ماہِ ستمبر : حکومت کے لیے پُر آزمائش؟

10

لاریب پاکستان اور شہباز حکومت نے، حالیہ ایام میں، مثالی عالمی سفارتی کامیابیاں سمیٹی ہیں ۔ مثال کے طور پر:(1)ستمبر2026 طلوع ہوتے ہی عالمی ثالثی عدالت نے ، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے، فیصلہ بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں سنایا ہے (2)استنبول میں ہونے والے سہ فریقی (پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیے) اجلاس میں ، مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے ، پاکستان کو تین برس کے لیے پہلا سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا ہے (3)بشکیک ( کرغستان) میں ہونے والے سالانہ عالمی اجلاس میں پاکستان کو پہلی بار’’ شنگھائی تعاون تنظیم ‘‘کا سربراہ بنایا گیا ہے ۔ بِلاشبہ یہ ایسی سفارتی کامیابیاں ہیں جن پر ہم سب پاکستانی ، بحیثیتِ قوم، فخر کر سکتے ہیں ۔

اِن سفارتی کامیابیوں سے ، عالمی سطح پر، پاکستان کے احترام میں اضافہ بھی ہُوا ہے اور اِس کی عالمی اعتباریت کا گراف بھی بلند ہُوا ہے ۔ مگر عوام جب ، اِس ضمن میں ، یہ استفسار کرتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کی مذکورہ عالمی سفارتی کامیابیوں سے ایک عام پاکستانی کی زندگی پر کیا ، کہاں اور کونسے مثبت اثرات مرتّب ہُوئے ہیں تو اِن سوالات کا کوئی ایک بھی تشفی آمیز جواب ہمارے حکمرانوں کے پاس نہیں ہے ۔

یہ سفارتی و خارجی کامیابیاں اپنی جگہ اہم مگر داخلی محاذ پر ہمارے حکمرانوں کو کئی سنگین مسائل کا سامنا بھی ہے ۔ اگر حکمران داخلی محاذ پر مستحکم اور مضبوط ہوں تو خارجی محاذ پر کوئی اُن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔ مگر واقعی ہمارے حکمران داخلہ محاذ پر مطلوبہ اسلوب میں مستحکم اور مضبوط ہیں؟ اِس سوال کا جواب ( من آنم کہ من دانم کے مصداق) عوام بھی جانتے ہیں اور خود حکمران بھی ۔رواں ستمبر ہمارے حکمرانوں کے اعصاب کی آزمائش لیے طلوع ہُوا ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے اہلِ حَکم اور فیصلہ کنندگان قوتیں اِن سے کیسے نمٹتی ہیں؟مثال کے طور پر رواں ستمبر میں UNGAکی سالانہ عالمی بیٹھک ! یہ بیٹھک یا اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقد ہوتا ہے ۔ دُنیا کے کئی سربراہانِ مملکت ، وزرائے اعظم ، وزرائے خارجہ اور اہم شخصیات اِس میں جوق دَر جوق شریک ہوتی ہیں۔ نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر اپنے اپنے ملک اور عالمی مسائل پر کھل کر بات چیت کرتے ہیں ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ذکر کردہ اِن مسائل کے شافی حل کی طرف شاذ ہی کوئی قدم اُٹھایا جاتا ہے۔ گویاUNGAکی یہ سالانہ بیٹھک محض نشستند، گفتند و برخاستند ہی کا نام رہ گئی ہے ۔

اِس لایعنی ’’اُٹھک بیٹھک‘‘ کے باوصف عالمی رہنماUNGAمیں شریک ہونا بڑا اعزاز سمجھتے ہیں ۔ سبھی میں سے اگر کسی کی ملاقات امریکی صدر سے ہو جائے تو اپنے اپنے ملک کے میڈیا میں ’’کامیابی‘‘ میں زمین آسمان ایک کر دیئے جاتے ہیں ۔ UNGAکا باقاعدہ افتتاح ستمبر2026 کے پہلے ہفتے کیا جا چکا ہے۔ اعلان آ چکا ہے کہ وزیر اعظم، جناب شہباز شریف،20ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے اور25ستمبر کو UNGAسے خطاب کریں گے ۔ مگر اِس بار کا UNGAاجلاس آسان نہیں ہوگا ۔

غزہ میں صہیونی اسرائیل ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت ، یوکرین میں رُوس اور ایران میں امریکہ و اسرائیل نے ظلم و جارحیت کی جو نئی اور شرمناک مثالیں رقم کی ہیں، اِن کی موجودگی میں اِس تازہ بیٹھک ( جس کا عروج ستمبر کے آخری ہفتے ہوں گے) کا انعقاد ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے ۔ یہ پاکستانی حکمرانوں کے سفارتی اعصاب کی آزمائش بھی ہوگا ۔

مگر ہمارے حکمرانوں کے اعصاب پر ایک تازہ کانفرنس کا مبینہ بوجھ لدا ہے ۔ اور یہ کانفرنس BRICS  کی کانفرنس ہے جس کے ارکان برازیل ، رُوس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ ہیں ۔ 12ستمبر2026سے BRICS کا سالانہ دو روزہ سربراہی اجلاس نئی دہلی (بھارت) میں ہونے جارہا ہے ۔ اِس بار اِس کی سربراہی بھی بھارت کے پاس ہے اور میزبانی بھی ۔ بھارت اِس پر خاصا اِترا رہا ہے کہ دُنیا کے پانچ بڑے اور طاقتور ممالک کے سربراہ اُس کی راجدھانی میں اُتر رہے ہیں۔ پاکستان کو عالمی سفارتی میدانوں میں حالیہ ایام میں جو زبردست کامیابیاں ملی ہیں، بھارتی عوام، انڈین اسٹیبلشمنٹ، بھارتی میڈیا اور مودی حکومت اِن کامیابیوں کے پس منظر میں خود کو خاصا نکّو ، نکما اور پچھلگ محسوس کررہے تھے ۔

اب بھارتی دارالحکومت میں منعقدہ BRICSکے سالانہ اجلاس سے بھارتی اَنا کی شائد کچھ تشفی اور تسلی ہو سکے ۔ قیافے ہیں کہ ایران و امریکہ جنگ کے کارن عالمی تجارت اور ایران کے کئی فیصلوں کے حوالے سے ڈالر کو جو ضعف پہنچا ہے، اِس اساس پر BRICSکا تازہ اجلاس کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوگا۔کہا جارہا ہے کہ جس طرح SCOکے تازہ سربراہی اجلاس(بشکیک) میں مودی کو مبینہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اِسی طرح کی عالمی تنہائی کا سامنا اُنہیںBRICSکے دہلی اجلاس میں بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔آسٹریلیا کے معروف تھنک ٹینک Iowy Instituteکا کہنا ہے :’’ BRICSکے تازہ اجلاس میں بھارت و چین مل کر کام کرنے کا پھر عہد کریں گے، مگر چین کبھی بھارت پر اعتبار نہیں کرے گا۔‘‘ پاکستانی حکمرانوں کو ، بہرحال،عقابی آنکھ سے یہ جائزہ لیتے رہنا ہے کہ نئی دہلی کے اِس عالمی اجلاس میں کوئی ایسا فیصلہ تو نہیں ہو رہا جس سے پاکستان کو کوئی گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو ؟

رواںستمبر کے آخری دو ہفتے ہمارے مرکزی حکمرانوں کے لیے خاص اہمیت اور آزمائش کے حامل ہو سکتے ہیں ۔ یہ نام نہاد آزمائش ’’پاکستان تحریکِ انصاف‘‘کی جانب سے پیدا کیے جانے کے خدشات ہیں ۔ 16ستمبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں حکومت کے خلاف دائر کردہ مبینہ توہینِ عدالت کی شنوائی بھی ہونی ہے ۔ پی ٹی آئی اپنی اِس درخواست کی دوبار جلد شنوائی کی درخواست کر چکی ہے، مگر مسترد کر دی گئی ۔یہ شنوائی ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جب یکم ستمبر2026 کو اسلام آباد ہائیکورٹ بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ ( بشریٰ بی بی) کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے ، اہلِ خانہ سے ملاقاتیں کروانے اور بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کی ہدائت کر چکی ہے ۔ جب پی ٹی آئی کے بیرسٹر ، علی ظفر، نے ’’ایکسپریس‘‘ کے RUNDOWNپروگرام میں کہا تھا:’’عدالتوں سے پی ٹی آئی کے لیے انصاف پر مبنی احکامات ملنا شروع ہو گئے ہیں ۔‘‘

 گویا (پی ٹی آئی کے لیے ) ریلیف کی چند ایک کھڑکیاں کھل رہی ہیں ۔ لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے ستمبر کے آخری ہفتے حکومت کے خلاف جو’’ بڑا‘‘ احتجاجی جلوس اسلام آباد لانے کی بات ہو رہی ہے ، اِس نے کشیدگی کو جنم دے رکھا ہے ۔ یہ کشیدگی یکطرفہ نہیں ہے ۔ کشیدگی پیدا کرنے والے خود بھی پریشان ہیں ۔پی ٹی آئی نے اعلان کررکھا ہے کہ ’’ہم40لاکھ کا احتجاجی جمِ غفیر لے کر اسلام آباد آئیں گے۔‘‘تاکہ اپنے زندانی قائد کی رہائی کی کوئی سبیل پیدا کی جا سکے ۔ مگر کیا ایسی یلغار کرکے کبھی کوئی رہائی عمل میں آ سکتی ہے؟ ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے میں پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جنید اکبر، شفیع جان وغیرہ پیش پیش ہیں ۔ وزیر اعلیٰKPK سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے: ’’27ستمبر کو کراچی تا مکران اور خیبر تا لاہور( بانی کی رہائی کے لیے) عوام سڑکوں پر ہوں گے ‘‘۔ سہیل آفریدی نے دَورئہ سندھ بھی مکمل کر لیا ہے۔ مگر پی ٹی آئی کے چیئرمین، بیرسٹر علی خان گوہر، حسبِ عادت پُر امن بیانات دے رہے ہیں ۔ مثلاً: اُنھوں نے کہا: ’’ہم27ستمبر کو اسلام آباد فتح کرنے آ رہے ہیں نہ اڈیالہ جیل کا دروازہ توڑنے ۔‘‘وہ تو حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں ۔

اگر مذاکرات ہو جاتے ہیں تو 27ستمبر کے حوالے سے حکومت کے اعصاب پر جو مبینہ بوجھ پڑا ہے، وہ بھی قدرے اُتر جائے گا۔ایسے حالات میں صدر پی ٹی آئیKPK (جنید اکبر) کی پی ٹی آئی کے سابق گورنرKPK (شاہ فرمان) بارے جو مبینہ عجب فون کال لیک ہُوئی ہے ، اس نے بھی پی ٹی آئی کو باطنی طور پر شدید متاثر کیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ’’جنگ‘‘ ہونے سے قبل ہی صلح ہو جائے تو اِس سے بڑی’’فتح‘‘ اور کیا ہو سکتی ہے؟ ہم لکھنے والے تو امن اور محبت ہی بانٹنے کا کہہ ، لکھ سکتے ہیں ۔ جگر مراد آبادی نے کہا تھا: اُن کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں/ میرا پیغامِ محبت ہے جہاں تک پہنچے !

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }