کراچی:
محکمہ صحت ضلع عمرکوٹ میں اربوں روپے کے سرکاری فنڈز میں مبینہ غبن، فرضی فرموں کے ذریعے ادویات کی خریداریاں، امدادی ایمبولینس کے نجی استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر محمد علی نہڑی اور اکاؤنٹنٹ شجاع میمن کو تمام ریکارڈ سمیت کراچی طلب کر لیا ہے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دائرہ کار میں ادویات و طبی سامان کی غیر شفاف خریداری، من پسند اور مبینہ طور پر فرضی کمپنیوں کے ذریعے ٹھیکے اور غیر معیاری ادویات کی فراہمی کے الزامات شامل ہیں۔
اس سلسلے میں این آئی ٹی، ٹینڈر دستاویزات، تقابلی بیانات، اسٹاک رجسٹر، کمپنی انوائسز اور ادائیگی وائوچرز کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے، پوسٹنگ اور مالی بے ضابطگیوں کی جانچ تحقیقاتی ادارے نے اکائونٹنٹ اعجاز میمن کی ایک ہی ضلع میں16سالہ طویل تعیناتی، تعلیمی اسناد، تقرری کے احکامات اور سروس ہسٹری کی پڑتال شروع کردی ہے۔
اس کے علاوہ ڈی ایچ او اور اکائونٹنٹ دونوں افسران کے ٹرانسفر و پوسٹنگ ریکارڈ اور تنخواہوں کی تفصیلات بھی اینٹی کرپشن کے سپرد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اینٹی کرپشن نے اکاؤنٹنٹ اعجاز میمن کے مبینہ بنگلے، فلیٹ، لگژری گاڑی اور آمدن سے زائد دیگر قیمتی اثاثوں کی مالی چھان بین شروع کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عطیے میں ملنے والی ٹویوٹا ہائی ایس ایمبولینس (CQ-0938) کو ٹرانسپورٹ شٹل اور نجی امور کیلیے استعمال کرنے کے الزام پر گاڑی کی پی او ایل لاگ بک اور ایندھن کا ریکارڈ بھی مانگ لیا گیا ہے۔
سرکاری اور مالیاتی ریکارڈ شفاف تحقیقات کیلیے اینٹی کرپشن نے محکمہ صحت عمرکوٹ سے درجنوں اہم دستاویزات کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے جس میں سالانہ بجٹ، ہیڈ وائز اخراجات، کیش بک، لیجر، یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس، ادائیگی واؤچرز اور آڈیٹر جنرل سندھ کی بیرونی و اندرونی آڈٹ رپورٹس بمع آڈٹ پیراز، اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق تمام ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔