میڈیا کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ سے کم اہم نہیں: چیئرمین نیشنل میڈیا اتھارٹی

4

میڈیا کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ سے کم اہم نہیں:

خطے کو بلا اشتعال ایرانی حملوں کا سامنا ہے جنہوں نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا

چیئرمین نیشنل میڈیا اتھارٹی عبداللہ بن محمدبن بطی الحامد)۔)

 

ابوظہبی(اردوویکلی)::نیشنل میڈیا اتھارٹی کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں میڈیا کی جنگ کسی بھی طرح ہتھیاروں کی جنگ سے کم اہم نہیں، کیونکہ ذمہ دار میڈیا استحکام کے تحفظ اور عوامی شعور کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بات خلیج تعاون کونسل کے وزرائے اطلاعات کے غیر معمولی اجلاس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر رمضان عبداللہ النعیمی نے کی جبکہ جی سی سی کے رکن ممالک کے وزرائے اطلاعات نے بھی شرکت کی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں الحامد نے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے شرکاء کے لیے نیک تمنائیں اور سلام پہنچایا اور اجلاس کے انعقاد پر جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ اور مملکت بحرین کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی خطہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزررہاہے جوخلیجی یکجہتی اوراجتماعی عزم کا امتحان ہے۔اس صورتحال میں میڈیا کی خودمختاری کے خدوخال متعین کرنا اوراسے استحکام کے تحفظ میں مؤثرشراکت داربنانا ناگزیر ہے۔

الحامد نے کہا کہ خطے کو بلا اشتعال ایرانی حملوں کا سامنا ہے جنہوں نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا، ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی جارحیت خلیجی قیادت کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی اور نہ ہی عوام کو ترقی کے راستے سے ہٹا سکتی ہے۔

انہوں نے خلیجی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ الحامد نے خصوصاً متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کی چوکسی کو سراہا جنہوں نے سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز کو بروقت روک کر تباہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خودمختاری ایک ریڈ لائن ہے اور جس طرح میدان جنگ میں سرزمین کا دفاع ضروری ہے اسی طرح میڈیا میں ذمہ دارانہ بیانیہ بھی قومی عزم کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بحران کے دوران غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادائیگی شدہ چینلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے جھوٹ اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں، جو دراصل ایک "الیکٹرانک ہتھیار” کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انہوں نے خلیجی سطح پر تین نکاتی مشترکہ نظام کی تجویز پیش کی جس میں اسمارٹ مانیٹرنگ، تصدیق شدہ بیانیے کے ساتھ فوری تردید اور میڈیا اداروں کے درمیان فوری ہم آہنگی شامل ہے۔

الحامد نے زور دیا کہ ایک متحد خلیجی بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور میڈیا حکمت عملی کو محض ردعمل تک محدود رکھنے کے بجائے واقعات کی سمت متعین کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جس کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خودمختاری کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی اقدامات کی تجویزدی جن میں میڈیا پلیٹ فارمزکے غلط استعمال کے ذریعے تفرقہ انگیزی پھیلانے والی شخصیات کے خلاف کارروائی، گمنام اکاؤنٹس اور "الیکٹرانک مکھیوں” کے خلاف فیصلہ کن اقدامات، اور مصنوعی ذہانت سے لیس 24 گھنٹے فعال خلیجی مانیٹرنگ مرکز کا قیام شامل ہے جو حقیقی وقت میں غلط معلومات کی نشاندہی اور تجزیہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی اجلاس کی پیش رفت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ یہ دنیا کو واضح پیغام دیتی ہے کہ خلیجی ممالک کے پاس جدید میڈیا شعور، بحران کے مؤثر اجتماعی نظم اور ایک ذمہ دار بیانیہ موجود ہے جو استحکام اور امن کی عکاسی کرتا ہے۔

اس موقع پر جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ اجلاس میڈیا کے اہم کردار کے بارے میں مشترکہ شعور کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ پیشہ ورانہ میڈیا بیانیہ مسخ کرنے کی کوششوں کا مؤثر جواب دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فوجی کشیدگی ایک متحد اور مضبوط موقف کا تقاضا کرتی ہے اور میڈیا غلط معلومات کے خلاف پہلی دفاعی لائن کے طور پر کام کرتا ہے۔

اجلاس میں شریک وزراء نے جی سی سی ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری مقامات، اہم تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

وزراء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جی سی سی ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے قانونی حق کو محفوظ رکھتے ہیں اوراپنی خودمختاری،سلامتی اوراستحکام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اختیاررکھتے ہیں۔

انہوں نے مسلح افواج، سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔

اجلاس میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں شہیدہونے والوں اورمتاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیااور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاکی گئی،جبکہ خلیجی ممالک اوران کے عوام کے امن وسلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر جی سی سی ممالک کے سرکاری میڈیا اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ افواہوں اور غلط معلومات کی مہمات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور خلیجی معاشروں میں عوامی شعور اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }