واپڈا کا ریٹائرڈ فوجی یا پولیس افسر کی سربراہی میں اپنی سیکیورٹی فورس بنانے کا منصوبہ

7

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ اپنے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے الگ فورسز بنانے کی ضرورت ہے اور اس فورس کا ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) پولیس یا فوجی سے 20 گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہوگا تاہم اس فورس کے قیام کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں واپڈا سیکیورٹی فورس بل زیر بحث آیا جہاں چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے بتایا کہ صرف سیکیورٹی گارڈز کے ذریعے واپڈا ہاؤسز کی سیکیورٹی نہیں ہو سکتی، کئی بڑے منصوبے ہیں جن کی سیکیورٹی کی ضرورت پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنا سیکیورٹی کا خوف انتظام کرنا چاہتے ہیں، ہم سیکیورٹی کے لیے پہلے جو انتظام کر رہے تھے وہ کافی مہنگا پڑتا ہے، نئی فورس کی کوئی پینشن نہیں ہوگی اور کنٹریکٹ پر فورس رکھیں گے، اس فورس کو واپڈا کے منصوبوں اور واپڈا ہاؤسز میں گرفتاری کا اختیار ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کے اندر سے گرفتاری کے بعد پولیس کے حوالے کیا جائے گا، واپڈا فورس کی ٹریننگ بھی ہوگی اور ان کا یونیفارم بھی ہوگا، دیامر بھاشا میں اس وقت 2500 لوگ سیکیورٹی پر مامور ہیں۔

چیئرمین واپڈا نے کہا کہ واپڈا فورس کے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں سے اہلکار بھی لے سکتے ہیں۔

واپڈا حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ واپڈا کا چوکیدار سسٹم اب قابل عمل نہیں ہے، منصوبوں کو کئی انٹرنیشنل وفود وزٹ کرنے آتے ہیں جن کی سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے، واپڈا سیکیورٹی فورس کا باقاعدہ ایک ڈائریکٹر جنرل بھی ہوگا، واپڈا سیکیورٹی فورس کا قیام وفاقی حکومت کا اختیار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ واپڈا فورس کے لیے تمام قواعد بھی وفاقی حکومت ہی بنائے گی، ڈی جی واپڈا سیکیورٹی فورس کے لیے 20 گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہو سکتا ہے، ڈی جی کی پوسٹ پر پولیس یا آرمی سے ریٹائرڈ افسر لگایا جائے گا، واپڈا فورس جس سے گرفتار کرے گی اسے ڈسٹرکٹ پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف کیس بھی مقامی پولیس ہی دیکھے گی۔

حکام نے بتایا کہ واپڈا فورس میں بھرتی ہونے والے ملازمین کہیں اور جاب نہیں کر سکتے، واپڈا سیکیورٹی فورس میں ورکر یونینز بھی نہیں بنائی جا سکیں گی، ایسا نہیں ہوسکے گا کہ واپڈا فورس کے اہلکار کسی دن اسٹرائیک کر دیں۔

واپڈا حکام نے مزید بتایا کہ ڈی جی واپڈا فورس منصوبے کی سیکیورٹی کے لیے اسٹینڈنگ آرڈرز خود جاری کر سکے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }