بنگلہ دیش کے کرکٹرز سمندر میں کشتی کے ہچکولوں سے خوفزدہ

82

بنگلہ دیش کی ٹیم سینٹ لوسیا سے ڈومینکا بذریعہ سمندری فیری پہنچی، راستے میں کشتی کے ہچکولوں سے متعدد کھلاڑی خوف زدہ ہو گئے۔

بنگلہ دیشی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم اس وقت ویسٹ انڈیز دورے پر ہے۔

میزبان ملک سے ٹسٹ سیریز گنوانے کے بعد اب ٹاکرا ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ہونا ہے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 2 جولائی یعنی آج ڈومینیکا میں کھیلا جائے گا، جس کے لئے ٹیم سینٹ لوسیا سے ڈومینیکا بذریعہ سمندری راستے پہنچی۔

تفصیلات کے مطابق جیسے ہی فیری سمندر کے درمیان میں پہنچی۔ اس کا اونچی اونچی لہروں سے سامنا شروع ہوگیا۔

بنگلہ دیشی ٹیم جس فیری میں سوار تھی، وہ بہت بڑی نہیں تھی۔ ایسے میں 7-6 فٹ اونچی لہروں میں فیری بیچ سمندر میں ہچکولے مارنے لگی۔
بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق یہ پانچ گھنٹے کا سفر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے لئے کبھی نہ بھولنے والے تجربہ جیسا رہا، کیونکہ اس سے پہلے کسی بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی نے چھوٹی سی پھیری میں اتنا لمبا سفر نہیں کیا تھا۔ ایسے میں جب تک کھلاڑی ڈومنیکا پہنچے، تو اس میں سے زیادہ تر کی طبیعت خراب ہوگئی۔ کچھ کھلاڑی تو راستے بھر الٹی کرتے رہے۔

بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق، جیسے ہی فیری سمندر کے درمیان میں پہنچی۔ اس کا اونچی اونچی لہروں سے سامنا شروع ہوگیا۔

Advertisement

بنگلہ دیشی ٹیم جس فیری میں سوار تھی، وہ بہت بڑی نہیں تھی۔ ایسے میں 7-6 فٹ اونچی لہروں میں پھیری بیچ سمندر میں ہچکولے مارنے لگی۔ نتیجتاً کھلاڑیوں کو الٹی آنی شروع ہوگئی۔

اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق، تیز گیند باز شریف الاسلام اور وکٹ کیپر بلے باز نفیس اقبال سب سے زیادہ پریشان نظر آئے۔ دونوں نے سفر کے دوران کئی بار الٹی کی۔

بنگلہ دیش تو بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے بھی کسی انٹرنیشنل میچ کے لئے ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے کا سفر فیری کے ذریعے نہیں کیا جاتا تھا۔

اخبار سے بات کرنے والے ایک بنگلہ دیش کرکٹر نے آپ بیتی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم مر ہی جائیں گے۔ ایک دیگر کرکٹروں نے کہا کہ میرے لئے تو کیریئر کا سب سے خراب دورہ تھا۔

اس کھلاڑی نے مزید کہا، ’اس سفر میں ہم بیمار پڑ سکتے تھے اور مر بھی سکتے تھے۔

کھلاڑی نے مزید کہا کہ میں نے کئی ممالک کا سفر کیا ہے، لیکن اس طرح کا تجربہ پہلی بار ہوا۔ ہم مین سے کسی بھی کھلاڑی کو اس کی عادت نہیں ہے۔

کھلاڑی کے مطبق کھیلنے کے بارے میں بھول جائیے، تب کیا ہوتا، جب ہم سے کوئی کھلاڑی بری طرح بیمار ہوجاتا۔ یہ میری زندگی کا سب سے خراب دور ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }