NICVD Milestone – ایکسپریس اردو

10

پاکستان میں پہلی بار بچوں میں دل کی بے ترتیب دھڑکن (پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی) کے علاج کے لیے قائم (این آئی سی وی ڈی) کراچی کے خصوصی پروگرام کے تحت 500 کامیاب سرجریز مکمل کر لی گئی ہیں۔ ان سرجریز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بنتی ہے، تاہم یہ تمام جدید علاج مریضوں کو مفت فراہم کیا گیا۔

چند قدم چلتے ہی سانس پھول جانا، بار بار بے ہوش ہو جانا، دل کی دھڑکن کا اچانک بہت تیز یا انتہائی سست ہو جانا اور بعض اوقات بظاہر صحت مند بچوں یا نوجوانوں کا اچانک انتقال ہوجانا یہ وہ خاموش مگر جان لیوا علامات ہیں جن کا علاج چند سال پہلے تک پاکستان میں نہ ہونے کے برابر تھا۔

تاہم، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کراچی نے پہلی بار بچوں کے لیے قائم کیے گئے پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی پروگرام کے تحت 500 کامیاب سرجریز مکمل کرکے نہ صرف ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے بلکہ سینکڑوں بچوں کو نئی زندگی بھی دی ہے۔

پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن کا کہنا تھا کہ بچوں میں دل کی بے ترتیب دھڑکن ایک پیچیدہ مگر قابل علاج بیماری ہے، جو اکثر پیدائشی یا موروثی ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت بنیادی طور پر تین اقسام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جن میں پیدائشی طور پر دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر سست ہونے والے بچے، غیر معمولی طور پر تیز دھڑکن کے شکار مریض اور وہ بچے یا نوجوان شامل ہیں جنہیں موروثی بیماری کے باعث اچانک دل بند ہونے (کارڈیک اریسٹ) کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سست دھڑکن والے بچوں کو پیس میکر لگایا جاتا ہے، جبکہ تیز دھڑکن کے شکار مریضوں کا علاج الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی (ای پی اسٹڈی) اور کیتھیٹر ایبلیشن (کیتھٹر ایبلیشن) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس جدید طریقہ علاج میں سینہ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ ران یا بازو کی خون کی نالی کے ذریعے باریک کیتھیٹر دل تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں جدید تھری ڈی میپنگ کی مدد سے غیر معمولی برقی سگنلز پیدا کرنے والے حصے کی نشاندہی کرکے اسے ختم کیا جاتا ہے۔ یہ عمل عموماً دو سے تین گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محمد محسن کے مطابق ایک مریض کے علاج پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2021 سے پہلے پاکستان میں اس بیماری سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور روزانہ 30 سے 35 مریض او پی ڈی میں معائنے کے لیے آ رہے ہیں، جبکہ تقریباً 200 خاندان مستقل فالو اپ میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیماری کی عام علامات میں بچوں کی مناسب نشوونما نہ ہونا، بار بار بے ہوش ہونا، سینے پر بھاری پن محسوس ہونا، ادویات سے افاقہ نہ ہونا اور بعض صورتوں میں اچانک دل بند ہونے کا خطرہ شامل ہے۔ تشخیص کے لیے ابتدائی طور پر ای سی جی کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر 24 سے 72 گھنٹے یا اس سے زیادہ عرصے تک ہولٹر مانیٹرنگ اور خصوصی ریکارڈنگ ڈیوائسز کے ذریعے دل کی دھڑکن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد محسن نے بتایا کہ پروگرام کے تحت اب تک سب سے کم عمر صرف دو روز کے بچے کی کامیاب سرجری کی گئی، جس کا وزن صرف ڈیڑھ کلو تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بچہ آج چار برس کی عمر میں صحت مند زندگی گزار رہا ہے، جو اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر نے 500 کامیاب سرجریز مکمل ہونے کو ادارے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی کی یہ جدید سہولت پاکستان میں صرف این آئی سی وی ڈی میں دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر، خصوصاً دیگر صوبوں سے بڑی تعداد میں بچے علاج کے لیے کراچی آتے ہیں اور ادارے کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں جلد از جلد داخل کرکے علاج فراہم کیا جائے۔

انہوں نے اس کامیابی پر پیڈیاٹرک الیکٹروفزیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی مسلسل معاونت کے باعث مہنگا ترین علاج بھی مریضوں کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔

بہاولپور سے آنے والے 15 سالہ مریض کے والد نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ان کا بیٹا بچپن سے چند قدم چلنے یا دوڑنے پر ہانپ جاتا تھا۔ بہاولپور میں بہت علاج کرایا مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔ کسی نے این آئی سی وی ڈی کا بتایا تو وہ کراچی آئے۔ یہاں ڈاکٹروں نے بیماری کی صحیح تشخیص کی اور کامیاب سرجری کی۔ آج ان کا بیٹا پہلے سے کہیں بہتر ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔مریض کی والدہ نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس کی بیماری نے انہیں بہت پریشان کر رکھا تھا۔ ان کے شہر میں یہ سہولت موجود نہیں تھی۔ نجی اسپتال میں اسی سرجری پر 15 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے، لیکن این آئی سی وی ڈی میں ان سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا گیا۔ وہ ڈاکٹرز اور سندھ حکومت کے بے حد شکر گزار ہیں۔

سرجری کروانے والے 15 سالہ بچے نے بتایا کہ اس اب طبیعت پہلے سے کافی بہتر ہے۔ وہ اب بہت فرق محسوس کر رہے ہیں۔ یہاں کے ڈاکٹرز، نرسز اور پورے اسٹاف نے ان کا  بہت خیال رکھا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص اور جدید الیکٹروفزیالوجی علاج کے ذریعے دل کی بے ترتیب دھڑکن میں مبتلا بیشتر بچوں کو نارمل اور صحت مند زندگی دی جا سکتی ہے جبکہ این آئی سی وی ڈی کا یہ پروگرام پاکستان میں اس شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }