ابا جی تسیں ویاہ کر لو

15

’’ویکھ دھئے ، میرے بچیاں دا تے دماغ خراب ہو گیا اے ‘‘… ’’ کیوں ماما جی، کیا ہو گیا؟‘‘ میں نے قدرے اونچی آواز میں سوال کیا- ’’ کہندے نے، ابا جی تسیں ہون ویاہ کر لو-‘‘ اتنا سا فقرہ بولتے وقت ان کا چہرہ لال گلال ہو گیا تھا جیسے یہ سوچ ان کے اپنے دماغ کی اختراع ہو-’’ تو اس میں حرج ہی کیا ہے، اگر آپ کے بچوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہی آپ سے کہہ رہے ہیں‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ میں، میرا مطلب ہے کہ میں ایس عمر وچہ ویاہ کردا چنگا لگاں گا‘‘؟ ’’ ماما جی آپ کے بچے اگر چاہتے ہیں کہ آپ اس عمر میں سکون اور آرام کی زندگی گزاریں تو آپ اعتراض مت کریں‘‘

’’ پر لوگ کی کہن گے؟‘‘ وہ سٹپٹا کر بولے۔ مجھ سے بات کرنے کا ان کا مقصد یہ تھا کہ میں ان کے بچوں کو قائل کروں کہ ان کی شادی کی عمرنہیں تھی اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت سمجھتے تھے۔ 

جس عمر میں وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ تنہا رہ گئے تھے اور انھوں نے اپنے بچوں کی وجہ سے انھیں سوتیلی ماں سے بچا کر رکھا اور خود اپنی خوشیوں کو تیاگ دیا تھا، اب وہ چھوٹے چھوٹے بچے بڑے بھی ہو گئے تھے اور خود بال بچوں والے ہو گئے تھے، اب وہ اپنے باپ کو مشورہ دے رہے تھے بلکہ انھیں مجبور کر رہے تھے کہ وہ شادی کر لیں۔ میں انھی کے کہنے پر ماما جی کو ملنے کے لیے آئی تھی کہ ان سے بات کر کے انھیں سمجھاؤں۔

ماما جی کی عمر اس وقت اڑسٹھ سال کے لگ بھگ تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری چند برس اسی طرح گزار سکتے تھے۔ ان کے تینوں بیٹوں کی اس وقت اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی اور انھیں اس بات کا شدت سے احسا س ہوتا تھا کہ ان کے پاس اپنے باپ کو دینے کے لیے باقی سب کچھ تھا ماسوائے وقت کے۔

ان کی بیویاں بھی ملازمت پیشہ تھیں اور اکلوتی بیٹی بیاہ کر پردیس چلی گئی تھی۔ بیٹوں کے بچے بھی کم عمر تھے اور انھیں بھی اپنے والدین کی بھر پور توجہ درکار تھی۔ اس سارے منظر نامے میں جو توجہ سے محروم ہو گیا تھا وہ وہی تھا جس کی ساری توجہ کبھی اپنے انھی چاروں بچوں پر تھی،اس کی ساری دنیا یہی بچے تھے اور یہی کل کمائی کہ جن پر اس نے اپنی ساری عمر کی کمائی لگا دی تھی۔

ان بچوں کے پاس اس کے سوا کوئی حل نہ تھا کہ وہ کوئی ضرورت مند عورت ڈھونڈ کر اپنے باپ کے لیے زندگی کا ساتھی بنا دیں اور اس کی زندگی سہل ہوجائے ۔ باپ کو تنہا ہوتا دیکھنا ان کے لیے سب سے مشکل تھا مگر اب مان کر ہی نہ دے رہے تھے۔’’ ماما جی کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں آپ؟‘‘

میں نے سوال کیا ۔’’ اپنے رشتے دار، محلے دار اور ملن جلن والے… سارے ہی کہن گے بابا پاگل ہو گیا اے۔ ایس عمر دے وچہ جنانی ڈھونڈدا اے‘‘ انھوں نے اپنے خوف کا اظہار کیا ۔’’ جب آپ کی زوجہ اس دنیاسے گئیں اور آپ کے پاس چھوٹے چھوٹے چار بچے رہ گئے جنھیں آپ نے پال پوس کر بڑا کرنا تھا، اس وقت یہ سب لوگ کہاں تھے۔

یہ بتائیں کہ آپ کے ان رشتہ داروں اور دوستوں نے اس وقت آپ کے لیے کیا کیا جب آپ ان بچوں کے ساتھ اس پریشانی میں مبتلا ہوئے ہوں گے کہ ان بچوںکو کیسے پالیں۔آپ کی ملازمت ہو گی، گھر کو چلانے کا نظام منتشر ہو گیا ہو گا، چار بچوں کی ضروریات اور تعلیم کے مسائل نے منہ کھول لیا اور آپ اس محاذ پر تنہا تھے، اب آپ ان لوگوں کی باتوں کے خوف سے اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔

لوگ اگر چار دن باتیں کریں گے تو اس کے بعد انھیں کوئی نیا موضوع مل جائے گا۔آپ کو اس کے بارے میں سوچ کر اپنی زندگی کے فیصلے نہیں کرنا چاہئیں‘‘ میری بات سے پر وہ خاموش ہو گئے، غالبا قائل ہو گئے تھے کہ خاموشی نیم رضا مندہ ہوتی ہے۔

’’ اب میں نے شادی کر کے کیا کرنا ہے، زندگی کے چوبیس برس میںنے شادی کے بغیر گزا ر لیے۔ تم ٹھیک کہتی ہو، اس وقت کسی رشتہ دار کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے تھا۔ میں اس وقت جوان بھی تھا، بچوں کے ساتھ تھک بھی جاتا تھا اور اس وقت جی چاہتا بھی تھا کہ کوئی تو ہو جو میری تھکاوٹ کو بھی چن لے،اب کیا فائدہ!‘‘ ان کے لہجے میں یاس تھی۔

’’ زندگی میں انسان کو ہر وقت دوسراہٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو ہمہ وقت صرف ایک ایسی عورت نہیں چاہیے ہوتی ہے جو آپ کے بچوں کی ماں ہو اور آپ کاساتھ دے،آپ کی جسمانی اور ذہنی ضروریات کو پورا کرے، عمر کے اس دور میں بھی جب آپ کے بچے چاہے کوشش کر کے آپ کو باری باری ملنے کو آتے ہیں،آپ اپنے گھر کا نظام خود ہی کھینچ تان کر چلاتے ہیں۔

اب بھی آپ کو ساتھی چاہیے جو آپ کے ساتھ گھر میں رہے، آپ ایک دوسرے کے لیے ہوں اور آپ کے بچوں کا آپ کے پاس آنا اور بھی خوشگوار ہوجائے جب وہ صرف آپ کو ملنے کے لیے نہ آئیں بلکہ ایک آباد گھر میں رونق میں اضافہ کرنے کو آئیں۔ آپ کے بچے اپنی مصروف ترین زندگیوں میں بھی ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ جس دن ان میں سے کوئی بھی آپ کو ملنے کو نہیں آتا، اگر اس دن آپ کو کچھ ہو جائے تو؟‘‘

’’ کچھ ہو تو بندہ کال کر لیتا ہے بچوں کو‘‘ انھوں نے فوری حل پیش کیا ۔ ’’ بسا اوقات اس کا بھی وقت یا موقع نہیں ملتا ماماجی، اگر آپ غسل خانے میں پھسل کر گر جائیں یا کسی وقت آپ کو ایسی تکلیف ہو جائے کہ آپ فون تک بھی نہ پہنچ سکیں یا اس  panic buttonکو بھی نہ دبا سکیں جس کا لنک براہ راست آپ کے تینوں بیٹوں کے پاس ہے۔

مجھے علم ہے کہ آپ کو وہ کیمروں کے ذریعے بھی دیکھ سکتے ہیں مگر کسی وقت ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی آپ کو نہ دیکھ رہا ہو اور آپ کو بہت سیریس ایمر جنسی ہو جائے‘‘۔ ’’ ہونے کو توکچھ بھی ہوسکتا ہے، اگر قسمت خراب ہو تو، آخر کسی بہانے مرنا بھی تو ہے۔ اس وقت قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں، کیا شادی کرنا ہے۔‘‘

’’ آپ کو کیا علم، کسی کو بھی علم نہیں ہوتا ہے کہ اس نے کس روز قبرمیں اترنا ہے، اگر علم ہوتا تو ہم جینا ہی چھوڑ دیتے ‘‘ وہ اس کے بعد خاموش ہو گئے اور میںنے کے بچوں کو بتا دیا کہ وہ اپنے ابا کے لیے رشتہ تلاشیں جو انھوں نے پہلے سے ہی تلاشا ہوا تھا اور جلد ہی ماما جی کا نکاح پڑھا کر اپنے خاندان ہی کی ایک بیوہ عورت کو مامی جی بنا دیا گیا۔

ا س کے بعد ان کے گھر رونقیں لوٹ آئیں اور ماما جی کی خوشیاں بھی۔ ایک اچھی عورت کا ساتھ نصیب ہوا تو وہ پہلے جیسے ماما جی بن گئے، خوش رہنے والے، ہنسی مذاق کرنے والے۔ سنجیدگی کا چولا اتر گیا اور خوشیاں ان کے چہرے پر نظر آنے لگیں-

آپ کے ارد گرد بھی کوئی نہ کوئی ایسا تنہا مرد یا عورت ہوں گے جنھیں عمر کے ہر حصے میں ساتھی کی ضرورت ہو گی۔ انھوں نے اپنے بچوں کے خاطر اور اس وقت شادی نہیں کی ہوگی جب وہ شادی کرسکتے تھے مگر دنیا کی باتوںکا خوف انھیں اپنے لیے فیصلہ نہیں کرنے دیتا اور وہ اپنی عمر کا بہترین حصہ تنہائی میں گزار دیتے ہیں۔

اہم ترین فیصلوں کے لیے بھی انھیں مشاورت کو کوئی ساتھی نہیں ملتا اور وہ ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ بیوہ یا مطلقہ کی شادی کروانا بھی ثواب کا کام ہے اورتنہا ہوجانے والے مرد کی بھی۔ عمر کے جس دور میں ہم سمجھتے ہیں کہ اب شادی کروا کر کیا کرنا ہے، ا سی دور میں انسان تنہائی کا زیادہ شکار ہوتا ہے یا اسے صحت کے مسائل ہوجاتے ہیں جن میں تنہائی کی وجہ سے اضافہ ہوجاتا ہے۔

ادھیڑ عمر میں شادیاں کرنے والوں کے لیے ہمارے معاشرے میں واقعی بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور وہ لوگ خوب اچھل اچھل کر باتیں کرتے ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ واسطہ، نہ کوئی نقصان نہ نفع، ان لوگوں کی پروا کرتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے لگیں تو زندگی بہت مشکل ہوجاتی ہے، اولا د کو ہی کسی نہ کسی وقت اس کا احساس کرکے کہنا ہوتا ہے، ’’ ابا جی آپ شادی کر لیں‘‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }