شام کے وزیرخارجہ کا 19 سال بعد پاکستان کا دورہ، سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا اعادہ

17

شام کے وزیر خارجہ نے 19 سال کے طویل عرصے بعد پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دورے کو دو طرفہ تزویراتی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔

شامی خبررساں ادارے سیریا عرب نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ شام کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا جو دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے اور دونوں ممالک علاقائی اورعالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام کے وزیرخارجہ اسعد حسن الشیبانی کا 19 سال بعد پاکستان کا اہم اور پہلا دورہ مکمل ہوگیا، اس دوران دمشق اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ شامی وزیر خارجہ گزشتہ بدھ کو اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، جس سے دوطرفہ تزویراتی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا، پاکستان نے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقبوضہ جولان کے معاملے پر شام کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

نیوز ایجنسی نے بتایا کہ پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں اور انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے علاقائی کردار کی تعریف کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور شام کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط بڑھانے کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی پر تبادلہ خیال ہوا، دمشق یا اسلام آباد میں سرمایہ کاری فورم کے انعقاد اور امریکا-ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردارپر بات کی گئی۔

شامی مشیر محمد الجفال نے کہا کہ یہ دورہ ایک اہم اور حساس وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات مزید تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں، دمشق نے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو علاقائی استحکام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }