جرمنی بھی احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا، مہنگائی کے خلاف ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے

22

فرانس میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے جرمنی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں گزشتہ روز ایک لاکھ 20 ہزار افراد نے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔

جرمنی میں ’جنریشن زیڈ‘ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں مہنگائی، تعلیمی اداروں کے لیے ناکافی فنڈز، ماحولیاتی مسائل اور لازمی فوجی سروس دوبارہ متعارف کرانے کی ممکنہ تجویز کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

برلن، فرینکفرٹ، کولون اور میونخ سمیت بڑے شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کرگیا، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس سمیت مختلف اقدامات کیے۔

کولون میں مظاہرین کی جانب سے آتش بازی کے سامان کے استعمال پر پولیس نے واٹر کینن چلائی، جبکہ ہیمبرگ میں رکاوٹیں جلانے اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے بعد رائٹ پولیس کو طلب کرنا پڑا۔

فرینکفرٹ میں پولیس کے مطابق مظاہرین نے امدادی اہلکاروں پر پیٹرول بم پھینکے اور دکانوں کے شیشے توڑ دیے، جس کے باعث زیل شاپنگ اسٹریٹ کا ایک حصہ بند کرنا پڑا۔ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے دو ہتھیار بھی قبضے میں لے لیے۔

احتجاجی تحریک کے منتظمین کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد شریک ہوئے۔

تحریک کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں نظرانداز کیے جانے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ان کا مقصد پُرامن احتجاج کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }