حکومت نے عوام کیلئے ریلیف کا اعلان نہیں کیا تو لانگ مارچ کا اعلان کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

15

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دوسرے دور میں عوام کو ریلیف کا واضح اعلان نہیں کیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس اورگور نر ہاؤس میں حلقہ خواتین کے احتجاج کے خطاب کے دوران کہا کہ پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس و دیگر ٹیکسز کا تعلق عالمی یا مقامی مارکیٹ سے نہیں بلکہ حکومتی نا اہلی، شاہ خرچیوں اور معاشی پالیسیوں سے ہے اور 10ستمبر کو حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں عوام کو ریلیف کا واضح اعلان نہ کیا گیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو دی گئی تجاویز میں سب سے پہلی تجویز پالیسی ریٹ (شرح سود) کم کرنے کی ہے، ایک فیصد شرح سود کم کرنے سے قومی خزانے کو 594 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، حکومت نے ایک سال میں 1567 ارب روپے بھتہ لیوی وصول کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے پورے ملک میں 32 شہروں میں دھرنے جاری ہیں جن کا مقصد جماعتی یا ذاتی مفادات نہیں بلکہ صرف اور صرف عوامی مفاد عزیز ہے، ہم اپنے مؤقف اور عوام کے حق سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری اپوزیشن کی بھی جماعتوں سے اپیل ہے کہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جماعت اسلامی کی تحریک اور جدو جہد کا حصہ بنیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کریں گے اور سندھ اسمبلی میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف قرار داد کی منظوری پر ہمارے رکن اسمبلی محمد فاروق قابل مبارک باد ہیں، اب حکومت سندھ بھی عوامی مفاد اور ریلیف کے لیے مضبوط آرا کے ساتھ یہ قرار داد وفاق کو بھیجے اور پیپلز پارٹی بھی اپنا کردار ادا کرے اور اس حوالے سے ہم پیپلز پارٹی سے بھی رابطہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین نے بھی پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنوں میں بھر پور حصہ لیا ہے، 11 ستمبر کو گوجرانوالہ اور 12 ستمبر کو اسلام آباد میں خواتین کے جلسے ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن فارم47 والی حکمران جماعتیں قوم کو لڑوانے کی کوشش نہ کریں اور تعصب کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں، آئی پی پیز ایک پورا مافیا اور کارٹیل ہے، حالیہ خبروں کے مطابق انرجی کی کاسٹ کم ہے اور کیپسٹی پیمنٹ زیادہ ہے، گویا آئی پی پیز کو بغیر بجلی بنائے 00 17،1800 ارب روپے دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مڈل کلاس طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ملک میں 90 فیصد سے زائد لوگوں کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی ہے، سندھ میں کوئی اسپتال اس قابل نہیں ہے کہ جس کو مناسب ٹرثری کیئراسپتال  (tertiary care hospital)کہا جاسکے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میر رضا علی کیس سے پتا چلتا ہے کہ سندھ میں پولیس کا نظام کتنا گلا سڑا اور فرسودہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران سود سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے صفر شرح سود پر اپنی معیشت چلائی ہوئی ہے، ہماری تجویز ہے کہ اس کو بتدریج کم کیا جائے لیکن حکومت کہتی ہے کہ ہمارے یہاں اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے، صورت حال یہ ہے کہ صرف ایک فیصد شرح سود کے کم ہونے سے قومی خزانے کو 594 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، اگر پہلے مرحلے میں 3فیصد شرح سود کم کی جائے تو اتنے پیسے بچ جائیں گے جتنے حکومت ملک کے غریب طبقے سے لیوی کی مد میں وصول کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت قرضوں کی جو ادائیگی کر رہی ہے اس میں صرف سود ہی کے 8 ہزار ارب روپے شامل ہے، پاکستان میں ایک ایسا کارٹیل کام کر رہا ہے کہ جس میں بینکوں کے مالکان کا ایک مافیا بنا ہوا ہے، حکومت کہتی ہے کہ اگر ہم شرح سود کم کردیں گے تو مہنگائی آجائے گی، ہم کہتے ہیں کہ آپ کیش ریزرو ریشوکو 5فیصد سے بتدریج بڑھا کر20 فیصد کر دیں،اس سے بینکوں کے مالکان کے نفع میں گھاٹا ہوسکتا ہے لیکن قوم کا ضرور بھلا ہوجائے گااور قوم کا بھلا ہوگا تو معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ وہ ایف بی آر کی پرفارمنس کو چھپانے کے لیے اس کی کرپشن کو چھپا کر قوم پر بوجھ نہ ڈالے، ایف بی آر میں اس وقت 1300 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا جائے، الیکٹرکل وہیکل کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کو فروغ دیا جائے، موٹر ویز میں ان کے چارجر ز کے لائسنس دیے جائیں.

حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد 18 ادارے ایسے ہیں جو صوبوں میں ضم کردیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود وفاق میں ان کے ڈپارٹمنٹس موجود ہیں، ان کو ختم کیاجائے، سرکاری سطح پر گاڑیاں 1300سی سی تک محدود کی جائیں، چینی اور آٹا وغیرہ کی مافیاز کو ٹیکسوں میں چھوٹ نہ دی جائے، جم خانوں اور کلب کا آڈٹ کیا جائے، جہاں پر بیٹھ کر قوم کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں، ایلیٹ کلاس سے جان چھڑائی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }