بڑا ہو کر میاں سعید بنوں گا

16

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید سے میری پہلی ملاقات ایک نوجوان دبنگ پولیس آفیسر سلمان ایاز شہید کے والد اور میرے جگری دوست بریگیڈئیر ایاز خان کے ہمراہ اس وقت ہوئی جب وہ بطور ڈی پی او صوابی تعینات تھے۔

ان سے دوسری ملاقات ہمارے غریب خانے پر بریگیڈئیر ایاز خان کے ہمراہ میرے مرشد و مربی بابا جان شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ سے ملاقات کے لیے آنے کے موقع پر ہوئی، اس ملاقات میں موجود بڑے چھوٹے سب باباجانؒ کے ساتھ ڈاکٹر میاں سعید کی مودبانہ اور تعظیم بھری گفتگو، ہنس مکھ چہرے اور پرکشش شخصیت کی وجہ سے ان کے سحر میں مبتلا ہوگئے۔

اس ملاقات کی دو باتیں دماغ پر نقش ہوچکی ہیں ایک وہاں موجود ہر بچہ بڑی معصومیت سے کہنے لگا کہ "میں بڑا ہوکر میاں سعید بنوں گا” دوسری میرے مرشد و مربی باباجانؒ ڈاکٹر میاں سعید صاحب کو پوری نشست کے دوران حافظ صاحب پکارتے رہے۔

اس ملاقات کے بعد جب بھی کوئی پولیس آفیسر باباجانؒ سے ملنے آتا، تو ان سے پوچھتے تھے کہ حافظ میاں سعید صاحب آج کل کہاں ہیں ۔ حافظ صاحب کا لاحقہ باباجانؒ اتنے تواتر کے ساتھ میاں سعید کے نام کے ساتھ لگاتے تھے کہ میں بھی حافظ ڈاکٹر میاں سعید کہنے اور لکھنے لگا حالانکہ ڈاکٹر میاں سعید صاحب حافظ قرآن نہیں مگر اگر ڈاگئی باباجیؒ جیسے کامل ولی اللہ نے ان کو حافظ سمجھا اور پکارا تو اگر ڈاکٹر میاں سعید حفظ قرآن کی نیت کرلیں تو انشاء اللہ ایک نہ ایک دن ان کا سینہ قرآن کے نور سے ضرور منور ہوگا۔

قحط الرجال کے اس دور میں ڈاکٹر میاں سعید مظلوموں، لاچاروں اور بے یارو مددگار عوام کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے نعمت غیر مترقبہ اور ظالم و جابر جرائم پیشہ افراد کے لیے قہر الہی ہیں۔

بطور سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے کام کا انداز بالکل وہی ہے جو بطور ڈی پی او صوابی ہم نے مشاہدہ کیا تھا ہاں وقت کے ساتھ اس میں پختگی آگئی، لگتا ہے مظلوموں کی داد رسی اور جرائم سے نفرت ان کو آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی ہے۔ انھوں نے پشاور میں جو کامیابیاں، عزت اور عوامی مقبولیت حاصل کی ہے یہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک طرف ڈاکٹر میاں سعید کی عوام دوستی اور چہرے پر مسکراہٹ اور دوسری طرف مجرموں کے ساتھ فولادی اور سخت رویہ دیکھ کر وہ علامہ اقبالؒ کے شعر:

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

 کی عملی تفسیر لگتے ہیں۔

انھوں نے پشاور کو منشیات، گینگسٹرز اورسٹریٹ کرائم سے مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے جو جامع آپریشنل حکمتِ عملی مرتب کی وہ انسدادِ جرائم اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے ایک بہترین پائیدار ماڈل ہے جس پر پورے ملک میں عمل ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر میاں سعید نے سی سی پی او پشاور کا چارج سنبھالا تو پشاور میں دہشت گردی کا عفریت خطرناک اور ہولناک شکل اختیار کر چکا تھا اور اس کشیدہ و پیچیدہ جرائم پرور ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی جرائم پیشہ گروہوں نے اپنے پنجے گاڑ دئے تھے۔

لینڈ مافیا اور گینگسٹرز نے ایک فعال نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رکھی تھی، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت گری، منشیات فروشی اور دیگر سنگین جرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافے سے عام شہری کا جینا دوبھر ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر میاں سعید نے چارج سنبھالا تو انھوں نے اپنی نگرانی میں برق رفتاری کے ساتھ براہِ راست جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں اور گینگسٹرز کا تعاقب کیا اور جرائم کی سیاہ دنیا کو تہس نہس کر ڈالا۔

پشاور پولیس نے میاں سعید کی قیادت میں کمال مہارت اور بہادری سے خوف و وحشت کی علامت بدنام زمانہ سفاک گینگسٹرز لعل شیر کے لعلی گروپ، پینے گروپ، ملنگ گروپ، آدمے گروپ اور ممتازے گروپ جو ٹارگٹ کلنگ، قتل اقدام قتل، قبضہ، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، پولیس پر حملوں جیسے جرائم میں ملوث تھے اور خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی متعدد سنگین وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث اور مطلوب تھے کی اکثریت کوجڑ سے اکھاڑ دیا، جس پر وہ خراج تحسین کے حقدار ہیں۔ خاص کر آدمے اور ممتازے جس انداز میں نشانِ عبرت بنے‘ اس سے پشاور میں جرائم میں کمی آئی۔ ٹک ٹاکر گینگسٹر آدم خان عرف آدمے کا اپنا ہی ایک زہریلا انداز تھا۔

وہ 13 سے زائد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ پشاور پولیس سے فرار ہو کر روپوش تھا۔ اکتوبر 2025 میں پشاور پولیس اور حساس اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تحت اس کی پناہ گاہ کا گھیراؤ کیا تو ملزمان نے جدید ترین اسلحے سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی، تین گھنٹے تک جاری اعصاب شکن مقابلے کے نتیجے میں آدم خان عرف آدمے دیگر ساتھیوں سمیت موقع پر ہلاک ہو گیا۔ دوسرا بڑا گینگسٹر ممتازے پکڑے جانے کے خوف سے بیرونِ ملک فرار ہو گیا تھا جسے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کروا کر واپس لایا گیا، اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور منتقلی کے دوران اسے اس کے دیرینہ مخالفین نے گھات لگا کر حملہ کرتے ہوئے ہلاک کر ڈالا۔ یوں خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور کے شہریوں کو انتہائی خطرناک اور دہائیوں پر محیط گینگسٹرز سے مکمل نجات ملی، خطرناک گینگسٹرز کا اس تیزی سے صفحہ ہستی سے مٹنا پورے خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور میں جرائم پیشہ افراد کے لیے نوشتہ دیوار ہے۔

سی سی پی او پشاور کا چارج سنبھالنے کے بعد جرائم پیشہ افراد کے خلاف ان کا کریک ڈاؤن اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا ثمر ہے کہ آج پشاور شہر کافی حد تک پر سکون اور پرامن ہے۔ انھوں نے منظم، جڑ پکڑے جرائم کے تمام نیٹ ورکس اور گینگسٹرز کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں پشاور پولیس نے اربوں روپے کی قیمتی سرکاری و نجی اراضی پر قابض بااثر لینڈ مافیا اور بھتہ خوروں کے خلاف بلا امتیاز و بے رحم کارروائیاں کیں اور برسوں سے قائم غیر قانونی تسلط کا خاتمہ کرایا۔

ان کی کمانڈ میں درجنوں خطرناک اور سنگین ترین وارداتوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان میں ملوث مطلوب مجرمین سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلوں میں اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک سے فونز اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا نیٹ ورک چلانے والے عناصر کو نکیل ڈالنے کے لیے انٹرپول کی مدد سے ریڈ نوٹسز جاری کروائے جس سے تمام روپوش مجرموں کو یہ واضح پیغام ملا کہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں چھپ جائیں، قانون کے لمبے ہاتھ ان کی گردن تک پہنچ کر رہیں گے۔ ڈاکٹر میاں سعید اس بنیادی فلسفے کے داعی اور پیروکار رہے ہیں کہ ایک شفاف، پائیدار اور موثر انسدادِ جرائم کی مہم اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک ادارے اور محکمے کے اندر خود احتسابی کا ایک کڑا، غیرجانبدارانہ اور شفاف نظام موجود نہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے محکمے کے اندرونی سدھار اور صفائی کے لیے ایک سخت اور بے رحم مہم کا آغاز کیا۔ جرائم پیشہ عناصر، گینگسٹرز اور مافیاز کے سہولت کار، مجرموں سے ساز باز یا ان کی پشت پناہی کرنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف سخت قانونی و ڈسپلنری ایکشن لیے۔ بدعنوان، رشوت خور، ڈیوٹی اور فرائض منصبی میں غفلت برتنے والے متعدد ایس ایچ اوز، انویسٹی گیشن افسران اور پولیس اہلکاروں کو کڑے احتساب کے مرحلے سے گزار کر عہدوں سے معطل اور برطرف کیا، خود احتسابی کے اس عمل نے نہ صرف پولیس فورس کا عوامی وقار اور ساکھ بحال کی بلکہ پولیس اہلکاروں میں بھی فرض شناسی، خودداری اور عوامی خدمت کا جذبہ و احساس بیدار ہوا۔ اگر اس ملک میں کارکردگی معیار اور ہمارے حکمران خیبرپختونخوا میں امن چاہتے ہیں تو ڈاکٹر میاں سعید پورے خیبرپختونخوا کو پشاور جیسا بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

قصہ مختصر مجھے کئی سال پہلے اپنے خاندان کے بچوں کی میاں سعید بننے کی معصومانہ خواہش تو ان کی شخصیت سے متاثر ہونے کی بنا پر تھی مگر آج ان کے دبنگ انداز میں جرائم سے لڑنے اور عوام میں مقبولیت دیکھ کر کہوں گا کہ اگر آج میں بھی بچہ ہوتا تو ضرور کہتا کہ میں بڑا ہو کر میاں سعید بنوں گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }