افغانستان کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے طالبان حکومت سے اپیل کی ہے کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کھولے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ روز افغانستان میں صرف مردوں پر مشتمل اپنی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ لڑکیوں کے لیے تمام سیکنڈری اسکولوں کو مزید تاخیر کے بغیر دوبارہ کھول دے۔
نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے، طالبان کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی کی یہ اپیل کابل میں طالبان کے ایک اعلیٰ اجتماع کے دوران سامنے آئی۔
شیر محمد عباس ستانکزئی نے اس جانب توجہ دلائی کہ اگر اسکول نہ کھولے گئے تو ان بچیوں کے لیے تعلیم کے حصول کا کوئی اور راستہ نہیں ہے، کیونکہ بیشتر کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جہاں کوئی بھی تعلیم یافتہ نہیں ہے۔وہ کہاں اور کس جگہ پڑھ سکتی ہیں؟
Advertisement
شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ ان کا شوہر ان پڑھ ہے، ان کا بھائی ان پڑھ ہے، اوران کا باپ ناخواندہ ہے، وہ کہاں پڑھ سکتی ہے؟ وہ صرف اسکولوں میں پڑھ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان نے چھٹی جماعت سے اوپر تمام کلاسز کی لڑکیوں کو اسکول واپس آنے سے روک دیا تھا،
طالبان نے اس اقدام کے لیے مذہبی اصولوں کو جواز کے طور پرپیش کیاتھا۔
Advertisement
شیر محمد عباس کے مطابق تعلیم بغیر کسی امتیاز کے مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے، یہاں موجود عالم دین میں سے کوئی بھی اس فرض سے انکار نہیں کر سکتا۔
شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شریعت کی بنیاد پر خواتین کے تعلیم کے حق کی مخالفت کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔
طالبان نے گزشتہ ماہ اگست میں ہمت اخوندزادہ کو قائم مقام وزیرِ تعلیم مقرر کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی طرف سے طالبان پر ملک میں لڑکیوں کے لیے چھٹی جماعت کے اوپر کے اسکول دوبارہ کھولنے پر زور دینے کے چند دن بعد سامنے آیاتھا۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران 10 لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کو مڈل اسکول اور ہائی اسکول جانے سے روک دیا گیا ہے۔
Advertisement
نئے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ شرعی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پرعزم ہیں۔
Advertisement