پاک افغان تجارت 10 ماہ سے معطل، لنڈیکوتل بازار میں احتجاجی جلسہ

8

خیبر:

پاک افغان تجارت گزشتہ 10 ماہ سے معطل رہنے کے سبب لنڈیکوتل بازار میں احتجاجی جلسہ ہوا جس میں تاجروں، مزدوروں اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک افغان تجارت بند ہونے سے صوبہ خیبرپختونخوا کی معیشت تباہ ہوگئی، صوبے کی صنعت کو خصوصاً اور ملکی صنعت عمومی طور پر نقصان پہنچا ہے، پاک افغان تجارت بند ہونے سے بالواسطہ اور بلا واسطہ لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، تجارتی گزرگاہیں بند کرکے دہشت گردی پر قابو پانے کے حکومتی اہداف بھی حاصل نہ ہوسکے۔

مقررین نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے امن وامان پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے صوبہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں بے چینی پائی جاتی ہے، ملکی خزانہ اربوں روپے محصولات سے محروم ہوگیا، تجارتی گزرگاہیں بند ہونے سے صرف افغانستان نہیں بلکہ سنٹرل ایشیاء تک رسائی معطل ہوگئی ہے۔

مقررین نے کہا کہ اس وقت وطن عزیز تجارت سرگرمیوں کے حوالے سے چاروں طرف محصور ہے، پاک افغان تجارتی گزرگاہیں  کھول کر تجارت کو فوری طور پر بحال کیا جائے، 12 اکتوبر 2025ء کو پاک افغان کشیدگی کے باعث  تمام تجارتی گزرگاہیں ہرقسم آمدورفت کے لیے بند ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }