سہیل احمدصدیقی
[email protected]
ان دنوں ذرایع ابلاغ اور عوام وخواص میں بلاامتیاز، بعض الفاظ کا غلط در غلط استعمال اس قدر فراوانی سے ، گویا بے دریغ ہورہا ہے کہ بے اختیار کہنے کو جی چاہتا ہے ….ان الفاظ کی بھی کوئی حُرمت ہے، کچھ تو خیال کریں۔ انہی میں، اسم لیجنڈ )۔یا۔ امریکی تلفظ میں لے جنڈ (Legend اور صفت (نیز اِسم) لیجنڈری بھی شامل ہیں۔ آج کل یار لوگ کسی بھی شعبے کے کسی بھی مشہور شخص کو لیجنڈ۔یا۔لیجنڈری فُلاں فُلاں (مثلاً ادیب، شاعر، گلوکار، اداکار) کہہ دیتے ہیں۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ ہمارے بعض خُردمعاصرین (Juniors)، بلکہ بعض متشاعر بھی اسی لقب سے یاد کیے جارہے ہیں۔ ہمارے عہد کی سب سے کامیاب متشاعرہ کو اُس کے چاہنے والے اسی لقب سے یاد کرتے ہیں۔ حد ہوگئی بھئی۔ اسی پر بس نہیں، اس قبیل کے بعض دیگر الفاظ بھی بے تحاشا غلط استعمال ہورہے ہیں جیسے جینئس(Genius)، نابِغہ اور (کسی حد تک) عبقری بھی۔یہ الفاظ اگر کوئی جاندار مخلوق ہوتے تو اِس بے عزتی کا بدلہ لیتے نہ لیتے، بھرپور احتجاج ضرور کرتے۔ آئیے ایک ایک کرکے القاب کے طور پر مستعمل اِن الفاظ کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں، لی جنڈ کی۔ صاحبو! خاکسار اپنی نوجوانی کے دورسے انتہائی مرغوب دائرۃ المعارف (یعنی انسائیکلوپیڈیا) Encyclopedia Britannica سے اس لفظ کی تعریف نقل کرتا ہے:
Legend, traditional story or group of stories told about a particular person or place. Formerly the term legend meant a tale about a saint. Legends resemble folktales in content; they may include supernatural beings, elements of mythology, or explanations of natural phenomena, but they are associated with a particular locality or person and are told as a matter of history.
ترجمے کا خلاصہ یوں ہے کہ کسی مخصوص شخص یا جگہ کے متعلق روایتی قصہ کہانی یا کہانیاں، جو لوک کہانیوں سے مماثل بھی ہوتی ہیں۔ ان میں مافَوق البشر ۔یا۔مافوق الفطرت ہستیاں، چیزیں یا اساطیر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ یہاں دی گئی مثالیں بھی پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا (USA)کے اوّلین صدر جارج واشنگٹن کے بچپن کا ایک قصہ، کہ اُنھوں نے چیری کے ایک درخت کو کاٹنے کا اعتراف کیا تھا ;سوئیس ہیرو William Tellکا قصہ بھی زباں زد عام ہے، Pied Piper of Hamelinکی حکایت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ وہی پائڈ پائپر جس نے ایک قصبے کے چوہوں کو اَپنی بانسری کی مدھر لے سے مسحور کرکے دور کہیں لے جاکر چھوڑا اور بستی والوں نے انعام نہ دیا تو اُن کے بچّوں کو اِسی طریقے سے اپنے ساتھ لے اُڑا تھا۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں عالمی ادب، لوک ادب اور تاریخ میں محفوظ اور بے شمار مقامات پر سینہ گزٹ کے طور پر رائج ہیں۔مشرق میں لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، عذرا وامِق، آدم خان درخانی ، موسٰی خان گل مکئی،شفتح خان رابیا،شیر عالم میمونی،ہیررانجھا، سسّی پْنہوں، مومل رانو،نوری جام تماچی،سورٹھ رائے ڈیاچ،لِیلا چنیسر،سوہنی مہیوال(یا میہار)، عمرماروی، ہانی شہ مْراد، سَمّو تؤ کلی مست اور بالو ماہیا۔
آکسفرڈ کی مشہور ِ زمانہ ایڈوانسڈ لرنرز ڈکشنری کے دیے گئے مفاہیم کا خلاصہ یوں ہے:
According to the Oxford Advanced Learner’s Dictionary, the word legend has several distinct meanings:Ancient story: A story from ancient times about people and events that may or may not be true (such as a myth).Famous person: A very famous or admired person, especially in a specific field.Map or diagram key: The explanatory table, title, or key that explains symbols on a map or diagram.Writing on objects: A piece of writing or inscription found on a sign, label, or coin.
کیمبرج ڈکشنری کی رُو سے لی جنڈ کا مطلب کچھ یوں ہے:
Legend-noun
A very old story or set of stories from ancient times, or the stories, not always true, that people tell about a famous event or person:
1. The dance was based on several Hindu legends.
2. She is writing a thesis on Irish legend and mythology.
3. Legend has it: Legend has it (= people say) that he always wore his boots in bed.
4. This match will go into tennis legend (= it will always be remembered).
مغربی ادبی اصطلاحات میں اسی لفظ کا استعمال مندرجہ ذیل مفہوم میں ہوتا ہے:
A legend in literature is a traditional story that blends real historical people, places, or events with fictional exaggeration or miraculous elements.
مزید وضاحت مطلوب ہو تو Dictionary of Literary Terms and Literary Theory by J.A.Cuddon ملاحظہ فرمائیں جو بتاتی ہے کہ legend کا لغوی مطلب ہے ’پڑھنے کے لائق چیز‘اور یہ وسطی لاطینی کا لفظ ہے۔ محض ابتدائی اقتباس پیش کرتا ہوں:
Originally legends were the stories of lives of saints which, in monastic life, might be read in church or in the refectory and therefore to hagiography (q.v). The term came to be applied to a collection of such stories (as well as, the book in which they were recorded). Dictionary of Literary Terms and Literary Theory by J.A.Cuddon, Penguin Books-UK: 1992
یہاں راہبوں اور خانقاہوں یا کلیسوں سے متعلق کہانیوں کا ذکر مذکور ہے جو ہمارے یہاں کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔
مقتدرہ قومی زبان کی شایع کردہ ’’قومی انگریزی ۔اردولغت‘‘ (اشاعت ِثانیہ: 1994)کے اندراج کے مطابق لفظ ’لی جنڈ‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے: روایت، کہانی، قصّہ، افسانہ ، اسطورہ (جمع اساطیر: س ا ص)، نوِشتہ، جھُوٹا افسانہ ، من گھڑت بات;مقولہ، یادگار، نشانی، آثار، کہاوت، پُرانا قصّہ، وہ کہانی یا تذکرہ جو تاریخی نہ ہو ۔یا۔جس کی توثیق نہ ہوسکے، جو زمانہ ٔ سابق سے روایتاً مشہور ہو اور لوگ اُسے حقیقت تسلیم کرتے ہوں، اس قسم کی ایسی کہانیاں جو چیزوں ۔یا۔لوگوں کے متعلق ہوں جیسے Legend of Canon, Legend ;of Duirds کسی لائق ِ ستائش شخص کی کہانیوں کا مجموعہ جیسے Legend of Robin Hood،;کوئی شخص یا چیز جو ایسے تذکروں کا موضوع ہو ; سجع یا نقش جو ڈھال یا یادگار پر بنا ہوتا تھا;تشریحی فہرست جیسے نقشے کی علامات۔
اب اسی لغت میں مندرج لیجنڈری] Legendary(adjective)[ کے ذیل میں یہ تعریف ملاحظہ فرمائیں: (صفت): روایتی، افسانوی ، روایت سے متعلق ۔یا۔روایت کی نوعیت کا حامل، روایت میں مذکور ۔یا۔مشہور ۔(اسم): روایات کا مجموعہ ۔یا۔کتاب۔ اسی باب میں تھوڑے سے فرق سے ایک اور لفظ بھی ہے Legendry (اسم) یعنی روایات بحیثیت مجموعی۔
قدیم لغات ازقسمے فرہنگِ آصفیہ ونوراللغات میں یہ دونوں لفظ نہیں تو کوئی بات نہیں، مگر تعجب ہے کہ جدید ’مختصر اُردولغت‘ (شایع کردہ اردولغت بورڈ) میں بھی اس کا اندراج نہیں، حالانکہ یہ دونوں الفاظ پچھلے کئی عشروں سے اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔
مندرجہ بالا تعریفات کے مطالعے کے بعد کیا کوئی صاحب ِ فہم و ذکا یہ تسلیم کرے گا کہ ہمارے عہد کے بے شمار اَدیب، شاعر، صحافی، اداکار، صداکار وغیرہ کسی بھی طرح ان کے ذیل میں آتے ہیں؟ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو دیانت داری سے عرض کروں گا کہ امیر خسروؔ، میرؔ اور غالبؔ کے بعد ہمیں کوئی ایسا نہیں ملا جسے لی جنڈ ۔یا۔لی جینڈری کہا جاسکے، ممکن ہے لوگ علامہ اقبال کو بھی شامل کریں۔ دیگر کی کیا بات کریں۔ یہ مسئلہ بھی ہے کہ لوگ مشہور، مقبول اور بڑے شاعر کی درجہ بندی سمجھے بغیر اَپنے پسندیدہ شاعر کو ساتویں آسمان تک پہنچادیتے ہیں۔ اب ایک اور اِسم کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، ’نابِغہ‘۔
لفظ ’نابغہ‘ کا مفہوم ہے، غیرمعمولی ذہین وفہیم شخص۔ المُنجِد عربی اردو لغات میں اس کے معانی یوں درج ہیں; الّنابِغہ: فصیح، خوش بیان، بڑی شان والا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ آٹھ شعراء کا لقب تھا جنھیں جمع کے صیغے میں، النوابغ کہا جاتا تھا۔ یہاں فقط دو ایسے شاعروں کا ذکر بطور حوالہ درج کرتا ہوں۔ ایک تو تھا عہدِجاہلیت کے تین عظیم شعراء میں شامل نابغہ ذبیانی (قبیلہ بنومضر کی شاخ بنو ذبیان سے تعلق رکھنے والا) ;دیگر دو کے نام یہ ہیں: اِمرَؤ القیس اور زُہَیر بن ابی سلمیٰ۔ اسی لقب سے ملقب دوسرے نابغہ، دین حنیف کے پیروکار تھے، اسلام کا زمانہ پایا، مسلمان اور صحابی ہوئے اور بارگاہ ِ رسالت میں قصیدہ پیش کیا جس پر اُنھیں سرکار دوعالم (ﷺ) نے دعا دی کہ (مفہوم) تمھارے دانت سلامت رہیں کہ تم نے بہت پتے کی بات کی۔ انھوں نے طویل عمر پائی اور بہ اختلاف ِ روایت ایک سو اَسّی (180)سال یا دوسَو چالیس (240)سال جہانِ فانی میں جی کر رُخصت ہوئے تو سارے دانت سلامت تھے۔ یہ اوّل الذکر سے بھی عمر میں بڑے تھے۔ ان کے اصل نام میں اختلاف ہے، البتہ کُنیت ابولیلیٰ مشہور ہے۔ اُنھوں نے 50ھ میں اصفہان (ایران) میں وفات پائی۔
نابغہ ہماری زبان میں انگریزی لفظ Geniusکے مترادف کے طور پر اِستعمال ہوتا ہے اور خاکسار کی تحقیق کے مطابق ’نابغہ ٔ روزگار‘ کی اصطلا ح صحیح نہیں، کیونکہ ’روزگار‘ یعنی زمانے۔ یا ۔وقت میں نابغہ کوئی کوئی ہوتا ہے، کروڑوں میں ایک آدھ۔ (فرہنگِ آصفیہ ونوراللغات میں یہ لفظ درج نہیں)
اب اس فہرست میں شامل تیسرا اور آخری لفظ ہے: عبقری۔ یہ بھی Genius کے مترادف کے طور پر مستعمل ہے۔ اسے بھی تمام تفصیل کے ساتھ ساتھ ’نابغہ‘ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ متعدد لغات کے اندراجات کا خلاصہ یہ ہے کہ بطور صفت (نیز اِسم) اس کے مفاہیم ہیں: بے مثال، حیرت انگیز باکمال آدمی، نادرہ روزگار اور ہر وہ عمدہ اور نفیس چیز ہے جس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ غیرمعمولی صلاحیت: ایسا انسان جو زبردست اور نادر صلاحیتوں کا حامل ہو۔ عمدہ فرش یا قالیچہ، دبیزغالیچے (جنت میں بچھے ہوئے فرش)، دیباج (ایک قیمتی ریشمین کپڑا )، عجیب و غریب چیز، انتہائی ذہین شخص، کارہائے نمایاں انجام دینے والا شخص، بڑا آدمی، سردار، خداداد صلاحیتوں کا حامل۔ جدید ’مختصر اُردولغت‘ (شایع کردہ اردولغت بورڈ) میں ’عبقری‘ کے معانی یہ درج ہیں: نفیس، لطیف (خصوصاً فرش یا جامہ وغیرہ)، عجیب وغریب چیز، ہر وہ چیز یا شخص جس میں بزرگی، کمال اور زیبائی حیرت انگیز حد تک پائی جائے۔ یہاں ایک مزے دار لسانی شگوفہ بھی ملاحظہ فرمائیں، انگریزی میں تو Evil Genius بھی عام ہے، مگر ہمارے یہاں اس مفہوم میں کوئی ایک متبادل یا مترادف مشہور نہیں۔ حسبِ ضرورت ’کائیّاں‘، ’شاطر‘ ، ’مکّار‘ ،’گھاگ‘ اور دیگر الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ بات اگر عوامی بولی یا Slangکی ہوتو کچھ اور بھی کہا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ سہل انگاری میں کچھ اور سوچنے کی بجائے سیدھا سیدھا Evil Genius کہہ دیتے ہیں۔
قرآن مجید کی سورہ الرّحمن کی چھہترویں ) (76thآیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ عہدِجاہلیت میں ’عبقر‘ سے مراد تھی جنّات کا مسکن یا پرِستان۔ ایک عرصے تک یہی مفہو م عام تھا پھر ’’ہر غیرمعمولی اور قابلِ تعجب مہارت و صلاحیت کو اِس کی طرف منسوب کیا جانے لگا‘‘۔ ایک موقع پر نبی کریم (ﷺ) نے حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ‘) کو ’عبقری‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ فرمانِ عالی شان کا مفہوم تھا کہ ’’میں نے ایسا کوئی با کمال شخص نہیں دیکھا جو اِن (عمر) جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو‘‘۔ اسی آیت میں لفظ ’رفرَف‘ بھی آیا ہے جو سفرِ معراج میں نبی کریم (ﷺ) کی ایک سواری کا نام تھا۔ روایت کے مطابق یہ سبز رنگ کا منقش قالین تھا یعنی الف لیلہ ولیلہ میں مذکور اُڑن قالین درحقیقت، ایک حقیقی (اور غالباً ) مادّی شے تھا جس کے تصور پر غور کرکے طیّارہ ایجاد کیا گیا۔ رفرف کے دیگر مفاہیم بھی تفاسیر اور لغات میں موجود ہیں۔ اسے مسند اور بِچھونے سے بھی تعبیر کیا گیا۔
ان تعریفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہماری زبان اور ہمارے معاشرے میں محوّلہ بالا تینوں اسماء یا القاب کا استعمال ہمہ شُما کے لیے ہرگز صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ n