بچوں کے نان نفقہ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ جاری

9

لاہور:

بچوں کے نان نفقہ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے والدین کی رضامندی سے بچوں کا ماہانہ خرچہ 30،30 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔

جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ والدین آپس میں سمجھوتا کرسکتے ہیں، لیکن بچے کے حق کا سودا نہیں کرسکتے۔ والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچے کا نان نفقہ کم یا ختم نہیں کرسکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کا نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے۔ والدہ بطور سرپرست بچے کا نان نفقہ معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں ۔ والدین کسی سمجھوتے کے ذریعے بچے کا قانونی حق کم یا ختم نہیں کرسکتے۔

لاہور ہائیکورٹ کے مطابق فیملی کورٹ صرف والدین کے سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں۔ عدالت کو نان نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی ضروریات اور فلاح و بہبود کا جائزہ لینا ہوگا، جبکہ والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ والدین کی رضامندی سے زیادہ بچے کی ضروریات اور مفاد کو اہمیت حاصل ہے۔ کیس میں فیملی کورٹ نے نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا نان نفقہ 30،30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا تھا، جو بچوں کی والدہ کی رضامندی کی بنیاد پر طے کیا گیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجواتے ہوئے حکم دیا کہ بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }