ٹرانس جینڈر کرکٹر انایا بنگر کو خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ دینے پر جنوبی افریقی کرکٹر برہم

9

جنوبی افریقا کی آل راؤنڈر میریزان کیپ نے ٹرانس جینڈر کرکٹر انایا بنگر  کو خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ دینے پر کرکٹ آسٹریلیا کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

میریزان کیپ نے انسٹاگرام اسٹوری پر خبر شیئر کرتے ہوئے فیصلے کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق سابق بھارتی کرکٹر و کوچ سنجے بنگر  کی بیٹی انایا بنگر  نے رواں برس مارچ میں جنس کی تصدیقی سرجری کرائی جس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے اسے اپنی ٹرانس جینڈر پالیسی کے تحت خواتین کرکٹ میں واپسی کا راستہ فراہم کیا ہے۔

فیصلے کے تحت انایا مارچ 2027 تک آسٹریلیا کی کسی بھی ریاست یا علاقے میں کمیونٹی کرکٹ کھیل سکتی ہیں۔ اس کے بعد مقررہ پالیسی کی شرائط، بشمول ٹیسٹوسٹیرون کی مقررہ حد، پوری کرنے کی صورت میں وہ ایلیٹ لیول کی خواتین کرکٹ کے لیے اہل ہوسکتی ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق خواتین کی ایلیٹ کیٹیگری میں کھیلنے کے لیے کھلاڑی کا سیرم ٹیسٹوسٹیرون کم از کم 12 ماہ تک مسلسل 10 نینومول فی لیٹر سے کم ہونا ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق انایا یہ شرط مارچ 2027 میں پوری کرلیں گی، تاہم اس کے بعد بھی خون کے ٹیسٹ اور دیگر پالیسی شرائط کی تکمیل ضروری ہوگی۔

واضح رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا کی ملکی پالیسی انایا کو خواتین کی ایلیٹ کرکٹ میں واپسی کا راستہ فراہم کرتی ہے، تاہم آئی سی سی کے موجودہ قواعد کے تحت مردانہ بلوغت سے گزرنے والی ٹرانس جینڈر خواتین کو بین الاقوامی خواتین کرکٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }