چینی ایک ایسی میٹھی چیز ہے جس نے ہماری معاشی پالیسی میں کبھی مٹھاس پیدا نہیں کی۔ کبھی خبر آتی ہے کہ چینی کی کمی ہوگئی ہے اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافی قیمت کا سن کر عوام کی زبان میں کڑوی کسیلی قسم کا مزہ پیدا ہو جاتا ہے اور کبھی خبر آتی ہے کہ چینی بہت زیادہ پیدا ہو گئی ہے لہٰذا اسے فوری برآمد کے اجازت نامے جاری کیے جائیں اور وہی ملک جوکہ پہلے چینی مہنگے داموں درآمد کر رہا ہوتا ہے، اب سستے داموں بیچنے کے لیے بیرون ملک سودا طے کرنے کی کوشش کرتا ہے، پاکستان کی یہی کہانی ہے۔
گزشتہ برس ان خطرات کے پیش نظر کہ پیداوار میں کمی ہو چکی ہے لہٰذا چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور 2025-26 میں 3 لاکھ 9 ہزار ساڑھے 5 سو میٹرک ٹن چینی درآمد کر لی گئی۔ ظاہر ہے ملکی چینی کی نسبت مہنگی چینی درآمد کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ اب اس سال جولائی میں صرف 112 میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اب چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ برآمد کی ضرورت پڑ گئی۔ جب ان خبروں کے ساتھ ہی کہ چینی درآمد کی جائے گی قیمت اونچی سطح پر جا کر بھی ٹکتی نہیں اور اضافے کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے اور جب برآمد کی خبر آتی ہے تو پھر بھی قیمت کو پَر لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ چینی مافیاز کا کمال ہے کہ اکثر و بیشتر کبھی 10 روپے کبھی 20 روپے کبھی 30 روپے فی کلو کا اضافہ کر دیتی ہے، اگر صرف 10 روپے فی کلو کا اضافہ کر دیتی ہے تو 66 لاکھ میٹرک ٹن کی کھپت کے لحاظ سے 6 ارب 60 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ البتہ چینی کی کھپت کے اعداد و شمار کے بارے میں کچھ خدشات بھی ہیں۔ 66 لاکھ میٹرک ٹن سے کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح تو اچھی خاصی رقم صارفین کی جیبوں سے نکل جاتی ہے، اگر سرکار عالیہ آئی ایم ایف کے مشورے سے بذات خود یہ میٹھا کاروبار سنبھال لے تو قرض لینے کی حاجت کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔ سرکاری خزانے میں بڑی سے بڑی رقوم کی آمد کا سلسلہ جاری ہو جائے گا۔ بس حکومت فی کلو 5 یا 10 روپے کا اضافہ کر دے۔ اس کے اخراجات کے لیے رقوم کا بندوبست ہو جائے گا، ملکی بینکوں سے قرض لینے کی خفت سے بھی بچ جائیں گے۔
مالی سال 2025-26 میں 69 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات میں بھی چینی کی درآمد کا 17 کروڑ51 لاکھ 82 ہزار کی بھاری بھرکم رقم کا بھی حصہ ہے جس پر ناقدین اعتراض کرتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال 49 ارب 31 کروڑ20 لاکھ روپے کی چینی درآمد کر لی گئی۔ اس درآمدی چینی پر ٹیکس ڈیوٹیز کم کرنے کی آئی ایم ایف نے منظوری دی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پیداوار 80 لاکھ میٹرک ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جب کہ ملکی کھپت 66 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ بتائی جا رہی ہے۔ ریزرو میں چینی رکھنے کے بعد شوگر ملز والوں کا خیال ہے کہ کم از کم 6 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا اجازت نامہ فوری دیا جائے، لیکن اس معاملے میں حکومت نے احتیاط برتتے ہوئے ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی ہے جس کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کی جانے کی اطلاعات ہیں۔
ہم سستی فروخت کرنے کے بجائے ان ملکوں سے رابطہ کرکے نسبتاً بہتر قیمت وصول کر سکتے ہیں، جیسے بنگلا دیش نے پہلے بھی پاکستان سے چینی خریدا تھا اور کئی وسط ایشیائی ممالک بھی چینی درآمد کرتے رہتے ہیں، کیونکہ اس وقت صرف قیمت بڑھنے کے خدشے سے چینی کی برآمد کب تک روکے رکھیں گے، کیونکہ اضافی چینی ہم سنبھال نہیں سکتے۔ اس سے قبل جب پیداوار زیادہ ہوتی چینی کی قیمت میں معمولی کمی سے فوراً نجی گوداموں میں چینی کی طلب بڑھ جاتی ہے اور مافیاز بڑھ کر اضافی چینی کے لیے کھپت والی چینی کا بھی بڑا حصہ خرید کر ذخیرہ کر لیتے ہیں اور جیسے ہی ملک میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے وہ 20 یا 30 روپے فی کلو قیمت میں اضافہ کرکے 12 سے 15 ارب روپے کما کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا اس وقت حکومت کا یہ فیصلہ مناسب ہے کہ شوگر ملز کے مطالبے پر من و عن عمل کرنے کے بجائے، پہلے محدود تعداد میں برآمد کی جائے۔ مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے۔ مقامی قیمت اور ذخائر کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ کتنی پیداوار ہوئی اس کا درست اندازہ لگانا کیونکہ درست ترین اعداد و شمار کی موجودگی میں ہی بہتر فیصلے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح صورت حال کا جائزہ لیتے ہی فاضل مقدار کو مدنظر رکھ کر چینی برآمد کا اگلا فیصلہ کیا جائے، تاکہ شوگر ملز والے بھی کسی بحران کا شکار نہ ہوں اور یہ صورت حال بھی پیدا نہ ہو جیساکہ آج کل ہے کہ درآمد بھی کر لیا اب برآمد کی ضرورت پیش آ رہی ہے یا جیساکہ پہلے کبھی چینی، کبھی گندم کی صورت میں پیش آتی تھی کہ برآمد کر دیا اب قلت کے باعث درآمد کی ضرورت پیش آ گئی۔ اسی طرح چینی کی قیمت جب ایک دفعہ بڑھ جاتی ہے تو بہ مشکل اس کی قیمت میں کمی ہوتی ہے۔
اگر پیداوار کافی ہے اور پھر بھی صارف کوئی بھی شے چاہے وہ چینی کیوں نہ ہو مہنگی خرید رہا ہے تو اس کا مطلب مارکیٹ کے انتظام، ذخیرہ، مسابقت اور پالیسی کے درمیان کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے اور پھر اس سے گنے کا کاشتکار بھی متاثر ہوتا ہے۔ جب اسے گنے کی صحیح قیمت نہیں ملے گی تو اگلے برس وہ دوسری طرف جا سکتا ہے، پھر وہ معاشی چکر چلے گا پیداوار کم ملک میں طلب بڑھے گی، رسد گھٹے گی اور درآمد کی ضرورت پیش آئے گی، لہٰذا حکومت ہر بات ہر نکتے کو اچھی طرح چیک کرکے پھر معاشی فیصلے کرے تاکہ مارکیٹ کی صورت حال کو باآسانی کنٹرول کیا جا سکے اور مہنگائی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔