امیر خسروؒ – ایکسپریس اردو

11

امیر خسرو دہلوی 1253میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو، فارسی اور ہندی شاعری میں ایک منفرد لہجہ اور عبقری شخصیت ہیں۔ انھیں ’’امیر‘‘ کا خطاب دربار شاہی سے ملا، جو ان کے نام کا لازمی جزو بن گیا۔ وہ ’’طوطیٔ ہند‘‘ بھی کہلاتے ہیں، وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر بلکہ صوفی، موسیقار، مورخ اور ماہر لسانیات بھی تھے۔ ان کی شاعری اردو اور فارسی کا حسین امتزاج ہے۔ امیر خسرو بلاشبہ اردو کے پہلے شاعر ہیں، انھیں اردو زبان کا اولین معمار مانا جاتا ہے۔ انھوں نے فارسی اور ہندی( قدیم اردو) کو ملا کر ایک نئی زبان کی بنیاد رکھی، ان کی شاعری میں وطن کی مٹی کی خوشبو اور مقامی رنگ غالب ہے۔

انھوں نے شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے پانچ فارسی دیوان ہیں۔ انھوں نے گیارہ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور سات بادشاہوں کے دربار سے عزت و توقیر کے ساتھ منسلک تھے۔ انھوں نے پانچ تاریخی مثنویاں لکھیں۔ ان کی کہہ مکرنی، انمل بے جوڑ، پہیلیاں اور دوہے گیت بہت مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ زندہ ہیں، لیکن غالب کی طرح وہ بھی اردو کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے تھے، اسی لیے اتنی بے شمار اصناف میں شاعری کرنے کے بعد انھوں نے اردو میں کوئی مجموعہ شایع نہیں کیا۔ آج جو کچھ موجود ہے وہ ان کے چاہنے والوں کے طفیل ہے۔ ’’آب حیات‘‘ میں محمد حسین آزاد نے خسرو کی شاعری، انمل بے جوڑ، کہہ مکرنی اور پہیلیوں پر بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ فارسی اور اردو کو ملا کر اس طرح کے جملے ملتے تھے۔ اردو کو اس وقت ’’ہندوی‘‘ کہا جاتا تھا۔

پیا برادر آو رے بھائی۔۔۔۔ یہ نشین مادر بیٹھ ری مائی

اردو گیتوں میں خاص کر شادی بیاہ کے حوالے سے ان کا ایک منڈھا (شادی کا گیت) آج بھی بہت مقبول ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب خواتین ڈھولک پہ گیت گاتی تھیں تو یہ رخصتی کا گیت ضرور گاتی تھیں۔ آج سب کچھ بدل گیا ہے۔

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھیا بابل مورے

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں رے لکھیا بابل مورے

بھائیوں کو دیے بابل محل اور محلے

ہم کو دیا پردیس رے لکھیا بابل مورے

ہم تو رے بابل تیرے محل کی چڑیاں

بھریں اڑان اُڑ جائیں رے لکھیا بابل مورے

طاقوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوڑا سہیلیوں کا ساتھ رے لکھیا بابل مورے

کوٹھے کے نیچے سے پنیں (پاتلی) جو گزری

بیرن (بھائی) نے کھائی پچھاڑ رے لکھیا بابل مورے

متعدد زبانوں پر عبور رکھنے والا یہ باکمال شخص نہ صرف اقلیم شاعری پر حکمرانی کرتا تھا بلکہ دربار کی مصاحبتوں سے گزر کر میدان جنگ میں تلوار کے جوہر بھی دکھاتا تھا۔ عربی، ترکی، سنسکرت، اردو، ہندی اور بنگالی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے، موسیقی کی محفلوں میں اپنی گائیکی کا لوہا منواتے تھے، قادر الکلام ہونے کے علاوہ فارسی ادب میں بہ حیثیت مؤرخ اور نثرنگار کے ان کا اعلیٰ و ارفع مقام تھا۔ یہاں ہم صرف اردو شاعری اور دیگر اصناف کی بات کریں گے۔

ایک غزل جو اردو کی پہلی غزل سمجھی جاتی ہے جس کا ایک مصرعہ فارسی میں اور دوسرا ہندوی (اردوئے قدیم) میں یہ زبان غالب کے دور میں ’’ریختہ‘‘ بھی کہلائی کیونکہ مختلف زبانوں نے اسے ریختہ کیا تھا جیساکہ دیوار کو چونا، مٹی، اینٹ پختہ کرتی ہے یہی سبب ہے کہ اردوئے قدیم میں ترکی، عربی، پنجابی، فارسی اور انگریزی زبان کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ گویا اردو ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں ہر رنگ اور ہر خوشبو کا پھول مہک رہا ہے۔

  زحال مسکین مکن تفافل ورآئے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت جوں عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یہ اردو کی پہلی غزل ہے، اس کے علاوہ یہ گیت بھی دیکھیے جو صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی ویسے ہی مقبول ہیں، قوال حضرات امیر خسرو کا فارسی اور اردو کلام خوب گاتے ہیں۔

چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائے کے

 بات ادھم کہہ دینیں رے موسے نیناں ملائے کے

بل بل جاؤں میں تورے رنگ رجوا

اپنی سی رنگ دینیں رے موسے نیناں ملائے کے

 پریم بھٹی کا مدھوا پلائے کے متواری کردینہیں رے

موسے نیناں ملائے کے

گوری گوری بیاں ہری ہری چوڑیاں

بیاں پکڑ دھر لینیں رے موسے نیناں ملائے کے

خسرو نظام کے بل بل جائیے

موہے سہاگن کینیں رے موسے نیناں ملائے کے

یہ گیت خسرو نے حضرت نظام الدین اولیا کے لیے لکھا تھا، جو کہ حضرت نظام الدین اولیا کے سب سے چہیتے شاگرد تھے۔ جو اپنے مرشد کی وفات کے صرف چھ ماہ بعد راہی ملک عدم ہوئے۔ خسرو کا مزار دہلی میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے پائنتی ہے۔

اب ذرا ان کی پہیلیاں دیکھیے، جواب اسی میں موجود ہے۔

فارسی بولی، آئی نا، ترکی سوجھی پائی نا

مہندی بولتے آر سی آئے۔منہ دیکھو جو اسے بتائے

جواب ہے آئینہ

بیسوں کا سر کاٹ لیا۔ نہ مارا نہ خون کیا

جواب ہے ناخن

اب ذرا خسرو کے دو سخنے پڑھیے۔ دونوں باتوں کا ایک ہی جواب ہے۔

وزیر کیوں نہ رکھا، انار کیوں نہ چکھا۔ جواب: دانا نہ تھا

سموسہ کیوں نہ کھایا، جوتا کیوں نہ پہنا۔ جواب: تلا نہ تھا

گوشت کیوں نہ کھایا، ڈوم کیوں نہ لگایا۔ جواب: گلا نہ تھا

امیر خسرو نے موسیقی کے بہت سے راگ ایجاد کیے۔ بہار راگ، بسنت رات، قول، قلبانہ، ترانہ وغیرہ۔ طبلہ اور ستار بھی امیر خسرو ہی کی ایجاد ہیں۔ حضرت امیر خسرو علم و ادب کی ایسی مایہ ناز شخصیت ہیں کہ ان جیسی ہمہ گیریت کسی اور شاعر یا ادیب میں نہیں پائی جاتی۔ ساری دنیا کے ادب میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک شخص میں اتنے کمالات اکٹھے ہوگئے ہوں۔ شاہی درباروں سے وابستگی کے باوجود حضرت نظام الدین اولیا کی بارگاہ میں حاضری دینے میں کبھی انھوں نے کوتاہی نہیں برتی۔ امیر خسرو کی ایک اور غزل قوالی کے طور پر گائی جاتی ہے، درج ذیل شعر دیکھیے:

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہ ہر سو رقص بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

ترجمہ:- میں نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں میں کل رات تھا۔ ہر طرف عشق کے مارے تڑپ رہے تھے۔ یہ غزل محض ایک روایتی غزل نہیں ہے بلکہ یہ امیر خسرو کی اپنے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیا کی محفل سماع میں حالت وجد میں کہی گئی تھی۔ غزل کے آخری شعر کے مطابق یہ ایک نعتیہ غزل ہے جس میں محبوب حقیقی (اللہ) اور محبوب مجازی (رسول اللہؐ) کی محفل کا ذکر ہے۔ اس کلام میں معراج کے واقعے کا بھی ذکر ہے۔ یہ اشعار صوفیانہ کیفیت حیرت اور وجد کی انتہا کو بیان کرتا ہے، جہاں دنیاوی ہوش و حواس ختم ہو جاتے ہیں ’’رقص بسمل‘‘ سے مراد وہ صوفیا ہیں جو عشق الٰہی میں تڑپ رہے ہوں۔

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو

محمد شمع محفل بود شب جائے کے من بودم

یعنی اس لامکاں کی بزم میں خدا خود میر مجلس تھا اور نبی کریمؐ شمع محفل تھے۔ یہ شعر عشق رسول کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غزل نصرت فتح علی اور امجد صابری نے بڑے دل سے گائی ہے کہ سننے والوں پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ پوری غزل عشق الٰہی اور عشق رسول کے گرد گھومتی ہے۔اپنی آخری عمر میں حضرت نظام الدین اولیا سے بیعت کے بعد ان میں تصوف اور درویشی کا جذبہ ابھر کر سامنے آیا۔ وہ صرف ایک مدح گو شاعر نہیں تھے بلکہ ایک بذلہ سنج ندیم اور خوش بیاں مصاحب کے بھی رہی ہے۔ امیر خسرو کا انتقال 27 ستمبر1325ء بمطابق 725 ہجری ہے۔ دلی جانے والے لوگ جب درگاہ نظام الدین اولیا جاتے ہیں تو امیر خسرو کی قبر پہ بھی فاتحہ پڑھتے ہیں۔ آخری عمر میں وفات سے چند دن پہلے خسرو نے یہ دوہا کہا تھا:

گوری سوئے سیج پہ مکھ پہ ڈارے کیس

چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }