پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا

11

پاکستان انٹرنیشل ایئر (پی آئی اے) کا جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے اچانک ریڈار سے غائب ہوا اور ساتھ ہی ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا، یہ حادثہ ٹیک اف کے 9 منٹ بعد پیش آیا، حالانکہ جہاز کے کپتان نے نہ ہنگامی صورت حال میں دی جانے والی مے ڈے مے ڈے کی کال دی نہ جہاز میں کسی بھی قسم کی پیدا ہونے والی خرابی کے بارے میں بتایا یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ آج 37 برس گزر گئے نہ جہاز کا ملبہ ملا نہ 54 مسافروں سمیت کپتان یا فضائی میزبانوں میں سے کسی کی لاش کا سراغ ملا۔

پی آئی اے کے جہاز کے اس طرح پراسرار طور پر غائب ہونے کے بعد یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ کشمیر کے قریب ہونے کی وجہ سے کہیں بھارت نے میزائل سے تباہ تو نہیں کر دیا کیونکہ جہاز کے پائلٹ کی طرف سے کسی بھی قسم کے خطرے کی نشان دہی نہیں کی گئی اور اچانک جہاز پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا مگر اس بات کے بھی شواہد نہیں ملے اور آج 37 برس بعد بھی پی آئی اے جہاز کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

ایکسپریس نیوز نے جب اس حوالے سے کچھ معلومات اور تحقیقات کی تو پتا چلا آج سے 37 برس پہلے جہاز میں سوار مسافر خوش جہاز کے کپتان ایس ایس زبیر نے اناؤنسمنٹ کی کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے-404 روانہ ہونے لگی ہے موسم خوش گوار ہے  اور ہم 8 ساڑے 8 ہزار کی بلندی پر گلگت سے  سفر کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کریں گے، میرے ساتھ فرسٹ آفیسر احسن بلگرامی اور ائیر ہوسٹس خالدہ حبیب اور فلائٹ اسٹیورڈ مقصود آپ کے سفر کو مزید خوشگوار بنانے میں ساتھ ہیں۔

جہاز کے کپتان کی جانب سے اسی اناؤنسمنٹ کے ساتھ جہاز نے گلگت ائیرپورٹ سے 7 بج کر 36 منٹ پر  ٹیک آف کیا، جس کے بعد 7 بج کر 45 منٹ پر جہاز کا رابطہ ائیر ٹریفک کنٹرولر کے ساتھ منقطع ہوگیا اور صرف 9 منٹ کے اندر اندر  ہی جہاز لاپتا ہوگیا، بدلتے موسمی حالات پگھلتے گلیشئیرز اور سیکڑوں کی تعداد میں ان پہاڑیوں پر ملکی و غیر ملکی کوہ پیما بھی آتے جاتے رہے جن کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی آراستہ سسٹم بھی ہوتے ہیں جو سیکڑوں فٹ دبے ہوئی کسی بھی چیز کی معلومات فوری طور پر دے سکتے ہیں مگر ان کوہ پیماؤں کو بھی اس جہاز کے حوالے سے کوئی  شواہد  نہیں ملے۔

پی آئی اے کے جہاز میں سوار 54 افراد اور عملہ تاحال لاپتا ہے، نہ  ملبہ، نہ ہی کسی ایک مسافر کا جسد خاکی مل سکا، جن کے پیارے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے وہ بھی صبر کر کے ان کی یادوں میں گم ہو گئے، دیکھا جائے تو 25 اگست 1989 کا دن پاکستان ایوی ایشن کی تاریخ کا سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔

پی آئی اے کا  فوکر F27 جہاز مکمل فٹ تھا، جس کا رجسٹریشن نمبر AP-BBF صبح 07:36 پر گلگت ایئرپورٹ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا جس  میں 49 مسافر اور 5 عملے کے ارکان سوار تھے، ٹیک آف کرتے ہوئے معمول کے مطابق ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ہوا، ائیر ٹریفک کنٹرولر نے جس ڈائریکشن میں جہاز اڑانے کا حکم دیا، پائلٹ نے اسی حساب سے جہاز اڑایا اور اس کے 9 منٹ بعد پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے معمول کا رابطہ کیا اور اس کے بعد اچانک پائلٹ کا ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوگیا اور پھر طیارے سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔

جہاز میں  خرابی کی کسی بھی قسم کی کوئی شکایت ائیر ٹریفک کنٹرولر کو جہاز کے پائلٹ کی طرف سے موصول  ہوئی نہ اس نے کسی ہنگامی صورت حال کے پیش نظر مے ڈے مے ڈے کی کال دی کیونکہ اگر کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہو اور جہاز کنٹرول میں نہ رہے تو پائلٹ فوری ائیر ٹریفک کنٹرولر کو مے ڈے مے ڈے کی کال دیتا ہے مگر ایسی کوئی کال بھی موصول نہیں ہوئی اور 9 منٹ کے اندر اندر جہاز غائب ہوا۔

ائیر ٹریفک کنٹرولر نے جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے چند منٹ بعد ہی اپنے سینیٹرز سے رابطہ کیا اور صورت حال سے آگاہ کیا، کئی بار رابطے کی کوششیں کی گئیں مگر ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی، اس کے بعد جہاز کے لاپتا ہونے کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی، مسافروں اور عملے کے عزیز و اقارب ائیرپورٹ پہنچنے لگے۔

جہاز کے لاپتا ہونے کی خبر ملک بھر میں پھیل گئی اور ملک میں ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی، پر ایک کی زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کچھ پتا چلا، کب پتا چلے گا بتا کیوں نہیں رہے ہیں جہاز کیسے تباہ ہوا، پی آئی اے اور ایوی ایشن کے افسران اور ملازمین ان کو تسلیاں دیتے کہ تلاش جاری ہے جیسے ہی معلومات موصول ہوں تو آگاہ کریں گے۔

 دوسری جانب حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فضائیہ، پاک فوج اور مقامی رضاکاروں نے شمالی علاقہ جات کے پہاڑی سلسلوں میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، نانگا پربت اور گرد و نواح کے علاقوں کو مقامی کوہ پیما اور ماہرین کی مدد سے چھان مارا گیا لیکن طیارے کا کوئی ملبہ، بلیک باکس یا کسی مسافر کی لاش تک برآمد نہ ہو سکی۔

اس حوالے سے بھارت سے بھی رابطہ کیا گیا اور درخواست کی گئی کہ جہاز کہیں بھارتی حدود میں داخل ہوکر حادثے کا شکار نہ ہوگیا ہو مگر بھارت نے پاکستان کو جہاز کا ملبہ تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی، تین چار روز اسی طرح گزر گئے پھر بھارت نے پاکستان کو جواب دیا کہ وہ پاکستان کے بجائے اقوام متحدہ کی ٹیم کو اجازت دیتے ہیں مگر بدقسمت جہاز کو اقوام متحدہ کی ٹیم بھی تلاش نہ کر سکی۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سول ایوی ایشن کے سابق چیف ائیر ٹریفک کنٹرولر سعید احمد نے کہا کہ خیال ہے خراب موسمی حالات اور کم اونچائی کے باعث طیارہ کسی گلیشیر یا گہری وادی میں جا گرا ہو، پائلٹ نے اس وقت کی ٹیکنالوجی کے حساب سے ائیر ٹریفک کنٹرولر کو میسج دیا ہو مگر پہاڑی سلسلہ ہونے کی وجہ سے سگنلز نہیں ملے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ جہاز میں کوئی خرابی ہو اور پائلٹ ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ نہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات اچانک موسم خراب ہو جاتا یک بستہ ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور جہاز اچانک ڈاؤن یعنی نیچے کی طرف بڑی تیزی سے چلا جاتا ہے، پائلٹ اور سسٹم کے سگنلز آتے نہیں، یہی وجہ ہوسکتی ہے۔

سعید احمد نے کہا کہ دوسرے پائلٹ باقاعدہ ایک نقشے کے تحت ہوائی جہاز شمالی علاقہ جات میں اڑاتے ہیں تاہم آج تک اس حادثے کی کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی کیونکہ نہ جہاز کا بلیک باکس مل سکا نہ کوئی اور چیز جس سے تحقیقات کی جاتی کیونکہ جہاز کے حادثے کا کوئی بھی سراغ نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد طیارہ حادثہ ہے جس کا کوئی سراغ آج تک نہیں ملا، ان37 برسوں میں موسمی تبدیلیاں رونما ہوئیں، گلیشیر پگھلتے رہے ملکی اور غیر ملکی سیکڑوں کوہ پیما اس علاقے کی برفانی چوٹیوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس سسٹم کے ساتھ سر کرتے رہے مگر ان کوہ پیماؤں کو بھی پراسرار طور پر غائب ہونے والے پی آئی اے کے جہاز اور اس میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے بارے میں معلومات نہیں ملیں۔

ایوی ایشن ذرائع کا کہنا تھا کہ اب جدید ترین ٹیکنالوجی آگئی ہے اگر حکومت اب چاہے تو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اس جہاز کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }