لانگ مارچ کا حتمی پلان صرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس ہے، شیخ وقاص اکرم

13

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے  حتمی پلان وزیر اعلیٰ  خیبر پختونخوا سہیل آفریدی  کے پاس ہی ہے ،  جب وہ  ہمارے ساتھ شیئر کریں گے تو میڈیا  کو  بھی بتا دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم  نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ  کے حوالےسے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اگر پہلے ہی پلان  بتا دیں تو  پھر حکومت کی جانب سے  پہلے سے  ہی سختیاں شروع ہو جائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ 27 مارچ  کو ہونے والے لانگ مارچ کا حتمی پلان  وزیر اعلیٰ  کے پی سہیل آفریدی کے پاس ہے، وہ جب  ہمارے ساتھ حتمی  پلان  شیئر کریں گے تو میں میڈیا کو بھی بتا دوں گا، جب تک  وزیر اعلٰی کے پی کا  آفیشل بیان نہیں آتا میں اس پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔

انہوں  نے کہا کہ ہمارے ایک رہنما پولیس کی حراست میں فوت ہوئے جن کی تدفین اور لواحقین سے تعزیت کیلیے سلمان اکرم راجہ جارہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ایسا کر کے  حکومت والے اپنا مذاق اُڑا رہے ہیں، یہ حکومت  قومی سطح پر  تو یہ   ایکسپوزڈ  ہے ہی لیکن اب دنیا کو بھی بتا رہے ہیں کہ یہ کتنے کمزور ہیں۔

مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم  نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی  کی طرف سے  کوئی اشتعال  انگیز  قدم نہیں اٹھایا گیا، جس کی وجہ سے کوئی یہ کہہ سکے کہ ہم شرارت کر رہے ہیں، پر امن  احتجاج کا حق آئین نے دیا ہو۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ  وزیر اعلیٰ  کے پی نے احتجاج کی کال دی جسے سب نے قبول کیا، وزیر اعلیٰ پہلے  سندھ گئے  پھر پنجاب گئے، اسٹریٹ موومنٹ کی ، سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، پنجاب میں ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا  گیا،  ہمارے ورکرز کو اٹھایا گیا، ہمارے رہنماوں  کیخلاف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

شیخ وقاص اکرم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے خلاف حکومت کی جانب سے کریک ڈاون تو چل رہا لیکن   گزشتہ ایک سال میں ایسا کریک ڈاون نہیں دیکھا ۔ حکومت کی  جانب سے بوکھلاہٹ کا اظہار کیا گیا  لوگ   کوئی توڑ پھوڑ نہیں کر رہے۔ 

یہ کہتے تھے کہ  لاہور آئیں  ہم  ویلکم  کریں گے لیکن ہمیں ان کے ویلکم  کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ  لاہور میں پولیس نے  مار پیٹ کی ، کیا ہمارے کارکنوں نے کوئی اشتعال انگیزی کی ؟۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یا تو آئین سے پر امن احتجاج کرنے کے حق کی شقیں نکال دیں، نہ  احتجاج  کرنے دیتے ہیں نہ  26 ویں ترمیم کے بعد عدالتوں سے  انصاف ملتا ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }