حب ڈیم بھرنے کے باوجود پانی کا سنگین بحران، 300 صنعتیں بندش کے دہانے پر پہنچ گئیں

9

شہر قائد کے علاقے حب میں پانی کا بحران سنگین ہونے سے 300 صنعتوں کی بندش اور ہزاروں ورکرز کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اسماعیل ستار اور صدر یعقوب کریم نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کرتے ہوئے علاقے میں پانی کی فوری فراہمی کی اپیل کی ہے۔

اسماعیل ستار نے ایکسپریس کو بتایا کہ حب ڈیم تقریباً بھر جانے کے باوجود صنعتیں، کسان اور عوام اپنے جائز حصے کے پانی سے محروم ہیں جس کے باعث صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ زرعی زمینیں مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے کے باعث خشک سالی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور لاکھوں شہری بھی شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حب کی صنعتوں اور آبادی کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہ کیا گیا تو آئندہ چند ہفتوں میں متعدد صنعتی یونٹس کی بندش سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑجائے گا اور قومی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔حب بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں سے حکومت کو سالانہ 7ارب روپے سے زائد ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر صنعتیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث بند ہوئیں تو نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کے ریونیو کا نقصان ہوگا بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی بھی بری طرح متاثر ہوگی۔

انہوں نے  ایس او ایس اپیل میں کہا کہ حب کے پاس پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ حب ڈیم ہے جبکہ کراچی کو متعدد ذرائع سے پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود پانی کی تقسیم میں حب مسلسل ناانصافی کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ تقسیم کے مطابق حب کو 36.7 فیصد جبکہ کراچی کو 62.3 فیصد پانی فراہم کیا جا رہا ہے، حالانکہ حب کی آبادی، زرعی رقبہ اور صنعتی ضروریات گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 1980 کی دہائی میں پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا تھا اُس وقت حب کی آبادی صرف 20ہزار، صنعتی یونٹس کی تعداد صرف 5 اور زیرکاشت رقبہ تقریباً ایک ہزار ایکڑ تھا جبکہ آج آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، اب صنعتی یونٹس کی تعداد 300 ہوچکی ہے اور 25 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی زیر کاشت ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ اس کے باوجود واپڈا آج بھی 40 سال پرانے فارمولے پر عمل پیرا ہے جو موجودہ زمینی حقائق اور ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے بتایا کہ حب ڈیم اس وقت تقریباً مکمل طور پر بھر چکا ہے اور حالیہ مون سون بارشوں کے بعد ایک بار پھر اس کے اسپل وے گیٹس کھولنے کا امکان ہے جس سے ملحقہ دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسی ڈیم کے پانی سے محروم حب کے عوام، کسان اور صنعتیں شدید بحران کا شکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 ماہ سے صنعتوں کو طلب کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا جس کے باعث پیداواری سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی صنعتیں اپنی پیداواری استعداد سے کہیں کم صلاحیت پر کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض صنعتی اداروں کو عارضی طور پر اپنی پیداوار محدود کرنا پڑی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بڑے پیمانے پر صنعتیں بند ہو جائیں گی اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔

اسماعیل ستار نے کہا کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام سے بارہا رابطہ کیا گیا تاہم ہر بار یہ بتایا گیا کہ نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا تقرر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت زیرِ تربیت ہیں جبکہ دوسری جانب لاکھوں شہری پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہیں۔ حب کی اکثریتی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ایس او ایس اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور واپڈا کو ہدایت جاری کریں کہ حب کی آبادی، زرعی ضروریات اور صنعتوں کی طلب کے مطابق فوری اضافی پانی فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی پانی کی تقسیم کے پرانے فارمولے پر ازسرِنو نظرثانی کی جائے اور ایسا مستقل نظام وضع کیا جائے جو موجودہ زمینی حقائق کے مطابق حب کے عوام، کسانوں اور صنعتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناسکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حب کو صرف صنعتی بحران ہی نہیں بلکہ معاشی بدحالی، وسیع پیمانے پر بے روزگاری، زرعی تباہی اور پانی کے سنگین انسانی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }