پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہوگی کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر سے آگے نہ جائے لیکن ہم اپنے فیصلوں میں با اختیار ہیں کہ مارچ کب اور کیسے کرنا ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر سے آگے نہ جائے لیکن ہم اپنے فیصلوں میں با اختیار ہیں اور اس کا فیصلہ پی ٹی آئی قیادت فیصلہ کرے گی کہ ہم نے اپنا لانگ مارچ کب کیا اور کیسے کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ سے متعلق ہم نے میٹنگ بلائی ایم این ایز سے مشورہ کیا، سب سے مشورہ کیا ، لوگوں سے بھی رائے لی تھی، اکثریت کی رائے تھی کہ لانگ مارچ کو آگے لے جایا جائے، ہمارا مقصد اسلام آباد پر قبضہ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے، ہم نے محمود خان اچکزئی اور مولانا صاحب کو اعتماد میں لینا تھا، اچکزئی صاحب پہلے متفق نہیں تھے، پھر ان کو راضی کیا گیا۔
صدر پی ٹی آئی کے پی کا کہنا تھا کہ جب مارچ کے لیے نکلے کے بغیر ہی ہمارا پیغام حکومت کو مل گیا تو ہمارے نکلنے کا کیا مقصد؟، جب ہمارے نکلے بغیر مقصد پورا ہو رہا ہے تو پھر ہم کیوں نکلیں؟ وفاقی وزراء کو میں سنجیدہ نہیں لیتا، ہماری تیاری نہیں تھی تو پھر وفاقی حکومت نے اتنی تیاری کیوں کی؟۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پولیس تعینات، فوج اور رینجرز کو طلب کیا ،دنیا کی تاریخ میں ایسی تیاری نہیں کی گئی جتنی اس دفعہ وفاقی حکومت نے کی، ہماری تو لانگ مارچ کی بھر پور تیاری تھی ، حکومت کے اتنے ادارے ہیں تو حکومت ان پر انحصار کرنا چھوڑ دیں، حکومت کو پتا ہے کہ ہماری تیاری کیا ہے، ہمارا مقصد تھا کہ ہم اپنے لوگوں کو 7 دنوں تک کیوں تھکائیں، لانگ مارچ اس لیے کرتے کہ ہماری آواز نہیں سنی گئی۔
جنید اکبر کا کہنا تھا کہ بانی کے کیسز میں تو کچھ ہے ہی نہیں، عدالتوں میں لگتے ہی کیسز فارغ ہو جائیں گے، ہمارے کیسز عدالتوں میں نہیں لگتے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہوایساہوا تو ہمارے کیسز ویسے ہی ختم ہو جائیں گے۔
صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے کہا کہ عدالتیں آزاد ہو جائیں گی تو ہمارے کیسز بھی ختم ہو جائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں۔