متحدہ عرب امارات کی عدالت نے سوڈانی فوج کو غیر قانونی طور پر اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے جرم میں آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گوریونوف مشین گنوں کا گولہ بارود امارات لایا گیا اور اسے طبی آلات ظاہر کرکے سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان منتقل کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔
یہ گولہ بارود پکرا گیا اور ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ابوظہبی کی وفاقی اپیل عدالت نے مجرم قرار دیے گئے افراد کو سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے منی لانڈرنگ کے جرم میں بعض ملزمان پر فی کس 10 لاکھ درہم جرمانہ بھی عائد کیا۔ 6 کمپنیوں پر فی کس 10 لاکھ درہم جرمانہ اور ان کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے تحویل شدہ رقم میں سے 15 لاکھ 45 ہزار درہم ضبط کرنے اور متعلقہ اسلحہ، موبائل فون اور مواصلاتی آلات قبضے میں رکھنے کا حکم بھی دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ تجارت اور رقوم کی منتقلی سے متعلق سرگرمیوں نے امارات کے مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا کیا۔
یاد رہے کہ اس کیس میں 10 افراد پر مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں سے دو کو عدالت نے عدم ثبوت پر الزامات سے بری بھی کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی غیر قانونی خرید و فروخت کے لیے کمپنیوں، بینک کھاتوں اور نقد رقوم کا استعمال کیا۔
واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان اقتدار کے لیے جنگ جاری ہے جس میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔