جنگ کی جمالیات ( آخری حصہ)

11

Return to Haifa میں یہی سوال ایک اور پیچیدہ شکل اختیار کرتا ہے۔ ایک فلسطینی جوڑا برسوں بعد حیفا واپس آتا ہے اور اپنے چھوڑے ہوئے گھر میں ایک ایسے بچے سے ملتا ہے جو اب ایک اسرائیلی خاندان میں پرورش پا چکا ہے۔ یہاں وطن صرف زمین نہیں رہتا، یادداشت، شناخت، خاندان اور تاریخ ایک دوسرے میں الجھ جاتے ہیں۔

کنفانی کا کمال یہ ہے کہ وہ فلسطین کو صرف سیاسی نعرہ نہیں بناتے، وہ اسے ایک اخلاقی اور انسانی سوال بناتے ہیں۔کیا وطن صرف وہ جگہ ہے جہاں انسان پیدا ہوا؟کیا شناخت صرف خون سے بنتی ہے؟کیا تاریخ انسان کو اس کے ماضی کا وارث بناتی ہے یا انسان کو اپنے ماضی کے ساتھ نئے اخلاقی فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں؟یہاں کنفانی کی مزاحمتی ادب کی قوت ظاہر ہوتی ہے۔

ان کے ہاں ادب محض احتجاج نہیں، یادداشت کی بازیابی ہے۔ جس قوم کی سیاسی طاقت چھن جائے، اس کے پاس اپنی کہانی بچانے کی طاقت باقی رہ سکتی ہے اور کہانی کبھی کبھی بندوق سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے، کیونکہ بندوق جسم کو نشانہ بناتی ہے اور کہانی آنے والی نسل کے تصور خود کو۔کنفانی کے ہاں جنگ اس لیے صرف موت نہیں، بے وطنی کی پیداوار ہے۔اور جب بے وطنی نسلوں تک پھیل جائے تو وہ آخرکار جغرافیہ چھوڑ کر زبان میں داخل ہوجاتی ہے۔ یہیں سے غسان کنفانی کا راستہ محمود درویش تک پہنچتا ہے۔ محمود درویش کے ہاں وطن پہلے زمین تھا، پھر یاد بن گیا اور آخرکار زبان۔ یہ شاید جدید فلسطینی شاعری کی سب سے بڑی جمالیاتی دریافت ہے کہ جب انسان سے اس کی سرزمین چھین لی جائے تو وہ زبان کے اندر ایک وطن تعمیر کرسکتا ہے۔

درویش کی شاعری میں جنگ ہمیشہ توپ کی آواز بن کر نہیں آتی۔ وہ کبھی زیتون کے درخت میں، کبھی گھر کی چابی میں، کبھی ماں کی یاد میں، کبھی کسی شہر کے نام میں، کبھی روٹی کی خوشبو میں اور کبھی ایک ایسے لفظ میں واپس آتی ہے جو شاعر کے لیے پورے وطن کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ ان کے ہاں فلسطین صرف ایک سرزمین نہیں بلکہ ایک وجودی سوال ہے۔

انسان وہی رہتا ہے یا بدل جاتا ہے جب اس کا وطن اس سے چھین لیا جائے؟اور شاید اسی لیے درویش کے ہاں ’’میں‘‘ صرف شاعر کا ذاتی ’’میں‘‘ نہیں رہتا۔ وہ ایک اجتماعی ’’میں‘‘ بن جاتا ہے۔ اس میں مہاجر بھی ہے، مقتول بھی، بچ جانے والا بھی، عاشق بھی، ماں بھی، شہر بھی اور وہ تاریخ بھی جو اپنے ملبے سے دوبارہ زبان تلاش کررہی ہے۔ Memory for Forgetfulness میں بیروت کے محاصرے کے دوران ایک شاعر کی شعوری و حسی دنیا جنگ، شہر، تاریخ اور ذاتی یادداشت کے درمیان حرکت کرتی ہے۔ یہاں جنگ کوئی دور کی خبر نہیں، وہ روزمرہ زندگی کے ذرات میں داخل ہوچکی ہے۔ وقت گھڑی سے نہیں، دھماکوں، انتظار، خوف، روٹی، سگریٹ، سمندر اور یادوں سے ناپا جاتا ہے۔

یہاں درویش کا اسلوب ہمیں ایک اہم بات سکھاتا ہے۔جنگ صرف انسانوں کو نہیں مارتی، وہ وقت کے معنی بھی بدل دیتی ہے۔امن میں ایک دن زندگی کا ایک دن ہوتا ہے۔ جنگ میں ایک دن ایک عمر ہوسکتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں درویش، کنفانی، ہیمنگ وے اور ٹالسٹائی ایک دوسرے سے دور ہوتے ہوئے بھی ایک ہی انسانی سوال کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ٹالسٹائی تاریخ کی وسعت میں انسان کو تلاش کرتے ہیں۔ہیمنگ وے خاموشی میں۔کنفانی گھر کی محرومی میں۔درویش زبان کے اندر۔چاروں کے ہاں جنگ الگ ہے، مگر انسان وہی ہے۔

اگر ٹالسٹائی جنگ کا نقشہ بناتے ہیں، ہیمنگ وے اس کا زخم دکھاتے ہیں، کنفانی اس کا کھویا ہوا گھر تلاش کرتے ہیں اور درویش اس کی بچی ہوئی زبان۔ٹالسٹائی کے ہاں جنگ اجتماعی ہے، ہیمنگ وے کے ہاں شخصی، کنفانی کے ہاں قومی، درویش کے ہاں تہذیبی اور وجودی۔ٹالسٹائی کا زمانہ وسیع ہے، ہیمنگ وے کا لمحہ گہرا، کنفانی کا ماضی زخمی اور درویش کا حافظہ زندہ۔ٹالسٹائی کے کردار تاریخ کے دھارے میں بہتے ہیں، ہیمنگ وے کے کردار تاریخ کے بیچ اپنی نجی سچائی بچاتے ہیں۔جنگ پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں، مگر سب جنگ کا ادب نہیں بنیں۔کیونکہ جنگ کو بیان کرنا آسان ہے، جنگ کا انسانی معنی دریافت کرنا مشکل۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ادب تاریخ سے آگے نکل جاتا ہے۔تاریخ کہتی ہے، یہ جنگ کب ہوئی۔ادب پوچھتا ہے، اس جنگ نے انسان کے ساتھ کیا کیا؟تاریخ بتاتی ہے: کون جیتا۔ادب پوچھتا ہے: کون بچا؟تاریخ گنتی ہے، کتنے مرے۔ادب پوچھتا ہے، کیا ان کی موت بے معنی تھی؟اور شاید سب سے اہم سوال۔کیا انسان جنگ کے بعد بھی وہی انسان رہتا ہے جو جنگ سے پہلے تھا؟ٹالسٹائی کا جواب ہمیں روح کی طرف لے جاتا ہے، ہیمنگ وے وقار کی طرف، کنفانی وطن اور مزاحمت کی طرف اور درویش حافظے اور زبان کی طرف۔مگر چاروں کے درمیان ایک خاموش اتفاق موجود ہے۔جنگ انسان کو عدد میں بدلتی ہے، ادب اسے دوبارہ انسان بناتا ہے۔ یہی شاید جنگ کے ادب کا سب سے بڑا اخلاقی فریضہ ہے۔کیونکہ جب توپ چلتی ہے تو ایک جسم گرتا ہے۔جب خبر آتی ہے تو ایک عدد بڑھتا ہے۔مگر جب ادیب لکھتا ہے تو ایک انسان دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔اور جب تک وہ دوبارہ پیدا ہوتا رہے، جنگ اپنے تمام ہتھیاروں کے باوجود انسانیت کی آخری فتح حاصل نہیں کرسکتی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }