دنیا کی سیاست میں کبھی ایک نقشے کی لکیر پورے عالمی نظام کی بے چینی بن جاتی ہے اور کبھی ایک جملہ سمندروں سے گزر کر منڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا عندیہ اسی نوعیت کا بیان ہے۔
یہ محض تہران کے خلاف ایک سیاسی دھمکی نہیں بلکہ اس تصور کو چیلنج کرنے کی کوشش بھی ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی طاقتور ریاست کی مرضی سے ملکیت میں تبدیل کی جاسکتی ہیں۔ ہرمز دنیا کے نقشے پر ایک مختصر سا سمندری راستہ ضرور ہے، مگر عالمی معیشت کے لیے اس کی اہمیت کسی وسیع شاہراہ سے کم نہیں۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کا اثر صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہتا، اس کی لہریں تیل کی قیمتوں، بحری تجارت، افراط زر، سرمایہ کاری اور ان ممالک کی معیشتوں تک پہنچتی ہیں جو شاید اس تنازع میں فریق بھی نہ ہوں۔
ٹرمپ کا ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا بیان اسی لیے معمولی سیاسی جملہ نہیں، اگر اسے محض مذاق قرار دیا جاتا ہے تو بھی سوال باقی رہتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقتور ترین ریاست کے سربراہ کے الفاظ کو دنیا کس طرح سمجھے۔ ریاستی سربراہوں کی گفتگو بازاروں اور سفارتی دارالحکومتوں میں اشارے کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ ایک دن دھمکی اور دوسرے دن وضاحت، ایک مرحلے پر جنگی مقصد اور دوسرے مرحلے پر مذاکرات کی بات، اتحادیوں کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے بجائے ان میں غیر یقینی پیدا کرتی ہے۔ خارجہ پالیسی میں حکمت عملی کا کچھ حصہ ابہام سے ضرور چلتا ہے، لیکن مسلسل غیر یقینی بالآخر شراکت داروں کو اپنی متبادل راہیں تلاش کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔
واشنگٹن اب ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے ساتھ غیر معمولی معاشی پابندیوں کی تیاری کررہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تہران کے مالیاتی نظام، تیل کی آمدنی اور بین الاقوامی تجارت پر مزید شکنجہ کسنے کی کوشش کی جائے گی۔ امریکی حکمت عملی بظاہر یہ ہے کہ ایران کو اتنی معاشی قیمت ادا کرنا پڑے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے بجائے ہرمز کے معاملے میں پسپائی اختیار کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ مگر معاشی جنگ کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے نتائج ہمیشہ قابو میں نہیں رہتے۔ پابندیوں کا دباؤ حکومتوں کو مذاکرات پر آمادہ بھی کرسکتا ہے، لیکن بعض حالات میں وہ قومی مزاحمت، داخلی سخت گیری اور مخالف قوتوں کے لیے عوامی حمایت میں بھی اضافہ کردیتا ہے۔
ایران بھی اپنے پتے کو معمولی نہیں سمجھتا۔ تہران کا خیال ہے کہ اگر ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو بالآخر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر بھی معاشی دباؤ بڑھے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں ملک ایک ایسے معاشی مقابلے میں داخل ہوگئے ہیں جس میں کامیابی کا انحصار صرف وسائل پر نہیں بلکہ برداشت کی صلاحیت پر ہے۔ امریکا کے پاس وسیع مالیاتی طاقت، عالمی بینکاری نظام پر اثر اور پابندیوں کا تجربہ ہے، مگر ایران کے پاس جغرافیہ، توانائی اور علاقائی اثرورسوخ کے ایسے وسائل ہیں جنھیں مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ کون طاقتور ہے کے بجائے کون زیادہ دیر تک قیمت ادا کرسکتا ہے۔ ایران کو پابندیوں، تیل کی آمدنی میں ممکنہ کمی، تجارتی رکاوٹوں اور داخلی معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا کو دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں اضافے، عالمی افراطِ زر، جنگی اخراجات، اپنے اتحادیوں کی بے چینی اور ایک طویل بحران کے سیاسی نتائج کا حساب رکھنا ہوگا، اگر واشنگٹن ہرمز کھلوانے کو جنگ کا بنیادی مقصد بناتا ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہرمز میں کسی بڑی رکاوٹ کے نتیجے میں تیل مہنگا ہونے سے خود امریکی صارف اور عالمی معیشت کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے۔ ایران کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنا ہوگی کہ آبنائے کی طویل بندش اس کے خلاف عالمی ردعمل کو شدید کرسکتی ہے۔
خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی تشویش اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کا اہم اشارہ ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین برسوں سے امریکا کو اہم سیکیورٹی شراکت دار سمجھتے آئے ہیں، مگر ان ریاستوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تصادم کی صورت میں جنگ کا پہلا دباؤ ان کے جغرافیے پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، توانائی کے مراکز اور امریکی فوجی تنصیبات انھیں محض تماشائی نہیں رہنے دیں گی، اگر کسی ریاست کو یہ احساس ہونے لگے کہ وہ اپنے دفاع کے نام پر کسی دوسرے ملک کی غیر یقینی حکمت عملی کا ممکنہ میدان جنگ بن رہی ہے تو اس کی خارجہ پالیسی میں تنوع پیدا ہونا فطری ہے،یہی وجہ ہے کہ خلیجی دارالحکومتوں میں امریکی فوجی اڈوں کی افادیت اور مستقبل کی شراکت داریوں پر غور کی اطلاعات کو محض وقتی ناراضی نہیں سمجھنا چاہیے۔
مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن پہلے ہی تبدیل ہورہا ہے۔ علاقائی ریاستیں اب صرف ایک عالمی طاقت پر انحصار کے بجائے متعدد ملکوں سے تعلقات رکھنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ کسی ایک دارالحکومت کی پالیسی میں اچانک تبدیلی ان کے قومی مفادات کو مفلوج نہ کردے۔ اگر امریکا اپنے دیرینہ اتحادیوں کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہتا ہے کہ اس کی پالیسی قابلِ پیش گوئی ہے تو اس کے فوجی اثرورسوخ کے باوجود اس کی سیاسی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر تاحال فیصلہ نہ ہونا بھی اسی کشمکش کی علامت ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن اسے مذاکرات نہیں کہا جاسکتا۔ اس وضاحت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ثالثی میں پہلا قدم ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ مخالف فریقوں کے درمیان رابطے کا دروازہ کھلا رہے، چاہے براہ راست مذاکرات فوری طور پر ممکن نہ ہوں۔ پاکستان اور قطر کا کردار اس لیے اہم ہے کہ دونوں ملک ایران، امریکا اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ ایسے تعلقات رکھتے ہیں جو انھیں پیغام رسانی اور اعتماد سازی کے لیے نسبتاً موزوں بناتے ہیں۔
تاہم سفارت کاری کے راستے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے عوام کے سامنے کمزور دکھائی نہیں دینا چاہتے۔ امریکا اگر پابندیاں کم کرتا ہے تو اسے داخلی سیاسی سطح پر سوالات کا سامنا ہوسکتا ہے، جب کہ ایران اگر دباؤ کے باوجود امریکی مطالبات مانتا ہے تو اسے اپنی مزاحمتی پالیسی کی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ کامیاب مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب دونوں ملک ایسے سمجھوتے پر پہنچیں جسے شکست نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کی صورت میں پیش کیا جاسکے۔ سفارت کاری کا ہنر یہی ہے کہ مخالف کو دیوار سے لگانے کے بجائے اس کے لیے واپسی کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔
پاکستان کے لیے یہ بحران محض خارجی خبر نہیں۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، خلیجی ممالک اس کے اہم معاشی شراکت دار ہیں اور عالمی توانائی کی قیمتیں براہ راست پاکستانی معیشت کو متاثر کرتی ہیں۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب درآمدی بل میں اضافہ، روپے پر دباؤ، مہنگائی میں شدت اور پہلے سے مشکلات کا شکار عوام پر مزید بوجھ ہے۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے متوازن سفارت کاری کسی نظریاتی انتخاب سے زیادہ قومی مفاد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو کسی ایک فریق کے کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے اور علاقائی سلامتی کے لیے قابلِ قبول کردار ادا کرنا چاہیے۔
بالآخر ہرمز کا بحران طاقت کے اس تصور پر سوال اٹھاتا ہے جس میں ہر مسئلے کا حل عسکری دباؤ میں تلاش کیا جاتا ہے۔ آبنائے پر قبضے کی زبان، پابندیوں کی شدت، بحری بیڑوں کی تعیناتی اور سخت بیانات شاید وقتی طور پر سیاسی قوت کا تاثر پیدا کریں، مگر کوئی بھی حربہ اس وقت تک پائیدار کامیابی نہیں دے سکتا جب تک مخالف فریق کے لیے باوقار واپسی کا راستہ موجود نہ ہو۔ ایران اور امریکا دونوں کے پاس جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت ہے، لیکن کسی کے پاس اس جنگ کے تمام نتائج پر مکمل اختیار نہیں۔دنیا کو اس وقت ایک ایسے سمجھوتے کی ضرورت ہے جو کسی فریق کی فتح یا شکست سے زیادہ عالمی تجارت اور علاقائی امن کو محفوظ بنائے۔ ہرمز کو طاقت کی ملکیت بنانے کے بجائے بین الاقوامی سلامتی اور آزاد آمدورفت کے اصولوں کے تحت محفوظ کیا جانا چاہیے۔
ایران کو بھی مزاحمت کی طاقت کو سفارتی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا اور امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر معاشی یا عسکری دباؤ لازماً سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہ نہیں کہ کون زیادہ سخت دھمکی دیتا ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ کون طاقت رکھنے کے باوجود سمجھوتے کی ضرورت کو پہلے تسلیم کرتا ہے، اگر یہ شعور بروقت پیدا نہ ہوا تو ہرمز کا تنگ سا راستہ عالمی معیشت کے لیے ایک ایسا بھنور بن سکتا ہے جس سے نکلنے کی قیمت صرف ایران اور امریکا نہیں، پوری دنیا ادا کرے گی۔