ابوظہبی اور دبئی میں “معرکہ حق” کی یاد میں تقریبات، پاک فوج کی قربانیوں اور قومی عزم کو خراج تحسین

1

ابوظہبی اور دبئی میں “معرکہ حق” کی یاد میں تقریبات، پاک فوج کی قربانیوں اور قومی عزم کو خراج تحسین

صدرِ مملکت، وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے خصوصی پیغامات حاضرین کو سنائے گئے

مارکہ حق کی پہلی برسی آج ابوظہبی میں سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب میں منائی گئی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد صدر، وزیراعظم، نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے پیغامات پڑھے گئے۔ آپریشن کے آغاز اور کامیاب تکمیل پر دستاویزی ویڈیوز کے ساتھ وزیر دفاع خواجہ آصف کا خصوصی ویڈیو پیغام بھی چلایا گیا۔
اپنے تبصروں میں، سفیر شفقت علی خان نے پاکستان کی دور اندیشی، ذمہ داری، اور اس تنازعے سے نمٹنے کی پیمائش پر روشنی ڈالی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس یادگار کو عاجزی اور شکر گزاری کے ساتھ منایا جائے۔ انہوں نے تمام چیلنجوں کے خلاف اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے مضبوط عزم کے ساتھ امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
ابوظہبی اور دبئی میں پاکستان کے سفارتی مشنز کے زیر اہتمام “معرکہ حق” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، قومی دفاع کے لیے قربانیوں اور دشمن کے خلاف کامیاب عسکری کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تقریبات میں اعلیٰ حکومتی قیادت کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے جبکہ دستاویزی فلموں اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے معرکے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
دبئی سے خیبر نامہ کے نمائندہ خصوصی طاہر منیر طاہر کے مطابق، “معرکہ حق” کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط بنایا بلکہ قومی یکجہتی کو بھی فروغ دیا۔ اس موقع پر سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی میں الگ الگ تقریبات کا انعقاد کیا گیا
بوظہبی میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان، سفارت خانے کے افسران اور عملے نے شرکت کی، جبکہ دبئی میں قونصل جنرل حسین محمد، قونصلیٹ حکام اور دیگر اسٹاف نے تقریب میں شرکت کی۔ دونوں تقریبات میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے خصوصی پیغامات حاضرین کو سنائے
قریبات کے دوران آپریشن کے آغاز اور کامیاب تکمیل پر مبنی خصوصی دستاویزی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا خصوصی ویڈیو پیغام بھی نشر کیا گیا، جس میں پاک فوج کی جرات، حکمت عملی اور قربانیوں کو سراہا گیا۔
اپنے خطاب میں سفیر پاکستان شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازعے سے دانشمندی، ذمہ داری اور تحمل کے ساتھ نمٹا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور قربانی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، جنہیں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کو عاجزی، اتحاد اور شکرگزاری کے جذبے کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ قومی اتحاد کے ذریعے کیا جائے گا۔
دوسری جانب دبئی قونصلیٹ میں منعقدہ تقریب میں مقررین نے “معرکہ حق” کو قومی وقار، دفاعی استحکام اور عوامی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ تقریب میں دکھائی جانے والی خصوصی دستاویزی فلم میں اس معرکے کے مختلف پہلوؤں اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نمایاں کیا گیا۔
قونصل جنرل حسین محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ “معرکہ حق” قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے ذمہ دارانہ اور متوازن طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے پاک فوج کی قربانیوں اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع پوری قوم کے اتحاد، اعتماد اور حب الوطنی کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف قومی بیانیے کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے اندر قومی یکجہتی اور دفاعی اداروں سے وابستگی کے جذبے کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ ان تقریبات سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، قومی خودمختاری اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ “معرکہ حق” کی یاد میں ہونے والی یہ تقریبات مستقبل میں قومی تاریخ، عسکری خدمات اور عوامی شعور کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کو مختلف جغرافیائی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }