اپنا دفاع نہیں کروں گا، مجھے پھانسی دینے کیلیے بنائی گئی عدالت اپنا فیصلہ سنادے، یاسین ملک

16

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں قتل کی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت پھر بھی مجرم قرار دیتی ہے تو سزائے موت کیلئے تیار ہوں.

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اس مقدمے کی کارروائی کا سامنا نہیں کریں گے اور اگر عدالت انہیں مجرم قرار دیتی ہے تو سزائے موت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سرلا بھٹ ایک کشمیری پنڈت نرس تھیں، جنہیں 1990 کی دہائی کے آغاز میں قتل کیا گیا تھا۔ یاسین ملک کے خلاف اس معاملے سمیت متعدد پرانے مقدمات زیرِ سماعت رہے ہیں۔

یاسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ سرلا بھٹ کے 19 اپریل 1990 کے قتل میں ملوث نہیں تھے کیونکہ وہ اس سے قبل 8 اپریل کو بھارتی فورسز کے چھاپے کے دوران شدید زخمی ہوگئے تھے.

واضح رہے کہ مئی 2022 میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت بھی یاسین ملک نے عدالت سے رحم کی درخواست کرنے کے بجائے سزا کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا تھا۔

25 مئی 2022 کو عدالت نے این آئی اے کی سزائے موت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی۔ انہیں دو عمر قید کی سزائیں اور دیگر سزائیں دی گئیں جبکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

بعد میں این آئی اے نے دہلی ہائی کورٹ میں عمر قید کے خلاف اپیل کرتے ہوئے دوبارہ سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

یاسین ملک کا اہلیہ مشال کو طلاق دینے کا فیصلہ

25 صفحات پر مشتمل قانونی عرضی میں یاسین ملک کی ذاتی زندگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشعال اپنی باقی ماندہ زندگی ان کے غیر یقینی مستقبل، طویل قید یا بیوہ کی زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہوئے گزارے۔ لہذا وہ انہیں نکاح سے آزاد کرتی ہیں.

انہوں نے اپنی 8 سالہ بیٹی کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ روز اپنی دادی کے سری نگر میں فون کرے تاکہ انہیں عمر کی اس حصے میں تنہائی کا زیادہ احساس نہ ہو.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }