بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ – ایکسپریس اردو

11

دنیا کے مختلف خطوں کے ممالک اپنے اپنے مفادات اور علاقائی تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے نہ صرف یہ کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ اور تعلقات کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ بیرونی جارحیت سے بچنے اور اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی تعاون اور معاہدے کرتے ہیں بعینہ بعض ممالک ایسے دفاعی اتحاد بھی تشکیل دیتے ہیں جو مشکل وقت میں بالخصوص کسی دوسرے ملک سے کشیدگی اور جنگی صورت حال میں یکجان ہو کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔

 دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سوویت یونین ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر ابھرا تھا۔ سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔ سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی سربراہی میں 11 ممالک نے ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا جسے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا نام دیا گیا۔ ابتدا میں اس کے رکن ممالک میں امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیم، ڈنمارک، نیدرلینڈ، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ شامل تھے۔

1952 میں یونان اور ترکی بھی نیٹو کا حصہ بن گئے اور 1955 میں مغربی جرمنی اتحاد میں شامل ہوا۔ جون 2017 میں مونیٹیگرو نیٹو کا حصہ بننے والا آخری ملک تھا۔ نیٹو اتحاد کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ نیٹو کے رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ان سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اور یہ کہ تمام رکن ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو کا اصل مقصد تو فوت ہو گیا یعنی روس کمیونزم کا مقابلہ لیکن نیٹو ابھی قائم ہے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق اب نیٹو کا کردار بدل کر ایک مداخلت کار تنظیم کی شکل میں ڈھل گیا ہے۔

امریکی سرپرستی میں نیٹو نے بوسنیا، سربیا اور کوسوو میں فوجی مہم جوئی کی۔ بعدازاں 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد نیٹو اتحاد نے افغانستان میں مداخلت کی۔ تاہم حالیہ امریکا ایران جنگ کے دوران نیٹو ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی اپیل کے باوجود کھل کر امریکا کا ساتھ نہیں دیا جس پر امریکی صدر نے خاصی برہمی اور ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے نیٹو کو ’’کاغذی شیر‘‘ اور اتحادی ممالک کو ’’بزدل‘‘ کا طعنہ بھی دیا کہ نیٹو نے ایران کے خلاف ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا کی فوجی مدد نہیں کی۔ تاہم مکہ معاہدے پر صدر ٹرمپ نے حیرت انگیز طور پر خوشی و اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کو مبارک باد دی کہ بالآخر مشرق وسطیٰ متحد ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے مکہ دفاعی معاہدے کی تعریف کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی جرأت مندانہ قیادت کو سراہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

 مکہ دفاعی معاہدے پر عالمی ذرائع ابلاغ میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ فرانسیسی میڈیا نے پاکستان کو نئے ٹریٹ گیم میں اہم طاقت قرار دیتے ہوئے عسکری طاقت کی عالمی سیاست میں نئی بساط بچھانے کی شروعات قرار دیا ہے جو اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی و عسکری میدان کا اہم فریق بنتا جا رہا ہے۔

یورپی دفاعی ماہرین مکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کی زیرک سفارتی سرگرمی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے مستقبل میں طاقت کے توازن کو بدلتا ہوا دیکھ رہے ہیں جس کا اصل کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے کہ جس طرح انھوں نے ایک ماہر سفارت کار کی طرح بیک وقت امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ سب سے بڑھ کر ان کی شبانہ روز محنت اور سفارتی محاذ پر رابطوں کے ذریعے امریکا ایران تنازع اور کشیدگی کو کم کرانے میں جو مرکزی کردار ادا کیا اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ایک اہم پہلو خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں پر شدید تحفظات ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ درحقیقت امریکا کے لیے یہ پیغام ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ریاستیں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو خود اپنے لیے غیر محفوظ تصور کرنے لگی ہیں جیساکہ حالیہ امریکا ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی اڈے ان کے تحفظ کا کوئی سامان نہ کر سکے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکا پر انحصار ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایسی حقیقت ہے جس میں جلد دیگر خلیجی و دوسرے ممالک بھی شامل ہوتے جائیں گے اس پس منظر میں مکہ معاہدے کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }