ہمیں ہمارا صوبہ دیں آرٹیکل 140 اے خود نافذ کریں گے، خالد مقبول

19

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا  ہے کہ آپ ہمیں صوبہ دے دیں ہم خود آرٹیکل 140 سے نافذ کردیں گے، اگر ووٹر لسٹیں اور مردم شماری درست ہوگئی تو پیپلزپارٹی خود صوبے کا مطالبہ کرے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ​متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے شعبہ گریجویٹ فورم  کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں "قومی مذاکرہ” کے عنوان سے ایک پروقار اور اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی، سماجی، معاشی اور قانون دان طبقہ ہائے فکر کی جید شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ  پاکستان کے چیئرمین و وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل ایم کیو ایم کے قیام سے بھی قبل APMSO کے دور سے ہمارا دیرینہ اور اصولی مطالبہ رہا ہے، پاکستان ہماری دھرتی ماں ہے جبکہ صوبے محض انتظامی یونٹ ہیں جنہیں ملک کی ترقی اور انتظامی سہولت کی خاطر آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہیے تھا اور اب تک ہو جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں لیکن ایم کیو ایم انتظامی بنیادوں پر صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے اور پورے ملک میں جہاں کہیں بھی نئے صوبوں کے مطالبات اٹھ رہے ہیں ان میں سب سے مضبوط اور باجواز مقدمہ شہری سندھ کا ہے جس نے پاکستان کی معیشت کا بوجھ اٹھا رکھا ہے لیکن مسلسل استحصال اور حق تلفی کا شکار ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کے لیے ہجرت کی تھی اور یہ ہمارے اسلاف کا بنایا ہوا پاکستان ہے جس کے مستقبل اور حقوق کا فیصلہ ہم خود کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر ایمانداری کے ساتھ شفاف مردم شماری کرا لی جائے اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کر دی جائے تو پیپلز پارٹی خود نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آپ ہمیں ہمارا صوبہ دے دیں ہم خود ہی آرٹیکل 140 اے نافذ کردیں گے۔

تقریب سے ایم کیو ایم کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ چار صوبوں پر چند مخصوص خاندانوں کا راج ہے اور اسٹیٹس کو قائم ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات تو ملے مگر وہ نچلی سطح تک منتقل نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کے لیے آرٹیکل 140-A کے تحت آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے جبکہ آرٹیکل 48 کلاز (6) کے تحت نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جائے اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگ اپنے بقا و ترقی کے لیے جلد شاہراہِ فیصل پر ایک تاریخی ریلی میں یکجا ہوں۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما و سابق میئر کراچی وسیم اختر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی مقامی حکومتوں اور نئے صوبوں کے لیے ایک طویل جدوجہد ہے اور ہم نے سپریم کورٹ سے بااختیار بلدیات کا کیس بھی جیتا، یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ ہماری بقاء اور انفرادی و اجتماعی ترقی کا ضامن ہے۔

رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں ہمارا بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں موجود ہے اور کراچی کے ڈیموگرافک مسائل اور انتظام و انصرام کے حل کے لیے الگ انتظامی حیثیت ناگزیر ہے۔

قومی مذاکرہ سے نامور سیاستدان سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی میں صوبے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے میں ناكام رہے ہیں اس لیے کراچی اور دیگر تمام بڑے شہروں کا انتظام مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ 

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف، تاجر رہنما عتیق میر اور سابق بیوروکریٹ بیرسٹر شہاب امام نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا معاشی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، سرکاری اداروں میں مقامی لوگوں کی بھرتیوں پر پابندی اور نان لوکل افراد کی تعیناتی سے نا انصافی بڑھ رہی ہے، لہٰذا کراچی اور پورے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ تمام شہریوں کو ان کے آئینی و قانونی حقوق میسر آ سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }