شہباز شریف کا حافظ نعیم سے رابطہ، مارچ مؤخر کرنے کی درخواست، امیر جماعت اسلامی نے انکار کردیا

19

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک پہنچتے ہی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے رابطہ کرکے لانگ مارچ چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کردی تاہم حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ اعلان کردہ حکومتی ریلیف پیکیج جماعت اسلامی کو کسی صورت قبول نہیں اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیر اور منگل کی درمیانی شب نیویارک پہنچنے کے بعد ملتان میں موجود امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمن سے درخواست کی کہ جماعت اسلامی اپنا مارچ چند روز کے لیے ملتوی کردے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے جبکہ وطن واپس پہنچتے ہی وہ حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کرکے عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم سے گفتگو میں واضح کیا کہ اعلان کردہ ریلیف پیکیج کسی صورت قابل قبول نہیں جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی۔

جماعت اسلامی پہلے ہی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاجی مارچ کا اعلان کرچکی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کو بتایا کہ جماعت اسلامی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کررہی ہے اور اس معاملے پر اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ میں چند روز کا وقفہ دینے سے متعلق جماعت کی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن کے مطابق جماعت اسلامی کی قیادت منگل کی صبح مشاورت کرے گی، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر کراچی سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا ہے۔

مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے ٹرین کے ذریعے روانہ ہوا اور پیر کو ملتان پہنچنے کا شیڈول تھا جہاں سے احتجاج کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جانا تھا۔

 

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اعلان کردہ فیول ریلیف اسکیم میں موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مخصوص مدت کے حساب سے مالی ریلیف شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }