چین میں ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز؛ روبوٹس فٹبال اور فائٹنگ کے ساتھ ساتھ صنعتی کام انجام دیں گے

13

چین کے شہر بیجنگ میں 22 سے 26 اگست تک ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں روبوٹس کو دوڑ، فٹبال اور فائٹنگ کے ساتھ ساتھ پیکنگ، گوداموں کے کام، سامان منتقل کرنے، دفتری خدمات، الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ اور کیبلز جوڑنے جیسے عملی کام بھی انجام دینا ہوں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی کام روبوٹس کی اصل صلاحیت جانچیں گے کہ وہ غیر مانوس اشیا کی شناخت، بار بار کام کی انجام دہی، غلطیوں سے خود نمٹنے اور انجینئر کی مدد کے بغیر کام مکمل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چین اس وقت عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور آئی ڈی سی کے مطابق دنیا بھر میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی شپمنٹس میں چین کا حصہ 82 فیصد ہے۔

چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے شاندار کرتب دکھانے کے بعد اب اصل امتحان شروع ہوگیا ہے کہ یہ روبوٹس حقیقی صنعتی کام کرکے معاشی فائدہ بھی دے سکتے ہیں یا نہیں۔

بیجنگ میں ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں 300 سے زائد کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں جہاں 2 ہزار سے زیادہ نمائشیں اور 150 سے زائد نئی مصنوعات پیش کی جائیں گی۔

گزشتہ دو برس کے دوران چینی کمپنیوں کے روبوٹس نے بریک ڈانس، باکسنگ اور میراتھن جیسے مظاہروں سے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی، تاہم اب صارفین اور سرمایہ کار روبوٹس کو ان کی رفتار یا کرتب کے بجائے کام کی صلاحیت، انسانی نگرانی کی ضرورت اور لاگت کے مقابلے میں حاصل ہونے والے منافع سے جانچ رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }