کراچی:
پاپوش نگر پولیس نے صرافہ بازار کے قریب 13 اگست کی رات فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کا معمہ حل کرلیا ، خاتون کے مالک مکان سے ہوٹل میں اتفاقیہ گولی چلنے سے خاتون ہلاک ہوئی،پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان کے مطابق 13 اگست جمعرات کی شب پاپوشنگر کے علاقے صرافہ بازار میں فائرنگ سے 35 سالہ ندا زوجہ چاند کے جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ خاتون نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی ہے ، پاپوشنگر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف واقعہ کی اصل وجہ کا معلوم کیا بلکہ ملزم عمران ولد جاوید کو بھی گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔
پاپوشنگر پولیس نے گرفتار ملزم کا ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے جس میں وہ فائرنگ کے واقعے متعلق بتا رہا ہے کہ فیملی کے ہمراہ ہوٹل پر کھانا کھا رہے تھے ، رات کو بارہ بجے کے قریب آتشبازی ہو رہی تھی اس دوران اس نے اپنے پاس موجود اسلحے سے 2 فائر کیے جس کے بعد میگزین نکال لیا لیکن تیسری گولی چمبر میں تھی اور اسلحہ میز پر رکھتے ہوئے اتفاقیہ گولی چل گئی جو میری کزن ندا زوجہ چاند کے سینے پر لگی جس لیکر وہ اسپتال گیا لیکن وہ دم توڑ گئی۔
گرفتار ملزم نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ مجھے سب پتہ ہے کہ مجھ سے کیا ہوا ہوگیا ہے۔
اس حوالے سے ایس ایچ او پاپوشنگر شوکت نے بتایا کہ ملزم سے جو اسلحہ ملا ہے اس کا لائسنس وہ پیش نہیں کر سکا جس پر پولیس نے اس کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مقدمہ سندھ آرمز ایکٹ کی دفعہ کے تحت درج کرلیا ، انھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والی خاتون ندا 4 سالہ بیٹے کی ماں تھی جو کہ گرفتار ملزم عمران کی کرایہ دار تھی دونوں گھرانوں کا آپس میں میل جول تھا جس وقت گولی چلنے کا واقعہ پیش آیا گرفتار ملزم کی اہلیہ اور مقتولہ ندا ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے اور اس دوران ملزم نے ہوٹل سے باہر نکل کر جشن آزادی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ اور واپس ہوٹل میں آکر اپنا اسلحہ میز پر رکھ رہا تھا کہ اتفاقیہ گولی چل گئی جو خاتون ندا کو لگی اور دم توڑ گئی۔