چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ہائپرسونک ہتھیار تیار کرلیے

8

بیجنگ: چین نے ایسے جدید ہائپرسونک ہتھیار تیار کرلیے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر دور موجود اہم فوجی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز کے ساتھ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی صلاحیت شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی فوج نے ایسے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز تیار کیے ہیں جو طویل فاصلے پر موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکرز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے طیارے جدید فضائی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے لڑاکا طیاروں کو معلومات، رابطے اور فضائی ایندھن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کسی جنگ میں ایسے طیاروں کو دور سے نشانہ بنایا جائے تو اس سے دشمن کی فضائی کارروائیوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی صلاحیت کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

بلومبرگ کو معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین نے بعض ہائپرسونک کروز میزائلوں میں فضا سے فضا میں حملہ کرنے کی صلاحیت بھی شامل کی ہے۔ بعض دیگر اقسام کے میزائلوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پیدا کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

چین کی اس مبینہ پیشرفت کو امریکا کے لیے خاص طور پر اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین کے DF-17 میزائل سے داغا جانے والا ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل تقریباً 2,414 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے۔ یہ فاصلہ بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام تک کے فاصلے کے قریب ہے۔ گوام امریکا کا ایک اہم فوجی مرکز ہے۔

چین کے DF-27 میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 8 ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس طویل فاصلے کی وجہ سے اس نوعیت کے ہتھیار بحرالکاہل کے بڑے حصے میں موجود اہم اہداف کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز عام بیلسٹک وار ہیڈز سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تیز رفتاری سے فضا میں سفر کرتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پیش گوئی اور انہیں راستے میں روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق چین کے پاس اس وقت ایسی صلاحیتوں کے امتزاج کے حوالے سے نمایاں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، جس میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار ایک ہی نظام کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں میزائلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اندازوں کے مطابق 2024 تک چین کے پاس کم از کم 3,150 بیلسٹک میزائل اور تقریباً 300 زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل موجود تھے۔

چین کی میزائل صلاحیت میں اضافے کے ساتھ امریکا بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ بڑھا رہا ہے۔ امریکی بحریہ نے حال ہی میں AIM-424 MALICE نامی طویل فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی آزمائش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق MALICE کا وزن تقریباً 1,500 پاؤنڈ ہے اور اس کی رینج 463 کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ امریکی دفاعی منصوبہ ساز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے ہتھیاروں کی تیاری پر بھی کام کررہے ہیں جو مستقبل میں ایک ہزار میل تک موجود اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔

دفاعی ماہرین کے لیے چین اور امریکا کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی دوڑ خاصی اہم ہے، کیونکہ جدید جنگ میں صرف لڑاکا طیاروں کی تعداد ہی نہیں بلکہ دشمن کے کمانڈ، نگرانی، مواصلات اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کو محفوظ فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن ہوسکتی ہے۔

تاہم چین کے نئے ہائپرسونک نظام سے متعلق بعض تفصیلات خفیہ ہیں اور دستیاب معلومات میں ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ اس کے باوجود یہ پیشرفت امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی مقابلے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }