روس پر نئی پابندی، امریکی بندرگاہوں پر روسی بحری جہازوں کا داخلہ ممنوع

100

امریکا نے یوکرین پر فوجی آپریشن کے ردعمل میں روس پر عائد مغربی پابندیوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے روس کے بحری جہازوں پر بھی اپنی سرحدی حدود میں داخل ہونے پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روس کے بحری جہازوں کے امریکا کی بندرگاہوں میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پرعمل درآمد کرتے ہوئے کسی بھی روسی پرچم بردار یا روسی ملکیت والے بحری جہاز کو ان کے ملک کی بندرگاہوں میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی کہا ہے کہ برطانیہ نے روس کی فوج کے اہل کاروں کے خلاف نئی پابندیاں جاری کی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ یوکرین میں روس کے جنگی جرائم کے ثبوت اکٹھے کرنے میں مدد کر رہا ہے اور بکتر بند گاڑیوں سمیت مزید فوجی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔

جمعرات کو امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 800 ملین ڈالر کے اضافی فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا تاکہ یوکرین کی مشرقی علاقوں میں جنگی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ اس امداد میں بھاری توپ خانے کے ہتھیار، درجنوں ہاؤٹزر اور ان کے لیے گولہ بارود کے ایک لاکھ 44 ہزار راؤنڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرین کو جنگی مقاصد کے لیے ڈرونز بھی بھیجے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }