ہیں اور بے چینی میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ بعض ممالک نے امریکی فوجی بیسز کی میزبانی جاری رکھنے کے حوالے سے سوالات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں امریکا کے ساتھ بے چینی اور ناراضی بڑھ رہی ہے کیونکہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری طویل جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلیجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنگ ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی اور اس کی قیمت ہم ادا کر رہے ہیں، فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد امریکا کے خلاف غصہ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

اخبار نے رپورٹ کیا کہ کئی ماہ سے جاری تنازع اور ایران اور اس کے حامی گروپس کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے تسلسل کے باعث سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے اور بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر وسیع پیمانے پر امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی جاری رکھنے کے فوائد پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خطے میں موجود ایک مغربی سفارت کار نے خبردار کیا کہ اس پیش رفت کو امریکا کے حوالے سے رائے میں بڑی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا، ایران کے ساتھ جنگ سے قبل بھی امریکی افواج کا خطے میں پرجوش خیرمقدم نہیں کیا جاتا تھا۔

انہوں نے خطے میں امریکی بیسز کے حوالے سے کہا کہ یہ ایسی چیز تھی جسے ناگزیر برائی سمجھ کر برداشت کیا جا رہا تھا اب اس کی ضرورت ہی پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں نشان دہی کی گئی کہ خلیجی ممالک میں یہ بے چینی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ ایران کے خلاف مزید کارروائی کی بارہا دھمکیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے تمام خلیجی شراکت داروں کے ساتھ غیر معمولی تعلقات ہیں اور تنازع شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن اپنے علاقائی اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔

خلیجی ممالک کی تشویش کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ عہدیداروں کا خیال ہے کہ جنگ واضح نتیجے کے بغیر طول پکڑنے کی وجہ ہی خدشات میں اضافہ ہوتا گیا اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود خلیجی ممالک سیکیورٹی کے لیے اب بھی واشنگٹن پر انحصار کرتے ہیں، جس میں فوجی سازوسامان، گولہ بارود اور انٹیلی جنس کی فراہمی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }