FactCheck Viral video of Houthi drone in Makkah Al-Mukarramah The truth revealed

9

سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں سعودی عرب کی فضائی دفاعی نظام کو مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کو تباہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو 16 ستمبر کو ایکس سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کردیا۔ بعض پوسٹس میں اسے مکہ مکرمہ پر حوثیوں کی جانب سے حملے کی کوشش قرار دیا گیا۔ ان میں سے ایک پوسٹ کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ متعدد دیگر اکاؤنٹس نے بھی یہی ویڈیو اسی دعوے کے ساتھ شیئر کی۔

غلط دعوے کے پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ سعودی حکام نے 15 ستمبر کو واقعی ایک حوثی ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں روکنے کی اطلاع دی تھی۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔ سعودی حکام نے مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو حساس معاملہ قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا کسی بھی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

فیکٹ چیک کے دوران وائرل ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے کی ورڈ سرچ اور ریورس امیج سرچ کا استعمال کیا گیا۔ ریورس سرچ سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہی ویڈیو ستمبر 2025 میں مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی تھی۔

ستمبر 2025 میں اسلام چینل نے یہ فوٹیج فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے قریب ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دینے اور آسمان پر میزائل نما شے دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم اس وقت سعودی حکام کی جانب سے واقعے کی باضابطہ تصدیق یا وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

اسی طرح مسلم نیوز نے بھی ستمبر 2025 میں ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی تھی۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے مسجد نبوی ﷺ کے قریب پرواز کرنے والے میزائل کو روک لیا، تاہم اس حوالے سے بھی سعودی حکام کی کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں تھی۔

ایک غیر سرکاری میڈیا پلیٹ فارم ’انسائیڈ دی حرمین‘ نے بھی ستمبر 2025 میں ایک پوسٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ مدینہ منورہ میں ایک غیر مجاز ڈرون کو صبح تقریباً 5 بج کر 40 منٹ پر روک کر مار گرایا گیا تھا۔

موجودہ واقعے میں اصل صورتحال کیا تھی؟

تازہ واقعے سے متعلق معتبر میڈیا رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے حوثی ڈرون کو مکہ مکرمہ کے **جنوب میں** روکا، یعنی ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔ اس لیے وائرل ویڈیو کو موجودہ واقعے سے جوڑنا درست نہیں۔

سعودی حکام کے مطابق یہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری مبینہ کوشش تھی۔ پہلی بار 2017 میں مکہ مکرمہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔ تاہم موجودہ واقعے میں حوثی ترجمان نے مکہ مکرمہ یا دیگر اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

یہ دعویٰ درست نہیں کہ وائرل ویڈیو میں سعودی فضائی دفاع کو مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کو تباہ کرتے دکھایا گیا ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق وائرل ویڈیو پرانی ہے اور ستمبر 2025 میں مدینہ منورہ کے حوالے سے سامنے آئی تھی۔ اسے ستمبر 2026 میں مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون کی کارروائی سے جوڑ کر دوبارہ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔

اصل واقعے میں سعودی حکام کے مطابق حوثی ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں، مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }