خلیجی آگ اور عالمی امن کا امتحان

12

سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر ہونے والے تازہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد کے زخمی ہونے اور متعدد توانائی تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات محض ایک عسکری واقعے کی خبر نہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر اس مقام تک پہنچ گیا ہے جہاں اس کے شعلے براہ راست سعودی شہری زندگی اور اقتصادی ڈھانچے کو چھو رہے ہیں۔

بعض توانائی مراکز میں کام متاثر ہوا، جس سے واضح ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسے مقامات کو خطرے میں ڈالنا بھی ہے جن کی اہمیت ملکی معیشت سے کہیں آگے عالمی توانائی کے نظام تک پھیلی ہوئی ہے۔

شہری آبادی کو نشانہ بنانے یا ایسی تنصیبات پر حملہ کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں جو لاکھوں لوگوں کی روزمرہ ضروریات سے وابستہ ہوں۔ جنگ میں بھی کچھ حدود ایسی ہوتی ہیں جنھیں عبور کرنے کے بعد تنازع سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ اجتماعی سزا کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ یمن کے عوام پہلے ہی برسوں کی جنگ، غربت، بے گھری اور انسانی بحران کا بوجھ اٹھا چکے ہیں، اگر اب سعودی شہری مراکز بھی مسلسل حملوں کی زد میں آتے ہیں اور ریاض جوابی کارروائیوں کے ذریعے یمن میں اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو ایک ایسا چکر دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے جس سے نکلنے میں خطے نے برسوں صرف کیے ہیں۔

 سعودی وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، اس لیے معمولی جملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جنگ کے ماحول میں مذاکرات کی گنجائش باقی رکھنا دراصل سیاسی بصیرت کا اظہار ہے۔ طاقت کے استعمال کا حق اپنی جگہ، مگر ہر فوجی جواب کے ساتھ یہ سوال بھی زندہ رہنا چاہیے کہ اس بحران کا سیاسی اختتام کہاں ہوگا، اگر کسی حملے کا جواب صرف ایک نئے حملے سے دیا جائے تو فریقین اپنے اپنے جواز پیدا کرتے رہیں گے اور امن ایک ایسے مستقبل کا نام بن جائے گا جس کی تاریخ مسلسل آگے بڑھتی رہے گی مگر وہ کبھی آئے گی نہیں۔

امریکا کی طرف سے حوثی حملوں کو ایران سے جوڑنا بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، اگر حوثیوں کی کارروائیوں کو علاقائی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جائے تو یمن کا محاذ ایران اور امریکا کی براہ راست کشمکش کا ایک توسیعی میدان بن جاتا ہے۔ دوسری طرف ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں لیکن کسی جارحیت کے مقابلے میں پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی سیاست کا پرانا المیہ دوبارہ سامنے آتا ہے۔ ہر فریق اپنے اقدام کو دفاع کہتا ہے اور مخالف کی مزاحمت کو جارحیت۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لفظ ’’دفاع‘‘ رفتہ رفتہ اتنا وسیع ہوجاتا ہے کہ اس میں جوابی حملے، پیشگی کارروائیاں اور دور دراز اہداف تک پہنچنے والے عسکری فیصلے سب شامل ہوجاتے ہیں۔

 اصل خطرہ یہ نہیں کہ ایک فریق سخت زبان استعمال کر رہا ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ سخت زبان کے بعد ایسے فیصلے آتے ہیں جنھیں واپس لینا مشکل ہوتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پھیلاؤ پہلے ہی تیل بردار جہازوں اور سمندری راستوں کو خطرے سے دوچار کر رہا ہے، اگر تجارتی جہازوں کو جنگی دباؤ کا ذریعہ بنایا گیا تو خلیج کا بحران عالمی تجارت کے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اسی لیے محض جغرافیائی مقام نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹ کا اثر ریاض، تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہتا، اس کی قیمت ایشیا کے کارخانوں، یورپ کی صنعتوں، افریقہ کی درآمدی معیشتوں اور جنوبی ایشیا کے عام صارف تک پہنچتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اسی خوف کا معاشی اظہار ہے۔ برینٹ خام تیل تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جب کہ امریکی خام تیل بھی نمایاں طور پر مہنگا ہوا۔ بازار ہمیشہ جنگ کے مکمل نتائج کا انتظار نہیں کرتا، وہ خطرے کی قیمت پہلے ہی لگا دیتا ہے، اگر سرمایہ کاروں کو خدشہ ہو کہ خلیج سے ترسیل متاثر ہوسکتی ہے تو قیمت بڑھنے لگتی ہے، چاہے عالمی سپلائی میں حقیقی کمی ابھی پوری طرح واقع نہ ہوئی ہو، یہی وجہ ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات بم گرنے سے پہلے شروع ہوجاتے ہیں۔

یہ پہلو پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک برادر ملک پر حملہ ہوا ہے یا ایک اہم مسلم ملک کی سلامتی خطرے میں ہے۔ پاکستان کی معیشت بھی خلیج کے امن سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمت میں اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، کرنسی پر دباؤ ڈالتا ہے، مہنگائی کو ہوا دیتا ہے، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ کرتا ہے اور بالآخر اس کا اثر گھر کے ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی روزگار کی صورتحال، ترسیلاتِ زر اور تجارتی روابط بھی ایک مستحکم علاقائی ماحول کے محتاج ہیں، اس لیے مشرقِ وسطیٰ کا امن پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کی ترجیح ہی نہیں، اقتصادی ضرورت بھی ہے۔

 اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور دفتر خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور قومی مفادات دونوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے حق کی حمایت کی ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر موقف اختیار کیا ہے، یہ توازن ضروری ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ پاکستان کو خطے میں جنگ کے دائرے کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان کے لیے شاید سب سے دانش مندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ محض ردعمل دینے والی ریاست نہ بنے بلکہ کشیدگی کم کرنے والے فریق کے طور پر اپنی جگہ بنائے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور تاریخی روابط، امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات اور مسلم دنیا میں اس کی سیاسی حیثیت اسے ایک منفرد سفارتی گنجائش فراہم کرتی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان کسی بڑے بحران کو اکیلے حل کرسکتا ہے، مگر رابطے کے راستے کھولنے، جنگ بندی کی حمایت کرنے اور فریقین کو سیاسی حل کی طرف متوجہ کرنے میں اس کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ یہاں سعودی عرب کے ردعمل کا سوال بھی حساس ہے۔

کسی ریاست کو اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے، مگر دفاع اور انتقام کے درمیان جو باریک لکیر ہے، وہ جنگ کے ہنگامے میں اکثر نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ ریاض کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی جوابی کارروائی حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو روکنے کے مقصد تک محدود رہتی ہے یا یمن کے وسیع تر سیاسی و انسانی بحران کو مزید بھڑکا دیتی ہے، اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو سعودی عرب کو صرف حوثیوں کا مقابلہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ ایک طویل اور مہنگے تنازع کے دوبارہ پھیلنے کے خطرے کا سامنا بھی ہوگا۔

 حوثیوں کے لیے بھی یہی سوال موجود ہے کہ کیا میزائل حملوں سے وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر مقصد سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا ہے تو شہری اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانا شاید وقتی عسکری اثر پیدا کرسکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں حوثیوں کے خلاف علاقائی اور عالمی مخالفت بڑھنے کا امکان بھی اتنا ہی موجود ہے۔ عسکری طاقت کسی گروہ کو مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن دے سکتی ہے، لیکن اگر اس طاقت کا استعمال سیاسی گنجائش ہی ختم کردے تو وہ کامیابی بالآخر ناکامی میں بدل سکتی ہے۔

 امریکی صدر کی طرف سے جنگ کے بعد تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی امید ظاہر کرنا بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے، اگر جنگ جلد ختم ہوجائے، سمندری راستے معمول پر آجائیں، پیداوار بحال ہو اور مارکیٹ میں خوف کم ہوجائے تو قیمتیں یقیناً نیچے آسکتی ہیں، لیکن دو ڈالر فی گیلن سے بھی کم پٹرول کی پیش گوئی کو اقتصادی حقیقت کے بجائے سیاسی دعوے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ توانائی کی عالمی منڈی کسی ایک صدر کے بیان سے نہیں چلتی، اسے جنگ، پیداوار، طلب، ذخائر، نقل و حمل، پابندیوں اور سرمایہ کاری کے متعدد عوامل بیک وقت تشکیل دیتے ہیں۔

 آج مشرقِ وسطیٰ میں اصل ضرورت مزید طاقت کے مظاہرے کی نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کی حدود متعین کرنے کی ہے۔ سعودی شہریوں کی حفاظت ہونی چاہیے، یمنی عوام کو ایک نئے انسانی بحران سے بچانا چاہیے، ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کے راستے کھلے رہنے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کو کسی فریق کی جنگی حکمت ِ عملی کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ وقت محض مذمتی بیانات جاری کرنے کا نہیں بلکہ قابلِ عمل سفارتی دباؤ پیدا کرنے کا ہے۔ موجودہ بحران کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہر فریق سمجھتا ہے کہ اگلا وار اسے بہتر پوزیشن دے گا۔ تاریخ اس خیال کی بارہا تردید کرچکی ہے۔

ایک میزائل دوسرے میزائل کو جنم دیتا ہے، ایک ناکہ بندی دوسری ناکہ بندی کو، اور ایک عسکری کامیابی کبھی کبھی ایسی سیاسی شکست کی بنیاد رکھ دیتی ہے جس کا حساب برسوں بعد سامنے آتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور ایسی غلطی کی ضرورت نہیں، اگر آج سفارت کاری کو آخری موقع سمجھ کر سنجیدگی سے استعمال نہ کیا گیا تو کل شاید مذاکرات کی میز موجود ہو، مگر اس کے گرد بیٹھنے والے فریق باقی نہ رہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں عقل سیاست کو طاقت ِ اسلحہ پر سبقت حاصل کرنی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }