متحدہ عرب امارات میں حملوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر ممنوع، اٹارنی جنرل کا انتباہ

173

متحدہ عرب امارات میں حملوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر ممنوع، اٹارنی جنرل کا انتباہ

ویڈیوبنانے اور شئیرکرنے پرمتعلقہ فرد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

ابوظہبی(اردوویکلی)::-متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے خبردار کیا ہے کہ حملوں یا گولہ باری کے واقعات کے مقامات یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا، شائع کرنا یا انہیں شئیرکرنا ممنوع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا مواد یا غیر مصدقہ معلومات شائع کرنے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے اور ملک کی اصل صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے واضح کیا کہ ریاستی ادارے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں تاکہ معاشرتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری اقدامات کے ساتھ ساتھ ملک میں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے واقعات کو متعلقہ حکام طے شدہ سکیورٹی اور دفاعی نظام کے تحت سنبھالتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ واقعہ کے مقامات کی فلم بندی سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کے مواد کی اشاعت متعلقہ اداروں کی کارروائیوں اور حفاظتی اقدامات کو متاثر کر سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پہلے بھی اس حوالے سے انتباہات جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود بعض افراد واقعہ کے مقامات کی ویڈیوز بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسی ویڈیوز یا گمراہ کن معلومات کی اشاعت قانون کی خلاف ورزی ہے اگر اس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، جھوٹی خبریں عام ہوتی ہیں یا عوامی نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تصاویر لینے یا انہیں دوبارہ شیئر کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موجودہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے مزید خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت یا ڈیجیٹل ترمیم کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز یا مناظر کی تشہیر بھی ممنوع ہے، جن میں جھوٹے طور پر میزائل حملوں، تنصیبات پر حملوں یا ایسے واقعات کو منسوب کیا جاتا ہے جو پیش ہی نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کا مواد تیار کرنا یا شائع کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے اور پبلک پراسیکیوشن ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کرے گی۔اٹارنی جنرل نے عوام پر زور دیا کہ وہ قوانین کی پابندی کریں اور معلومات کے حصول کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں تاکہ قومی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }