اپنے حصّے کی شمع – ایکسپریس اردو

10

علامہ اقبال کونسل نے حسبِ روایت یومِ آزادی کے سلسلے میں ایک باوقاراور بھرپور تقریب منعقد کی جو اسلام آباد کی سب سے متحرک ادبی شخصیت جناب محبوب ظفر کے بقول جڑواں شہروں کی سب سے منفرد، یادگار اور بامقصد تقریب تھی جس میں خود احتسابی کی باتیں بھی ہوئیں۔ آزادی کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جس سے بااصول سیاستدان اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ، معروف کالم نگار اور دانشور ہارون الرشید، معروف ادیبہ محترمہ نعیم فاطمہ علوی، معروف قانون دان اور کالم نگار آصف محمود، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اسلام آباد کے سابق صدر میاں اکرم فرید اور راقم نے خطاب کیا۔

مقررین کو بتادیا گیا تھا کہ وہ آزادی کی فضیلت کے علاوہ ’’ہم کہاں کھڑے ہیں‘‘ کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ سامعین میں ادیب، شاعر، دانشور۔ سابق نیول چیف، سابق فیڈرل سیکریٹری، سابق آئی جی، معروف ماہرینِ تعلیم، برنس اور انڈسٹری کی نمایاں شخصیات موجود تھیں، سب کا کہنا تھا کہ بڑے عرصے کے بعد یومِ آزادی پر اتنی اعلیٰ اور معیاری تقاریر سنی ہیں۔ راقم کی گفتگو کے کچھ اقتباس قارئین کے ساتھ شیئر کیے جارہے ہیں۔’’کچھ ناراض دوستوں کا خیال ہے کہ آزادی کی مبارک دینے والے الفاظ اب روایتی اور کھوکھلے سے لگتے ہیں، ایسی بات نہیں، یہ الفاظ اب بھی زندہ وجاوید ہیں۔ پہلے ہم صرف سنتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ انسانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت آزادی، سب سے بڑی لعنت غلامی ہے۔ ‘‘

’’چند روز پہلے بھارت کی ایک جراتمند مسلم جرنلسٹ ارفا خانم شیروانی نے بھارتی مسلمانوں میں سے ایک خوشحال اور پڑھے لکھے راہنما سابق ایم پی محمد ادیب صاحب کا انٹرویو کیا تو انھوں نے انتہائی درد بھرے لہجے میں کہا کہ ’’ہم سے غلطی ہوئی جو ہم نے محمد علی جناح کی بجائے ابوالکلام آزاد کی بات مان لی، جناح کی بات مانتے تو لکھنؤ تک پاکستان بنتا‘‘ ارفا خانم نے پوچھا ’’کیا 26کروڑ مسلمان ہندوستان کے نئے شودر بننے جارہے ہیں؟‘‘ تو انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’بالکل بن چکے ہیں، یہی تلخ حقیقت ہے۔ مسلمان ڈری اور سہمی ہوئی بھیڑوں کی طرح رہ رہے ہیں، پھر بھی ہر روز ہمارے گھر اور مسجدیں گرائی جارہی ہیں، ہر روز ٹرینوں میں مسلمانوں کو قتل کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا یہاں کوئی فیوچر نہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی لاکھوں کروڑوں رحمتیں نازل ہوں، ہمارے ان راہنماؤں پر جن کی بصیرت نے بھانپ لیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا تحفظ علیحدہ ملک میں ہے۔ یاد رکھیں ہماری آزادی، ہمارے عہدے، ہماری جائدادیں،ہمارے ہوٹل، فیکٹریاں اور ہماری خود اعتمادی اور جراتِ اظہار سب کچھ پاکستان کے طفیل ہیں جس کی پہلی اینٹ جدیدمسلم تاریخ کے سب سے بڑے شاعر اور مفکر ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے رکھی تھی۔ چند روز قبل اس مردِ درویش کی قبر پر حاضری دی، مزار کے اندر پہنچا تو اسی مردِ قلندر کے الفاظ ذہن میں گونجنے لگے

نہ تاج وتحت میں، نے لشکر وسپاہ میں ہے

جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل

یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپنا

جہانِ تازہ مری آہِ صبح گاہ میں ہے

مسلمانوں کے وفود جب حکیم الامت سے قیادت کے بارے میں پوچھتے تو جواب آتا’’اس کے پیچھے لگو جو سات سمندر پار بیٹھا ہے۔‘‘ حکیم الامّت کی بصیرت افروزنگاہیں برصغیر کے کسی مذہبی اسکالر یا خطیب پر نہیں رکیں بلکہ سات سمندر پار جس شخص پر رکیں وہ اردو بھی صحیح نہیں بول سکتا تھا۔ لوگ جب حکیم الامت سے پوچھتے کہ ’’مسٹر جناح ہی کیوں؟‘‘ تو دانائے راز جواب دیتے ’’پورے ہندوستان میں محمد علی جناح واحد لیڈر ہے جس کے کردار پر کوئی داغ نہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے خرید نہیں سکتی۔ تمام مورخ متفق ہیں کہ محمد علی جناح نہ ہوتے یا ان کی بیماری بروقت ظاہر ہوجاتی تو پاکستان وجود میں نہ آتا۔

اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ہمارے ان عظیم محسنوں پر جنھوں نے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے ہمکنار کیا اور ہندوتوا کے پیروکاروں کے ظلم اور کمینگی سے بچالیا۔

ہمارے کچھ دوست بعض اوقات حکومت سے ناراضگی کے باعث اپنے ملک اور اس کی کامیابیوں کے بارے میں غلط اور نامناسب باتیں کرجاتے ہیں۔ اور یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ’’ 78 سالوں میں ہمیں کچھ نہیں ملا‘‘، ایسا نہیں ہے، ہمیں بہت کچھ ملا ہے۔ 24 کروڑ کلمہ گو انسانوں کا مذہبی اور ثقافتی تشخص محفوظ ہو گیاہے۔ ہر شخص کے مالی حالات بہتر ہوئے۔ صرف میرے گاؤں کی مثال لے لیں۔ آج سے پچاس سال پہلے 80 فیصد مکان کچے تھے اور پورے گاؤں میں صرف دو بائیسکل تھے۔ آج سو فیصد مکان پکے ہیں اور ہر گھر میں موٹرسائیکل بھی ہے اور موبائل فونز بھی۔ پاکستان ایک بہت مضبوط عسکری قوت بن چکا ہے۔ باون اسلامی ملکوں میں واحد ایٹمی قوت پاکستان ہے۔ اس کی ائرفورس دنیا کی Top class ائرفورس مانی جاتی ہے اور یورپی میڈیا بھی ہمارے شاہینوں کو King of skies کہنے پر مجبور ہے۔

 پچھلے سال ہماری افواج نے چھ سات گنا بڑے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ اور امیج بہت بلند ہوا اور اس کی عزت وتکریم میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ آج دنیا کی تمام بڑی طاقتیں یعنی امریکا، چین، روس اور مغربی یورپ پاکستان کو بہت اہمیّت دیتی ہیں اور پاکستان کی عسکری قیادت کے نقطۂ نظر کو چھ گنا بڑے ملک بھارت سے زیادہ وزن دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ قابلِ فخر کامیابیاں ہیں۔ مگر ناکامیوں پر بھی غور کرنا ہوگا اور اس کے لیے گھر کے اندرونی حالات کا جائزہ لینا ہوگا، جو خاصے گھمبیر ہیں۔

مہنگائی اور ناانصافی کے مارے ہوئے عوام انتہائی مایوس ہیں۔ رول آف لاء ہی ملکوں کی معاشی اور سماجی ترقی کا ضامن ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں رول آف لاء کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آمروں کو تو چھوڑیں، ہمارے پاپولر لیڈروں یعنی ذولفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، میاں نوازشریف اور جناب عمران خان کا کیا طرزِ عمل رہا، چاروں نے رول آف لاء کو اپنے سیاسی مقاصد پر قربان کیا۔ چاروں میں سے کسی نے بھی یہاں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کوشش نہیں کی۔

معاشرے اور ملک، اداروں سے چلتے ہیں، مگر ہمارے ہاں سرکاری اداروں کا وجود تو ہے مگر وقارختم ہوچکا ہے، پارلیمنٹ irrelevant ہے۔ عدلیہ کی سب کے سامنے ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسر اب پبلک سرونٹ نہیں بلکہ حکمرانوں کے ملازم بن جاتے ہیں۔ ریاست کا چوتھا ستون بھی خستہ حال ہے، اینکرز اور لکھاری تعریف وتحسین اور قصیدہ گوئی کررہے ہیں۔ سوال اٹھانے ، حرف کی حرمت اور لہجے کا جلال ختم ہوچکا۔

قومی زبان اردو کے ساتھ ہمارے سلوک کا یہ حال ہے کہ نئی نسل نہ اردو لکھ سکتی ہے اور نہ پڑھ سکتی ہے۔ بدترین احساسِ کمتری میں مبتلا والدین اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے اور ان کی غلط انگریزی سن کر خوش ہوتے ہیں۔ ہر دفتر میں کرپشن موجود ہے، میرٹ اور انصاف سوالیہ نشان ہے، انصاف ناپید ہوجائے تو شہریوں کا ریاست و حکومت سے رشتہ کمزور ہوتے ہوتے ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بے چینی اور بدامنی ہے۔ نوجوان فرسٹریشن کا شکار ہیں اور پروفیشنلز ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ قائد اور اقبال کی روحیں یقیناً تڑپ رہی ہوں گی۔

خواتین وحضرات! ملک کو سب سے زیادہ ضرورت امن اور استحکام کی ہے۔ استحکام رواداری اور مفاہمت سے آتا ہے اور امن انصاف سے ہی قائم ہوسکتا ہے۔ ملک کو درپیش مسائل اور بحرانوں کا حل آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے۔ مگر حالات جیسے بھی ہوں، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ way forward یہ ہے کہ ہر شخص کڑھنے اور اندھیروں کا ماتم کرنے کی بجائے اپنا کردار ادا کرے اور اپنے حصے کی شمع ضرور جلائے۔ دنیا بھر کے اندھیرے مل کر بھی ایک چھوٹی سی شمع کا وجود ختم نہیں کرسکتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }