سڈنی سوینی کے بولڈ اسپورٹس اشتہار پر کھلاڑیوں کا اعتراض، خواتین کی نمائندگی پر نئی بحث

14

ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوینی کی امریکی اسپورٹس پریڈکشن پلیٹ فارم نووگ کے لیے بنائی گئی نئی تشہیری مہم نے خواتین کے کھیلوں کی نمائندگی پر بحث چھیڑ دی ہے۔

مہم کی تصاویر میں سڈنی سوینی کو نیم عریاں حالت میں باسکٹ بال اور فٹ بال سمیت مختلف کھیلوں کے سامان کے ساتھ پوز کرتے دکھایا گیا ہے۔ ان اشتہارات پر اعتراض صرف عام صارفین کی جانب سے نہیں بلکہ کئی پیشہ ور خواتین کھلاڑیوں نے بھی کیا ہے۔

چار مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ آرین ٹٹمس نے مہم پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برسوں کھیلوں میں محنت کرنے والی خواتین کی صلاحیت، تربیت اور کامیابی کے بجائے ان کے جسم کو تشہیر کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔

برطانوی اسپرنٹر ایمی ہنٹ نے بھی مہم پر تنقید کی اور خواتین کے کھیلوں کی اصل حقیقت کی جانب توجہ دلائی، جس میں سخت ٹریننگ، پسینہ، مقابلہ اور برسوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ تیراک لینی پیلسٹر اور اسپرنٹر بری ریزو نے بھی اپنی ٹریننگ اور مقابلوں کی ویڈیوز شیئر کرکے خواتین کے کھیلوں کی ایک مختلف تصویر پیش کی۔

اولمپک سلور میڈلسٹ واٹر پولو کھلاڑی ٹلی کیئرنز اور عالمی چیمپئن باکسر اسکائی نکلسن سمیت دیگر ایتھلیٹس نے بھی مہم کے تصور پر سوال اٹھائے۔ نکلسن نے خاص طور پر خوبصورتی اور جنسی کشش کو بطور تشہیری حربہ استعمال کرنے کے درمیان فرق کی نشاندہی کی۔

تنقید کا بنیادی نکتہ سڈنی سوینی کا بولڈ انداز نہیں بلکہ یہ ہے کہ خواتین کے کھیلوں کو اسپورٹس کی محنت اور کامیابی کے بجائے جنسی انداز میں کیوں پیش کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب نووگ نے سوینی کو محض برانڈ ایمبیسیڈر کے بجائے کمپنی کا اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا ہے اور انہیں کمپنی میں حصص بھی حاصل ہیں۔ نووگ 2021 میں قائم ہونے والا امریکی اسپورٹس پریڈکشن پلیٹ فارم ہے، جس نے 2026 میں 75 ملین ڈالر کی سیریز بی فنڈنگ بھی حاصل کی۔

مہم پر جاری بحث کا بنیادی سوال یہی ہے کہ خواتین کو اپنی مرضی سے خود کو پیش کرنے کی آزادی کہاں تک ہے اور کھیلوں کی تشہیر میں خواتین کے جسم کو جنسی انداز میں پیش کرنا کہاں سے ایک الگ مسئلہ بن جاتا ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }