پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ صدی بعد یورپی نسل کے نایاب وائٹ ٹیل ایگل (سفید دم عقاب) کی موجودگی سامنے آئی ہے۔
کراچی کے برڈ لور ہارون یوسفزئی نے ایکسپریس نیوز سے بات چیت میں بتایا کہ اکتوبر 2025 میں دنیابھر کے سرد ممالک سے پاکستان آنے والے مہمان پرندوں پر تحقیق کے دوران انہوں نے نایاب عقاب وائٹ ٹیل ایگل کا سراغ لگایا جسے انتہائی خراب اور زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا۔
ہارون یوسفزئی کے مطابق وائٹ ٹیل ایگل یورپ سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچا تھا اور اس کی حالت انتہائی تشویشناک تھی،کیونکہ شکاری اسے دیگرپرندوں کو ٹریپ کرنے کے لیےاستعمال کررہےتھے، نایاب عقاب کی دونوں آنکھیں دھاگے سے سلی ہوئی تھیں جبکہ وہ آنکھوں کے شدید انفیکشن اور دیگر زخموں کا بھی شکار تھا۔
انہوں نے بتایا کہ عقاب کی خراب جسمانی حالت کے باعث اس کے زندہ بچنے کے امکانات بھی متاثر تھے، تاہم بروقت ریسکیو کے بعد اسے بحالی کے لیے مخصوص درجہ حرارت والے ماحول میں رکھا گیا، جہاں اس کی نگہداشت اور علاج جاری رہا۔
ہارون یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وائٹ ٹیل ایگل کی موجودگی تقریباً 150 سال بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ نایاب عقاب کو مکمل صحت یابی کے بعد دسمبر میں دوبارہ قدرتی ماحول میں آزاد کرنے کا منصوبہ ہے۔
ان کے مطابق وائٹ ٹیل ایگل کو اس کے قدرتی مسکن کی جانب واپسی کے لیے مارگلہ ہلز سے آزاد کیا جائے گا، جبکہ آزادی سے قبل عقاب کو جی پی ایس ٹیگ بھی لگایا جائے گا،جی پی ایس ٹیگ کے ذریعے نایاب عقاب کی نقل و حرکت، ہجرت کے راستوں اور قدرتی مسکن میں اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے گی، جس سے پاکستان میں اس نایاب مہاجر پرندے کی موجودگی اور نقل مکانی کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
ہارون یوسفزئی کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاکستان آنے والے مہمان پرندوں پر شروع کی گئی تحقیق بالآخر اس نایاب سفید دم عقاب تک پہنچنے کا ذریعہ بنی،ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ صدی بعد پاکستان آنے والے اس نایاب مہمان کو صحت یابی کے بعد مارگلہ ہلز سے آزاد کرکے دوبارہ قدرتی مسکن کی طرف روانہ کیا جائے گا۔