تو غنی از ھر دو عالم من فقیر!

10

سچ پوچھیے‘ تو علامہ اقبال کی شاعری کی فہم‘ بہت دیر میں آئی۔ انگریزی میں ان کی شہرہ آفاق کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam تو خیر لکھی ہی خواص کے لیے ہے۔ صرف ایک صفحہ کو پڑھنے اور ٹھیک سے سمجھنے کے لیے‘ ایک گھنٹہ سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ دقیق تصنیف Karl Marx کی Das Kapital ہے۔ جس کا ایک ورق پڑھنے کے لیے کم از کم ایک دن درکار ہے۔ سمجھنے کے لیے شاید اس سے بھی زیادہ ۔ بہر حال اسکول میں اکثر علامہ کی نظمیں ‘ پڑھی جاتی تھیں۔مگر ان کی بالکل سمجھ نہیں آتی تھی۔ ابتدائی تعلیم ‘ یعنی ساتویں تک ‘ لائل پور کے ایک انگریزی اسکول میں پڑھتا تھا۔وہاں بھی اسکول کی انتظامیہ ‘ علامہ کی مشہور نظمیں‘ کبھی کبھار ‘ دن کے آغاز میں پڑھوا دیتیں تھیں۔ سچ عرض کر رہا ہوں۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔ خیر پھر کیڈٹ کالج حسن ابدال چلا گیا۔ تو وہاں نصاب میں علامہ کی شاعری موجود تھی۔

صدیقی صاحب‘ جو اردو زبان کے باکمال استاد تھے۔ وہ ہمیں اقبال کے اشعار‘ ذہن میں اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ طلباء ‘ اشعار‘ ذہن نشین بھی کر لیتے تھے۔ مگر اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ بس‘ اردو کے امتحان میں اچھے نمبر لینے کے لیے ایک ضروری جزو تھا۔ہاں‘ ایک اور اہم بات بھول گیا۔ کیڈٹ کالج میں سالانہ پیرنٹس ڈے(Parents Day) پر تلاوت قرآن حکیم کے بعد‘ علامہ کی چند مشہور نظموں میں سے ایک تحت اللفظ سنائی جاتی تھی۔ ہمارے پیرنٹس ڈے پر صدر پاکستان‘ وزیراعظم یا آرمی چیف کی سطح کا آدمی ‘ مہمان خصوصی ہوتا تھا۔ اور صرف ایک دن کی تیاری کے لیے‘ دو ماہ لگ جاتے تھے۔ اچھی طرح یاد ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق مہمان خصوصی تھے۔ تو دوبچوں نے مل کر‘ علامہ کی شہرہ آفاق نظم ‘ سنائی تھی۔ جس کا عنوان لافانی تھا۔

خودی کا سرنہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ ‘ فساں لا الہ الا اللہ

بہت بعد میں معلوم پڑا‘ کہ یہ ضرب کلیم میں شامل ہے۔ حقیقت عرض کر رہا ہوں۔ حسن ابدال کے پانچ برس میں جتنی بھی بار‘ Parents Day ہوئے۔ اقبال کی متعدد نظمیں‘ خوش الہانی سے پڑھی گئیں۔ مگر پھربھی کچھ بھی معلوم نہیں پڑا۔ اس کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پانچ برس گزر گئے۔ یہ مرحلہ اتنا کٹھن تھا کہ اقبال کی شاعری سمیت سب کچھ فراموش ہو گیا۔ بس Medicine, Physiology, anatomy اور میڈیکل کے شعبوں کی کتابیں ہی پڑھتے رہے۔ کے ای‘ اسی اور نوے کی دہائی میں تعلیمی معیار کے حوالے سے اتنا بلند تھا کہ اس کا تصور کرنا شائد آج آسان نہیں ہے۔ پھر سی ایس ایس ۔ اور انتظامی نوکری۔ وہ تو چوبیس گھنٹے کی ملازمت تھی۔ بہرحال جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی۔ مطالعہ کا شعور پیدا ہوتا گیا۔ اردو شاعری اور نثر دونوں کودیکھا تو ذاتی جاہلیت سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

کوئی بیس برس پہلے‘ میں نے اقبال کو گہرائی سے پڑھنے کی کوشش کی۔ میں ششدر رہ گیا۔ اسے لفظوں کا مجموعہ کہنا نامناسب ہے۔ ایسے لگا‘ کہ قدرت نے علامہ کو دست غیب سے وہ لفظ عطا کیے جو انھوں نے اعلیٰ ترین قرینے سے کاغذ پر منتقل کر دیئے۔ اقبال کی شاعری آفاقی تو خیر ہے ہی۔ مگر یہ انسان پر کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ ان کا کلام پڑھتے ہوئے رقت طاری ہو جاتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ اب قرآن مجید کی تلاوت کا ہے۔ ترجمے کے ساتھ پڑھتا ہوں‘ تو آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔ ایک نکتہ عرض کرتا چلوں۔ قرآن کی آیات میں ہیبت بھی ہے۔ کیونکہ یہ خدا‘ اپنے بندے سے خود مخاطب ہو رہا ہے۔

بہر حال اب‘ آج کے مرکزی نکتہ کی جانب آتا ہوں۔ اور وہ ہے‘ برادرم خالد مسعود کا انمول کام۔ میرا اور خالد کا تعلق بہت عجیب سا ہے۔ سالہاسال ملاقات نہیں ہوتی۔ اور جب ہوتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ درمیان میں کوئی تعطل رہا ہی نہیں۔ خالد مسعود‘ چند ماہ پہلے لاہور آیا تو مجھے ایک چھوٹی سی کتاب عنایت کر گیا۔ جس کا عنوان تھا، کلام اقبال ‘ بخط ِاقبال۔ ویسے یہ اتنی بھی چھوٹی نہیں تھی۔ چند دن پہلے‘ موصوف لاہور تشریف لائے تو اسی کتاب کا ایک خوبصورت اور سائز میں بڑا‘ ایڈیشن لے آئے۔ کہنے لگا کہ یہ پڑھنے کے علاوہ‘ ٹیبل پر پڑی ہوئی بھی خوبصورت معلوم ہو گی۔ بات درست تھی۔

ہر اعتبار سے یہ پہلے ایڈیشن سے بہت زیادہ دیدہ زیب ہے۔ اور واقعی‘ کسی بھی جگہ موجود ہونے سے‘ اس کی اہمیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔ عنوان تو وہی ہے یعنی‘ کلام اقبال‘ بخط ِ اقبال۔ اس پر ایک کالم لکھ چکا ہوں مگر دوسرا کالم لکھے بغیر چارہ نہیں۔ویسے خالد مسعود جب پچھلی صدی میں مجھے ملتان ملا تھا تو اپنے نام کے ساتھ‘ خان نہیں لگاتا تھا۔ پر اب‘ کتاب پر اس کا پورا نام خالد مسعود خان درج ہے۔ خان لکھنے کی وجوہات کا حقیقت میں مجھے کوئی علم نہیں ۔ اس دیدہ زیب اور قیمتی کتاب میں سے حضرت علامہ اقبال کی شاعری نکال کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ہاں‘ یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ اس صحیفہ میں ایک ورق پر جناب اقبال کی اپنی تحریر میں شعر لکھا ہوا ہے۔ اور اس کے سامنے‘ کاتب نے فنا نہ ہونے والی خوش خطی سے درج کر رکھا ہے۔ اب ذرا اشعار پر غور فرمائیے۔

اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری!

اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری!

اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری!

اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری!

اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری!

میراثِ مسلمانی‘ سرمایۂ شبیری!

…………

تیرے سینے میں دم ہے‘ دل نہیں ہے

تیرا دم گرمی ٔ محفل نہیں ہے

گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور

چراغِ راہ ہے‘ منزل نہیں ہے!

…………

تو اے اسیر ِ مکاں! لا مکاں سے دور نہیں

وہ جلوہ گاہ ترے خاکداں سے دور نہیں

وہ مرغزار کہ بیم ِ خزاں نہیں جس میں

غمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں

یہ ہے خلاصۂ علم ِ قلندری‘ کہ حیات

خدنگ ِجستہ ہے لیکن کمال سے دور نہیں

…………

ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا

تڑپ جا پیچ کھا کھا کر بدل جا

نہیں ساحل تری قسمت میں اے موج!

ابھر کر جس طرف چاہے نکل جا!

…………

جمال ِ عشق و مستی نے نوازی

جلالِ عشق و مستی بے نیازی

کمالِ عشق و مستی ظرف حیدرؓ

زوالِ عشق و مستی حرفِ رازی!

…………

خرد سے راہر و روش بصر ہے

خر ِد کیا ہے؟ چراغِ رہگذر ہے

دورنِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا

چراغِ رھگذر کو کیا خبر ہے!

…………

خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے

خداوندا خدائی دردِ سر ہے

ولیکن بندگی استغفر اللہ

یہ دردِ سر نہیں دردِ جگر ہے

…………

بچۂ شاہیں سے کہتا تھاعقابِ سا لخورد

اے تیرے شہپرپہ آساں رفعتِ چرخ بریں!

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام

سخت کوشی سے ہے تلخِ زندگانی انگبیں!

جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسر

وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

اب خود بتایئے کہ اس کے آگے میں کیا لکھوں۔ کیونکہ کچھ باقی ہی نہیں رہا!لیکن یہ قطعہ ٔ ضرور لکھنا چاہتا ہوں۔

تو غنی از ھردو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

ورحابم را تو بینی ناگزیر

از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }