وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے حکومت کی جانب سے سانحہ پمز میں اولاد کھونے والے دونوں خاندانوں کو بچوں کی دیکھ بھال کیلئے پچاس لاکھ روپے کا امدادی چیک دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی معاونت کسی صورت ان کے نقصان کا نعم البدل نہیں ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سی ڈی اے کے ڈپٹی کمشنز کے ہمراہ سانحے میں اپنے جگر گوشوں کو کھونے والے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔
بعد ازاں دونوں وزراء نے راولپنڈی میں بھی متاثرہ خاندان سے ان کے گھر میں ملاقات اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزراء نے وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی جانب سے متاثرہ ماؤں اور اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے جسے محض الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، ہم متاثرہ ماؤں کے درد کو محسوس کرنے اور ان کے غم میں شریک ہونے کے لیے ان کے پاس آئے ہیں۔
مصطفی کمال نے کہا کہ ایک ماں سے اس کا بچہ جدا ہونے کا دکھ ایسا سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں کیونکہ جانبحق ہونے والے بچے واپس نہیں آسکتے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت اور پوری قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پیارے بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مصطفی کمال نے حکومت کی جانب سے دونوں خاندانوں کو بچوں کی دیکھ بھال کیلئے پچاس لاکھ کا چیک پیش کیا اور کہا کہ یہ مالی معاونت کسی صورت ان کے نقصان کا نعم البدل نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کی ذمہ داری میں شریک ہونے کا ایک معمولی سا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات جاری ہیں، اس المناک حادثے میں مرتکب افراد کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزراء نے ایک بار پھر متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے