صادق و امین ﷺ

12

رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی سچائی، امانت، حسنِ اخلاق، وعدے کی پابندی اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ﷺ کی سچائی صرف نبوت کے بعد سامنے نہیں آئی، بلکہ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کا کردار ایسا پاکیزہ تھا کہ آپ ﷺ کے مخالفین بھی آپ ﷺ کی سچائی سے انکار نہیں کرسکتے تھے۔

اللّہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو انسانیت کی راہ نمائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں بتایا بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ سکھایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ انسان کی اصل خوب صورتی اس کے مال، عہدے یا ظاہری حیثیت میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہے۔ زبان سچی ہو، معاملات صاف ہوں، امانت میں خیانت نہ ہو، وعدہ پورا کیا جائے اور کسی کا حق نہ مارا جائے، یہی ایک اچھے مسلمان کی پہچان ہے۔

سچائی آپ ﷺ کی پہچان تھی

رسول اللّہ ﷺ کی زندگی میں جھوٹ کا کوئی مقام نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی لوگوں کے ساتھ سچائی اور دیانت کا معاملہ کیا اور نبوت کے بعد بھی پوری زندگی اسی راستے پر قائم رہے۔ قرآن کریم میں اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین حقیقت میں رسول اللّہ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے تھے، بلکہ وہ اللّہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ (القرآن، سورہ الانعام: 33 ) یہ آیت رسول اللّہ ﷺ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔

آپ ﷺ کے مخالفین آپ ﷺ کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن وہ آپ ﷺ کی سابقہ زندگی پر جھوٹ کا الزام بھی نہیں لگا سکتے تھے۔ یہ ایک بہت اہم بات ہے۔ اگر کوئی شخص طویل عرصہ لوگوں کے درمیان رہے، ان کے ساتھ کاروبار کرے، ان کے ساتھ معاملات کرے اور پھر اچانک اللّہ کی طرف سے پیغام لانے کا دعویٰ کرے، تو سب سے پہلے اس کے مخالفین اس کی سابقہ زندگی کو دیکھیں گے۔ لیکن رسول اللّہ ﷺ کے معاملے میں ایسا کوئی کردار سامنے نہیں آیا جس سے آپ ﷺ کی صداقت پر سوال اٹھایا جا سکے۔

صفا پہاڑی پر قریش کی گواہی

جب اللّہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللّہ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا تو آپ ﷺ نے قریش کو جمع کیا اور انہیں اللّہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی۔آپ ﷺ نے قریش سے پوچھا کہ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم میری بات مانو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کو سچا ہی جانتے ہیں، ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔

یہ جواب بہت اہم تھا۔ اس وقت تک قریش میں بہت سے لوگ آپ ﷺ کی دعوت کے مخالف ہوچکے تھے، لیکن وہ بھی آپ ﷺ کی سچائی سے واقف تھے۔ یعنی دعوتِ اسلام سے اختلاف اپنی جگہ تھا، مگر محمد ﷺ کی شخصیت پر جھوٹ کا الزام لگانا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ (صحیح بخاری، حدیث 4770) یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کا کردار اتنا صاف ہونا چاہیے کہ اختلاف رکھنے والا شخص بھی اس کی سچائی کا انکار نہ کر سکے۔

ہرقل کے سامنے گواہی

رسول اللّہ کی صداقت کے بارے میں سب سے مضبوط واقعات میں سے ایک واقعہ روم کے بادشاہ ہرقل کا ہے۔ ہرقل نے ابوسفیان (جو بعد میں ایمان لاکر صحابیؓ کے درجے پر فائز ہوئے) سے رسول اللّہ کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ اس وقت ابوسفیان مسلمان نہیں ہوئے تھے اور رسول اللّہ کے مخالف تھے۔ ہرقل نے پوچھا کہ کیا محمد ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کبھی جھوٹ بولا تھا؟ ابوسفیان نے جواب دیا کہ نہیں۔ ہرقل نے پھر پوچھا کہ کیا وہ عہدشکنی کرتے ہیں؟ ابوسفیان نے جواب دیا کہ نہیں، البتہ کبھی کوئی معاہدہ ہو تو اس کی مدت پوری ہونے تک اس کی پابندی کرتے ہیں۔

ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کی ان صفات سے یہ نتیجہ نکالا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، وہ اللّہ تعالیٰ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے۔ یہ واقعہ رسول اللّہ ﷺ کی صداقت کی بہت بڑی گواہی ہے، کیوںکہ یہ گواہی کسی مسلمان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی طرف سے تھی جو اس وقت آپ ﷺ کا مخالف تھا۔ (صحیح بخاری، حدیث 7 ) یہاں ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے کہ انسان کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ دوست تو دوست، دشمن بھی اس کی دیانت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو۔

امانت داری آپ ﷺ کی عظیم صفت تھی

سچائی کے ساتھ امانت داری بھی رسول اللّہ ﷺ کی زندگی کا نمایاں وصف تھی۔ امانت صرف کسی کے پاس رکھی ہوئی رقم یا سامان کا نام نہیں۔ کسی کا مال امانت ہے، کسی کی ذمہ داری امانت ہے، عہدہ امانت ہے، ملازمت امانت ہے، کسی کا راز امانت ہے اور کسی کا حق بھی امانت ہے۔ قرآن کریم میں اللّہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائی جائیں۔

(القرآن، سورہ النساء: 58) رسول اللّہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں امانت کا حق ادا کیا اور امت کو بھی اس کی تعلیم دی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمان کو صرف نماز اور روزے میں اچھا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے معاملات بھی صاف ہونے چاہییں۔ اگر کوئی شخص عبادت تو بہت کرے لیکن لوگوں کے حقوق مارے، امانت میں خیانت کرے یا دوسروں کو دھوکا دے تو اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت سے بچنا

رسول اللّہ ﷺ نے منافق کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری، حدیث 33؛ صحیح مسلم، حدیث 59) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت معمولی چیزیں نہیں ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں بعض لوگ جھوٹ کو بہت معمولی سمجھتے ہیں۔ کوئی کاروبار میں جھوٹ بولتا ہے، کوئی اپنے کام کے بارے میں، کوئی رشتے کے معاملے میں اور کوئی صرف مذاق کے نام پر جھوٹ بولتا ہے۔ لیکن رسول اللّہ ﷺ نے ہمیں اس سے سختی سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ اس کی زبان اور اس کا عمل دونوں سچے ہوں۔

کاروبار میں دیانت داری

رسول اللّہ ﷺ کی تعلیمات میں کاروباری معاملات کے لیے بھی واضح راہ نمائی موجود ہے۔ ایک مسلمان تاجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خریدار کو دھوکا نہ دے۔ چیز کا عیب معلوم ہو تو اسے چھپائے نہیں۔ جھوٹی قسمیں نہ کھائے۔ غلط بیانی نہ کرے۔ ناپ تول میں کمی نہ کرے اور کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ کاروبار میں وقتی فائدے کے لیے جھوٹ بولنا بظاہر انسان کو فائدہ دے سکتا ہے، لیکن اس سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ جو تاجر سچائی اختیار کرتا ہے، لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کی شہرت بنتی ہے اور اس کے معاملات میں خیر پیدا ہوتی ہے۔ اسلام ہمیں صرف زیادہ کمانے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ حلال اور پاکیزہ طریقے سے کمانے کی تعلیم دیتا ہے۔

ملازمت اور عہدہ بھی امانت ہے

آج بہت سے لوگ امانت کو صرف پیسے تک محدود سمجھتے ہیں، حالاںکہ ملازمت بھی امانت ہے۔ اگر کسی ادارے نے کسی شخص کو ایک خاص وقت کے لیے کام پر رکھا ہے تو اس وقت کو ایمان داری سے دینا اس کی ذمے داری ہے۔ کام میں جان بوجھ کر سستی کرنا، وقت ضائع کرنا، ادارے کے وسائل کا غلط استعمال کرنا یا ذمے داری پوری نہ کرنا امانت کے خلاف ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کسی عہدے پر فائز ہو تو وہ عہدہ بھی اللّہ کی طرف سے ایک ذمے داری ہے۔ اسے اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائی جائیں۔

(القرآن، سورہ النساء: 58)

دوسروں کے حقوق کا خیال

رسول اللّہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی انسان کا حق معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی کا مال ہو، وقت ہو، محنت ہو، عزت ہو یا اعتماد، سب کی قدر کرنی چاہیے۔ اگر کسی کا مال ہمارے پاس ہے تو اسے واپس کرنا چاہیے۔ اگر کسی نے ہمیں اپنا راز بتایا ہے تو اسے دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی نے ہمیں کوئی ذمے داری دی ہے تو اسے پوری دیانت سے ادا کرنا چاہیے۔ اور اگر ہم سے کسی کا حق ضائع ہو گیا ہے تو اسے واپس کرنے اور معافی مانگنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی امانت داری ہے۔

آج کے معاشرے کو سچائی کی ضرورت ہے

آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل صرف اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ سچائی اور امانت داری کم زور ہورہی ہے۔ جھوٹے دعوے، غلط معلومات، کاروبار میں دھوکا، وعدہ خلافی، ملازمت میں خیانت، دوسروں کے حقوق پر قبضہ اور معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولنا ہمارے معاشرتی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ اگر ہر شخص صرف اپنی اصلاح شروع کر دے تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایک تاجر سچ بولے، ایک استاد دیانت سے پڑھائے، ایک طالب علم محنت اور سچائی اختیار کرے، ایک ملازم اپنی ذمے داری پوری کرے، ایک والد اپنے بچوں سے سچ بولے، ایک بیوی اور شوہر ایک دوسرے کے ساتھ دیانت دار ہوں اور ایک ذمے دار شخص اپنے عہدے کو امانت سمجھے، تو پورا معاشرہ بہتر ہوسکتا ہے۔  

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }